ہماری اسٹیبلشمنٹ کےمنھ کو لہو لگا ہوا ہے، فواد چوہدری

پاکستان کے سابق وزیرِ اطلاعات و نشریات اور پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے گذشتہ روز سپریم کورٹ کی جانب سے ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کی رولنگ پر تفصیلی فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہےکہ ’ہمارے ہاں اسٹیبلشمنٹ کے منھ کو لہو لگا ہوا ہے کہ انھوں نے سیاسی فیصلے کرنے ہیں۔ یہ بدقسمتی سے پاکستان کی تاریخ ہے جو بدل جائے گی، پاکستان کے عوام کو حق کو فیصلوں کا حق دینا ہو گا۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فواد چوہدری کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ نہیں ہو سکتا کہ ہمارے کچھ جنرلز اور ججز بند کمروں میں بیٹھ کر فیصلے کر دیں کہ آج سے ہماری پالیسی یہ ہو گی اور اگلے دن ہم بدل جائیں۔ ’ایک ہم فیصلہ کر لیں کہ آٹھ سال ہم نے افغانستان میں لڑائی لڑنی ہے وہاں پر ہم ہزاروں لوگ شہید کروا لیں اگلے دن ہم بدل جائیں کہ نہیں وہ ہماری پالیسی غلط تھی آج سے ہم دوسری طرف ہو گئے ہیں ہم پھر اپنے ہزاروں بندے مروا لیں۔ پاکستان میں جس طرح سے پالیسیاں بن رہی ہیں یہ تو مذاق ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’پاکستان کے سیاسی فیصلے سیاسی میدان میں ہی ہونے چاہییں۔ ججوں اور جنرلز نے ایک کریئر چنا ہے اور اس کے وقار کے مطابق فیصلے ہونے چاہییں یہ نہیں ہو سکتا کہ کرنی ہم نے ججی ہے، ہم نے فوج میں کمیشن لیا ہو لیکن کرنی ہم نے سیاست ہے۔‘ انھوں نے فیصلے میں سائفر سے متعلق تذکرے پر ردِ عمل دیتے ہوئے کہا کہ ’اٹارٹی جنرل خالد جاوید، اس کے بعد علی ظفر اور پھر امتیاز صدیقی کی جانب سے بار بار سائفر پر زور دیا جا رہا تھا لیکن ججوں کی جانب سے کہا گیا کہ نہیں سائفر کے بارے میں تفصیل سے بات نہ کریں۔ ’ایک طرف آپ تحقیقات کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں، اور دوسری طرف یہ کہہ رہے ہیں کہ تحقیقات نہیں کی گئیں اور بات نہیں ہوئی۔ بہت لوگوں کو پتا ہے کہ آپ سائفر کی تحقیقات کیوں نہیں کرنا چاہ رہے۔‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’جان بولٹن نے کل اعتراف کیا ہے کہ امریکہ دنیا میں اقتدار کی تبدیلیوں میں ملوث رہا ہے، لیکن ہماری سپریم کورٹ کہہ رہی ہے کہ نہیں نہیں اس میں نہ جائیں۔‘

اپنا تبصرہ بھیجیں