گوادراحتجاجی دھرنا،پانچ ہزارسکیورٹی اہلکارعلاقےمیں تعینات

بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں پورٹ کی تعمیر کے لیے چینی کارکنوں کی آمد کے بعد سے حکومت نے وہاں دھرنے اور احتجاج کے پیش نظر پولیس کی پانچ ہزار سے زائد کی نفری بھیج دی ہے۔گوادر شہر اور اس کے نواحی علاقوں سے تعلق رکھنے والے افراد کا کہنا ہے کہ کسی احتجاج کے تناظر میں پولیس اہلکاروں کی یہ سب سے بڑی تعیناتی ہے۔تاہم بلوچستان کے مشیر برائے داخلہ و قبائلی امور میرضیاءاللہ لانگو کا کہنا ہے کہ پولیس کی بھاری نفری بھیجنے کا مقصد وہاں کسی کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ کسی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کے لیے یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ دھرنے کے شرکاءکے مطالبات تسلیم کیئے گئے ہیں اس لیے دھرنے کو ختم کیا جانا چائیے ۔ تاہم حق دو تحریک، جس کے زیر اہتمام یہ دھرنا دیا جا رہا ہے کے قائد مولانا ہداہت الرحمان کا کہنا ہے کہ حکومت مطالبات کے حوالے سے عملی اقدامات کرے تو ہم دھرنے کو ختم کرنے میں ایک منٹ کا بھی تاخیر نہیں کریں گے ۔محکمہ پولیس کے ایک نوٹیفیکیشن کے مطابق گوادر میں باہر سے مجموعی طور پر 5500 پولیس اہلکاروں کی تعیناتی کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔ ان میں سے 2200اہلکاروں کا تعلق بلوچستان کانسٹیبلری سے ہے جبکہ باقی اہلکاروں کا تعلق ریگولر پولیس سے ہے۔ ریگولر پولیس کے اہلکار جعفرآباد ، مستونگ ،زیارت، پنجگور، خضدار، تربت، نصیرآباد ،قلات ،کچھی ، خاران ،سبی اور لسبیلہ سے بھیجے گئے ہیں۔گوادر شہر اور ضلع گوادر کے دیگر علاقوں میں ان کی تعیناتی کا عمل شروع ہوگیا ہے۔’گوادر میں اس وقت جو دھرنا چل رہا ہے وہ انتہائی پرامن ہے ۔نہ صرف گزشتہ 21روز سے یہ دھرنا جاری ہے بلکہ ’حق دو ‘کی تحریک کی کال پرتین بڑی ریلیاں نکالی گئیں جن میں بچوں اور خواتین کی تاریخی ریلیاں بھی شامل تھیں’۔ دھرنے کے خلاف کسی کارروائی کے خدشے کے پیش نظر گزشتہ شب مولانا ہدایت الرحمان نے دھرنے کے شرکا سے کہا تھا کہ اگر کوئی جانا چاہتا ہے تو انہیں ان کی طرف سے اجازت ہے لیکن وہ خود مطالبات پر عملدرآمد تک دھرنا ختم نہں کریں گے خواہ اس کے لیے انہیں اکیلا ہی کیوں بیٹھنا نہ پڑے ۔ ‘مولانا کے اس اعلان کے بعد لوگ مزید جذباتی ہوگئے اور انہوں نے بتایا کہ ان میں سے کوئی بھی یہاں سے نہیں جائے گا’۔

اپنا تبصرہ بھیجیں