یوکرین کونیٹواتحاد میں شامل کرنا’عالمی جنگ‘چھیڑنا ہوگا،روس

روس نے یوکرین کے 40 سے زائد شہروں اور دیہات میزائل سے نشانہ بنایا – یوکرینی فوج کا کہنا تھا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں روسی میزائلوں نے ان کے 40 سے زائد آبادیوں کو نشانہ بنایا جبکہ انہوں نے بھی روس کے 25 مقامات پر 32 حملے کیے ہیں۔نیٹو اراکین کے اجلاس میں روس نے ردِ عمل دیتے ہوئے خبردار کیا کہ نیٹو کے حالیہ اجلاس میں یوکرین کے لیے مزید فوجی امداد کے منصوبے سے امریکی قیادت میں فوجی اتحاد کو تنازع میں براہ راست حصہ بنا رہا ہے اور یوکرین کو نیٹو اتحاد میں شامل کرنا ’عالمی جنگ‘ چھیڑنا ہوگا۔ جرمنی کے وزیر دفاع کرسٹین لیمبریچٹ نے ایک تقریب میں کہا کہ ’ہم خطرات میں اور دھمکیوں کے گرد رہ رہے ہیں‘ جہاں یورپی نیٹو اراکین نے اپنے خطے کا دفاع کرنے کے لیے مشترکہ طور پر اسلحہ خریدنے کا عزم کیا ہے۔روس کے سلامتی کونسل کے ڈپٹی سیکریٹری الیگزینڈر وینڈیکٹوف نے خدشہ ظاہر کیا کہ روس اچھی طرح واقف ہے کہ اس طرح کے اقدامات کا مطلب ’تیسری عالمی جنگ‘ کو فروغ دینا ہے۔ رپورٹ کے مطابق نیٹو کی جانب سے یوکرین کو اتنی جلدی رکنیت کی اجازت دینے کا امکان نہیں ہے جس کی وجہ یہ بھی ہے کہ روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کے دوران یوکرین کی رکنیت اتحاد کی اجتماعی دفاعی شق کے تحت امریکا اور اس کے اتحادیوں کو روس کے ساتھ براہ راست تنازع میں شامل ہونے پر مجبور کرے گی۔واضح رہے کہ امریکا اور دیگر نیٹو اراکین روس کے خلاف جنگ میں یوکرین کو اسلحہ فراہم کرتے رہے ہیں اور روس پر کئی پابندیاں بھی عائد کی گئی ہیں مگر اتحادی ممالک براہ راست جنگ میں شامل ہونے سے گریز کر رہے ہیں۔روس اور یوکرین کے درمیان جنگ شروع ہونے سے قبل نیٹو نے یوکرین کو رکنیت کی پیش کش کی تھی مگر یوکرینی صدر ولادیمیر زیلینسکی نے غیرجانب دار رہنے کا اشارہ دیا تھا۔مگر جب روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے یوکرین کے 4 علاقوں کا روس کے ساتھ الحاق کا اعلان کیا تو یوکرینی صدر نے فوری طور پر نیٹو میں رکنیت دینے کی بات رکھ دی تھی۔ ادھر، روس کی طرف سے یوکرین کے چاروں علاقوں کا الحاق کرنے پر عالمی برادری نے شدید رد عمل دیا تھا جہاں گزشتہ روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے روس کے اس قدم کو ’غیر قانونی‘ قرار دیتے ہوئے ایک قرارداد منظور کی تھی۔گزشتہ 24 گھنٹوں میں روس کی طرف سے کیے گئے میزائل حملوں میں یوکرین کے پراسیکیوٹر جنرل دفتر کے 3 عہدیدار ہلاک ہوگئے۔ رپورٹ کے مطابق روس نے یوکرین کے دارالحکومت کیف میں بھی آبادی والے علاقے کو نشانہ بنایا جہاں تین ڈرون حملوں میں حساس ڈھانچے کو نقصان پہنچا ہے۔کیف کے گورنر اولیکسی کولیبا نے کہا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق یہ حملے ایرانی ساختہ لاؤٹرنگ گولہ بارود کی وجہ سے کیے گئے جنہیں ’کامیکازی ڈرون‘ کہا جاتا ہے۔رپورٹ کے مطابق جب روسی صدر نے کریمیا کے پل پر ہونے والے دھماکے کے ردعمل میں شدید حملوں کا حکم دیا تو گزشتہ روز 50 سے زائد مغربی ممالک نے یوکرین کو مزید فوجی امداد بالخصوص فضائی دفاعی ہتھیار فراہم کرنے کے حوالے سے ایک اجلاس منعقد کیا۔ ماسکو نے شہری آبادی کو نشانہ بنانے کی رپورٹس مسترد کردیا ہے جبکہ کیف کا کہنا ہے کہ روسی حملوں کا مقصد آبادی اور پاور سپلائی کو نشانہ بنانا ہے جہاں روسی فوج ’سرد موسم کو ہتھیار‘ کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں