گل قند کےفوائد

رنگ اور پنکھڑیوں کی تعداد سج دھج کے اعتبار سے شاید ہی کوئی اور پھول گلاب کا مقابلہ کر سکے۔ قدرت نے اس کی لطیف خوشبو تک میں شفائی خصوصیت رکھی ہے اس کا رنگ صرف گہرا سُرخ نہیں ہوتا بلکہ بہاری پُھولوں کے رنگ سے ہی گلابی رنگ دنیا بھر میں مشہور ہوا ہے۔گل قند فارسی زبان کا لفظ ہے جس میں گل کے معنی پھول اور قند جس کا عربی میں مطلب میٹھا ہے۔ پہلے زمانے میں اسے میٹھے پان میں مٹھاس اور خوشبو کے لئے شامل کیا جا تا تھا،مگر اب تحقیق کے نتیجے میں اس کے حیرت انگیز فوائد سامنے آئے ہیں۔ گلاب کی پتیوں میں وٹامن سی،بی،کے، کیروٹین،کیلشیم،میگنیشییم،کاپراوراینٹی آکسیڈینٹ کی کثیر تعداد موجود ہوتی ہے،جبکہ گلقند میں کاربو ہائیڈریٹ،چینی،فائبر اور پانی کی وافر مقدار پائی جاتی ہے، اسی بنا پر گلقند کو انتہائی صحت بخش غذا کے طور پر لیا جاتاہے۔اس کی تاثیر ٹھنڈی ہو تی ہے اور اس کامیٹھا ذائقہ انسان کے مزاج کو بہتر کر دیتا ہے اسے کھاتے ہی ایک سکون کا احساس ہوتا ہے۔ یہ ایک روایتی ماؤتھ فریشنر ہے اسے کھا نے سے منہ میں ٹھنڈک اور خوشبو کا احساس کافی دیر تک رہتا ہے۔
تاثیر میں ٹھندا ہو نے کی بناپر یہ گرمی سے متعلق تمام مسائل جیسے تھکاوٹ،سستی،خارش اور درد کو دور کرنے کی بہترین صلاحیت رکھتا ہے۔یہ تلووں اور ہتھیلیوں میں جلن کے احساس کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ ایک بہترین اینٹی آکسیٖڈینٹ ہے۔
گلاب کی پتیوں سے بننے والی گل قند کے استعمال سے صحت پر بے شمار فوائد مرتب ہوتے ہیں- گلقند کو اگر باقاعدگی کے ساتھ متوازن مقدار میں استعمال کیا جائے تو مندرجہ ذیل فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
جسم کو ٹھنڈا رکھنے کا قدرتی ذریعہ
گلقند میں قدرتی طور پر ایسی خصوصیات پائی جاتی ہیں جو شدید گرمی کے موسم میں جسم کو ٹھنڈا رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ موسمِ گرما یا ہیٹ ویو کی وجہ سے لاحق ہونے والے تھکاوٹ، خارش، اور درد جیسے مسائل کو ختم کرنے کے لیے بھی گل قند کا استعمال مفید ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ گل قند کے استعمال سے ہاتھوں اور پاؤں کی جلن کا بھی خاتمہ ہوتا ہے۔
شدید گرمی کے موسم میں باہر نکلنے کی وجہ سے بعض اوقات ڈی ہائڈریشن کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس مسئلے سے بچنے کے لیے بھی گلقند مفید ثابت ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ گل قند کو باقاعدگی کے ساتھ استعمال کرنے سے سورج کی شعاؤں سے جِلد کو پہنچنے والے نقصان میں بھی کمی آتی ہے۔کچھ لوگوں اور خاص طور پر بچوں کو گرمی کے موسم میں ناک سے خون بہنے (نوز بلیڈنگ) کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ گلقند اس مسئلے کا بھی ایک قدرتی علاج ہے۔ اس سے چھٹکارا پانے کے لیے اپنے بچے کو ہر روز ایک چمچ گلقند کھلائیں۔
قبض کی علامات سے چھٹکارا
گلقند کو باقاعدگی کے ساتھ استعمال کرنے سے بڑی آنت کی شوگر میں اضافہ ہوتا ہے جس کی وجہ سے قبض کی علامات میں کمی آتی ہے، خاص طور پر حاملہ خواتین کو قبض کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ان کے لیے بھی یہ مفید ثابت ہو سکتی ہے۔قبض سے چھٹکارا پانے کے لیے گل قند کا آدھا چمچ ایک گلاس دودھ میں شامل کر کے سونے سے پہلے استعمال کرنے سے اس مسئلے سے آسانی کے ساتھ نجات حاصل کی جا سکتی ہے۔اس کے ساتھ ساتھ معدے کی تیزابیت اور سینے کی جلن کو کم کرنے کے لیے بھی یہ مفید ہے۔ حکماء کے مطابق کھانے کے دوران آدھا چمچ گل قند استعمال کرنے سے تیزابیت اور سینے کی جلن میں کمی آتی ہے۔ اس کے علاوہ بواسیر کی نارمل علامات کے لیے بھی مفید ہے، تاہم یہ بواسیر کی شدید علامات کے لیے بہترین علاج ثابت نہیں ہو گی۔
جِلد کی صحت میں بہتری
گل قند میں اینٹی آکسیڈنٹس وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں جو جسم کو ڈی ٹاکسی فائی کرنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ اس کو باقاعدگی کے ساتھ استعمال کرنے سے جِلد کی صحت اور چمک میں اضافہ ہوتا ہے۔ گل قند جِلد کو دھول اور ماحولیاتی آلودگی سے بھی بچاتی ہے۔جسم کے بڑھے ہوئے درجہ حرارت کی وجہ سے ایکنی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور جِلد پر کیل مہاسے بھی نمودار ہو سکتے ہیں۔ گل قند جسم کے درجہ حرارت میں کمی لاتی ہے جس کی وجہ سے جِلد کے مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔
منہ کے چھالوں کا قدرتی علاج
شدید گرمی کی وجہ سے جسم کے درجہ حرارت میں اضافہ ہونے سے منہ کے چھالوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ گل قند کے استعمال سے منہ کے چھالوں کا مؤثر علاج کیا جا سکتا ہے۔ گل قند جسم کے درجہ حرارت کو معتدل کرتی ہے اور منہ کے چھالوں کی علامات میں کمی لاتی ہے۔
حیض کے مسائل سے چھٹکارا
کچھ طبی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ گلقند کے استعمال سے حیض کے دوران بہنے والے زیادہ خون میں کمی آتی ہے، سفید رطوبت سے بھی چھٹکارا ملتا ہے، اور حیض کے دوسرے مسائل سے بھی نجات ملتی ہے۔
گل قند اعضائے مخصوصہ کے پٹھوں کو پر سکون کرتی ہے جس کی وجہ سے حیض سے جڑے مسائل ختم ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔
اینٹی مائیکروبیل خصوصیات کی حامل
گلاب کی پتیوں میں اینٹی مائیکروبیل خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ گلاب کی پتیاں بیکٹیریا کی افزائش کو روکتی ہیں۔ اس لیے گل قند کے استعمال سے جسم میں موجود نقصان دہ بیکٹیریا کی افزائش نہیں ہوتی اور انسان بہت سے بیماریوں سے محفوظ رہتا ہے۔
ذہنی تناؤ میں کمی
گل قند کو باقاعدگی کے ساتھ استعمال کرنے سے نیند نہ آنے کے مسائل سے چھٹکارا پانے میں مدد ملتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس میں خوشی کو بڑھانے والے ہارمونز بھی پائے جاتے ہیں جس کی وجہ سے ذہنی تناؤ کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔ اگر آپ ہر روز دودھ کے ساتھ گل قند کو استعمال کریں تو آپ کے ذہنی تناؤ میں کمی آئے گی اور آپ کو تھکاوٹ کا بھی سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔
قوتِ مدافعت میں اضافہ
کورونا جیسی خطرناک بیماریاں ان افراد کو شکار بناتی ہیں جن کا مدافعتی نظام کمزور ہوتا ہے۔ مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے گل قند کو باقاعدگی کے ساتھ استعمال کیا جا سکتا ہے۔ گلقند کو اگر شہد کے ساتھ ملا کر استعمال کیا جائے تو جسم میں گلوکوز کی کمی نہیں ہوتی۔
منہ کی بو کا خاتمہ
گلاب کی پتیوں کو ایک روایتی ماؤتھ فریشر مانا جاتا ہے، اس لیے گل قند کے استعمال سے منہ میں کافی دیر تک ٹھنڈک کا احساس رہتا ہے اور منہ سے خوشبو بھی آتی ہے، جس کی وجہ سے منہ کی بو کا خاتمہ ہوتا ہے۔
۔ گل قند کو کھانے کے بعد بطور میٹھا کھایا جا سکتا ہے جس کے نتیجے میں انسان تیزابیت اور درد جیسی شکایات سے بچ جاتا ہے۔گل قند تاثیر میں ٹھنڈی ہونے کے نتیجے میں اس کے استعمال سے انسان گرمیوں میں لو اور ہیٹ ویو سے بچ جاتا ہے، گرمیوں میں گھر سے باہر نکلتے ہوئے کچھ مقدار میں گل قند کھالی جائے تو شوگر اور لو بلڈ پریشر سے کافی حد تک نجات مل سکتی ہے۔مصروف اور تھکاوٹ سے بھر پور دن گزارنے کے بعد جب پر سکون نیند کی ضرورت ہو تو گل قند کا ایک چمچ یا حسب ذائقہ ایک گلاس دودھ میں ملا کر پی لیں، گرمیوں میں پر سکون نیند کا یہ سستا ترین حل ہے۔گھر میں کا م کاج کے دوران یا باہر جاتے ہوئے ٹھنڈے پانی کی بوتل میں گل قند ملا لیں اور اس کا استعمال کریں، گل قند کے پانی سے لو لگنے یا پانی کی کمی سے بچاؤ ممکن ہوتا ہے۔
گلقند گلاب کے پھولوں کی پتیوں اور سفید شکر یا گڑ سے بنائی جاتی ہے۔ گلقند بنانے کے تین مشہور طریقے ہیں
گلاب کے پھول کی تازہ پتیاں لے کر اُنہیں چینی کے برتن میں ہاتھ سے مسل کر دو حصے سفید شکر یا مصری یا گڑ کے ساتھ ملایا جاتا ہے۔ خوب مسلنے کے بعد اِس برتن کو دھوپ میں رکھ دیا جاتا ہے اور صبح شام اِس کو ہلایا جاتا ہے۔ 40 دن تک دھوپ میں رکھنے کے بعد گلقند تیار ہوجاتی ہے۔
دوسرا طریقہ یہ ہے کہ گلاب کی پھولوں کی پتیوں کو سفید شکر کے قوام میں (جو تھوڑا سا پانی ملا کر چولہے پر پکا کر بنایا جاتا ہے) ڈالا جاتا ہے اور اِس قوام کو دھوپ میں رکھ دیتے ہیں۔ یہ قسم گلقند کی چٹنی بھی کہلاتی ہے۔
تیسرا طریقہ یہ ہے کہ پانی اور سفید شکر کے ساتھ گلاب کے پھولوں کی پتیاں ایک ساتھ ملا کر پکائی جاتی ہیں اور بعد ازاں یہ قوام گاڑھا ہونے پر دھوپ میں رکھا جاتا ہے۔
اکثر اوقات گلاب کے پھولوں کی تازہ پتیاں دستیاب نہ ہونے پر خشک پتیاں عرق گلاب میں بھگو کر بدستور تیار کیا جاتا ہے۔ حکماء کے نزدیک اِس قسم کی تاثیر تقریباً دو سال تک برقرار رہتی ہے

کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں