کیا آپ ذیابیطس کا شکار ہیں؟ علامات و علاج

ذیابیطس دنیا میں تیزی سے عام ہوتا ہوا ایسا مرض ہے جسے خاموش قاتل کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کیونکہ ذیابیطس ٹائپ ٹو کے شکار 25 فیصد افراد کو اکثر اس کا علم ہی نہیں ہوتا۔یہ بیماری اس وقت پیدا ہوتی ہے جب جسم اپنے اندر موجود شکر (گلوکوز) کو حل کر کے خون میں شامل نہیں کر پاتا اس کی پیچیدگی کی وجہ سے دل کے دورے، فالج، نابینا پن، گردے ناکارہ ہونے اور پاؤں اور ٹانگیں کٹنے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔جب ہم کھانا کھاتے ہیں تو ہمارا جسم نشاستے (کاربوہائیڈریٹس) کو شکر (گلوکوز) میں تبدیل کر دیتا ہے، جس کے بعد لبلبے (پینکریاز) میں پیدا ہونے والا ہارمون انسولین ہمارے جسم کے خلیوں کو ہدایت دیتا ہے کہ وہ توانائی کے حصول کے لیے اس شکر کو جذب کریں۔ذیابیطس تب لاحق ہوتا ہے جب انسولین مناسب مقدار میں پیدا نہیں ہوتی یا کام نہیں کرتی، اس کی وجہ سے شکر ہمارے خون میں جمع ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ذیابیطس کی کئی اقسام ہیں۔ ٹائپ ون ذیابیطس میں لبلبہ انسولین بنانا بند کر دیتا ہے جس کی وجہ سے شکر خون کے بہاؤ میں جمع ہونا شروع ہو جاتی ہے۔سائنسدان یہ تو نہیں جانتے کہ اس کی اصل وجہ کیا ہے لیکن ان کا خیال ہے کہ شاید ایسا جینیاتی اثر کی وجہ سے ہوتا ہے یا کسی وائرل انفیکشن کی وجہ سے کہ لبلبے میں انسولین بنانے والے خلیے خراب ہو جاتے ہیں۔ ذیابیطس کے مریضوں کا دس فیصد ٹائپ ون کا شکار ہیں۔ٹائپ 2 ذیابیطس میں لبلبہ یا تو ضرورت کے مطابق انسولین نہیں بناتا یا جو بناتا ہے وہ ٹھیک طریقے سے کام نہیں کرتی۔
ایسا عموماً درمیانی اور بڑی عمر کے لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ تاہم یہ مرض کم عمر کے زیادہ وزن والے افراد، سست طرزِ زندگی اپنانے والے اور کسی خاص نسل سے تعلق رکھنے والے افراد خصوصاً جنوبی ایشیائی افراد کو بھی لاحق بھی ہو سکتا ہے۔کچھ حاملہ خواتین کو دورانِ زچگی ذیابیطس ہو جاتا ہے جب ان کا جسم ان کے اور بچے کے لیے کافی انسولین نہیں بنا پاتا۔مختلف مطالعوں کے مختلف اندازوں کے مطابق چھ سے 16 فیصد خواتین کو دورانِ حمل ذیابیطس ہو جاتا ہے۔ انھیں ایسے میں غذا اور ورزش کے ذریعے شوگر لیول کو کنٹرول کرنا ہوتا ہے، تاکہ اسے ٹائپ ٹو انسولین میں بدلنے سے روکا جا سکے۔اب لوگوں کو خون میں گلوکوز کی بڑھی ہوئی سطح کے بارے میں تشخیص کر کے انھیں ذیابیطس ہونے کے خطرے سے آگاہ کیا جا سکتا ہے۔

اس مرض کا شکار ہونے کی صورت میں کچھ علامات ایسی ہوتی ہیں جس سے عندیہ ملتا ہے کہ آپ کو اپنا چیک اپ کروا لینا چاہئے تاکہ ذیابیطس کی شکایت ہونے کی صورت میں اس کے اثرات کو آگے بڑھنے سے روکا جاسکے۔تو ایسی ہی خاموش علامات کے بارے میں جانیے۔
ٹوائلٹ کا زیادہ رخ کرنا
جب آپ ذیابیطس کے شکار ہوجائیں تو آپ کا جسم خوراک کو شوگر میں تبدیل کرنے میں زیادہ بہتر کام نہیں کرپاتا جس کے نتیجے میں دوران خون میں شوگر کی مقدار بڑھ جاتی ہے اور جسم اسے پیشاب کے راستے باہر نکالنے لگتا ہے، یعنی ٹوائلٹ کا رخ زیادہ کرنا پڑتا ہے۔ تاہم اس مرض کے شکار اکثر افراد اس خاموش علامت سے واقف ہی نہیں ہوتے اور نہ ہی اس پر توجہ دیتے ہیں۔ خاص طور پر رات کو جب ایک یا 2 بار ٹوائلٹ کا رخ کرنا تو معمول سمجھا جاسکتا ہے تاہم یہ تعداد بڑھنے اور آپ کی نیند پر اثرات مرتب ہونے کی صورت میں اس پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
معمول سے زیادہ پیاس لگنا
بہت زیادہ پیشاب کرنے کے نتیجے میں پیاس بی زیادہ محسوس ہوتی ہے اور ذیابیطس کے مریض افراد اگر جوسز، کولڈ ڈرنکس یا دودھ وغیرہ کے ذریعے اپنی پیاس کو بجھانے کی خواہش میں مبتلا ہوجائیں تو یہ خطرے کی علامت ہوسکتی ہے۔ یہ میٹھے مشروبات خون میں شکر کی مقدار کو بڑھا دیتے ہیں جس کے نتیجے میں پیاس کبھی ختم ہونے میں ہی نہیں آتی۔
جسمانی وزن میں کمی
جسمانی وزن میں اضافہ ذیابیطس کے لیے خطرے کی علامت قرار دی جاتی ہے تاہم وزن میں کمی آنا بھی اس مرض کی ایک علامت ہوسکتی ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق جسمانی وزن میں کمی دو وجوہات کی بناءپر ہوتی ہے، ایک تو جسم میں پانی کی کمی ہونا (پیشاب زیادہ آنے کی وجہ سے) اور دوسری خون میں موجود شوگر میں پائے جانے والی کیلیوریز کا جسم میں جذب نہ ہونا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ذیابیطس کا علم ہونے کی صورت میں جب لوگ اپنے بلڈ شوگر کو کنٹرول کرنا شروع کرتے ہیں تو اس کے نتیجے میں وزن بڑھ سکتا ہے مگر یہ اچھا امر ہوتا ہے کیونکہ اس کا مطلب ہوتا ہے کہ بلڈ شوگر ک لیول زیادہ متوازن ہے۔
کمزوری اور بھوک کا احساس
یہ کوئی غیرمعمولی بات نہیں کہ ذیابیطس کے مریضوں کو اچانک ہی بھوک کا احساس ستانے لگے اور ان کے اندر فوری طور پر زیادہ کاربوہائیڈیٹ سے بھرپور غذا کی خواہش پیدا ہونے لگے۔ بی ماہرین کے مطابق جب کسی فرد کا بلڈ شوگر لیول بہت زیادہ ہوا تو جسم کے لیے گلوکوز کو ریگولیٹ کرنا مسئلہ بن جاتا ہے، جس کے نتیجے میں جب آپ کاربوہائیڈریٹس سے بھرپور غذا استعمال کرتے ہیں تو مریض کا جسم میں انسولین کی مقدار بڑھ جاتی ہے جبکہ گلوکوز کی سطح فوری طور پر گرجاتی ہے جس کے نتیجے میں کمزوری کا احساس پیدا ہوتا ہے اور آپ کے اندر چینی کے استعمال کی خواہش پیدا ہونے لگتی ہے اور یہ چکر مسلسل چلتا رہتا ہے۔
ہر وقت تھکاوٹ
یقیناً تھکاوٹ تو ہر شخص کو ہی ہوتی ہے مگر ہر وقت اس کا طاری رہنا ذیابیطس میں مبتلا ہونے کی اہم علامت ثابت ہوسکتی ہے۔ ذیابیطس کا شکار ہونے کی صورت میں خوراک جسم میں توانائی بڑھانے میں ناکام رہتی ہے اور ضرورت کے مطابق توانائی نہ ہونے سے تھکاوٹ کا احساس اور سستی طاری رہتی ہے۔ اسی طرح ذیابیطس ٹائپ ٹو میں شوگر لیول اوپر نیچے ہونے سے بھی تھکاوٹ کا احساس غلبہ پالیتا ہے۔
پل پل مزاج بدلنا یا چڑچڑا پن
جب آپ کا بلڈ شوگر کنٹرول سے باہر ہوتا ہے تو آپ کو کچھ بھی اچھا محسوس نہیں ہوتا، ایسی صورت میں مریض کے اندر چڑچڑے پن یا اچانک میں غصے میں آجانے کا امکان ہوتا ہے۔ درحقیقت ہائی بلڈ شوگر ڈپریشن جیسی علامات کو ظاہر کرتا ہے، یعنی تھکاوٹ، ارگرد کچھ بھی اچھا نہ لگنا، باہر نکلنے سے گریز اور ہر وقت سوتے رہنے کی خواہش وغیرہ۔ ایسی صورتحال میں ڈپریشن کی جگہ سب سے پہلے ذیابیطس کا ٹیسٹ کرالینا زیادہ بہتر ثابت ہوتا ہے خاص طور پر اس وقت جب اچانک مزاج خوشگوار ہوجائے کیونکہ بلڈ شوگر لیول نارمل ہونے پر مریض کا موڈ خودبخود نارمل ہوجاتا ہے۔
بنیائی میں دھندلاہٹ
ذیابیطس کی ابتدائی سطح پر آنکھوں کے لینس منظر پر پوری طرح توجہ مرکوز نہیں کرپاتے کیونکہ آنکھوں میں گلوکوز کی مقدار بڑھ جاتی ہے جس کے نتیجے میں عارضی طور پر اس کی ساخت یا شیپ بدل جاتی ہے۔ چھ سے آٹھ ہفتے میں جب مریض کا بلڈ شوگر لیول مستحکم ہوجاتا ہے تو دھندلا نظر آنا ختم ہوجاتا ہے کیونکہ آنکھیں جسمانی حالت سے مطابقت پیدا کرلیتی ہیں اور ایسی صورت میں ذیابیطس کا چیک اپ کروانا ضروری ہوتا ہے۔
زخم یا خراشوں کے بھرنے میں تاخیر
زخموں کو بھرنے میں مدد دینے والا دفاعی نظام اور پراسیس بلڈ شوگر لیول بڑھنے کی صورت میں موثر طریقے سے کام نہیں کرپاتا جس کے نتیجے میں زخم یا خراشیں معمول سے زیادہ عرصے میں مندمل ہوتے ہیں اور یہ بھی ذیابیطس کی ایک بڑی علامت ہے۔
پیروں میں جھنجھناہٹ
ذیابیطس کی شکایت دریافت ہونے سے قبل بلڈ شوگر میں اضافہ جسمانی پیچیدگیوں کو بڑھا دیتا ہے ۔ اس مرض کے نتیجے میں اعصابی نظام کو بھی نقصان پہنچتا ہے اور اس کے نتیجے میں آپ کے پیروں کو جھنجھناہٹ یا سن ہونے کا احساس معمول سے زیادہ ہونے لگتا ہے کہ جو کہ خطرے کی گھنٹی ہوتا ہے۔
مثانے کی شکایات
پیشاب میں شکر کی زیادہ مقدار بیکٹریا کے افزائش نسل کا باعث بنتی ہے جس کے نتیجے میں مثانے کے انفیکشن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ بار بار انفیکشن کا سامنے آنا فکرمندی کی علامت ہوسکتی ہے اور اس صورت میں ذیابیطس کا ٹیسٹ لازمی کرالینا چاہئے کیونکہ یہ اس مرض میں مبتلا ہونے کی بڑی علامات میں سے ایک ہے۔

ذیابیطس کا زیادہ تر انحصار جینیاتی اور ماحولیاتی عوامل پر ہوتا ہے لیکن آپ صحت مند غذا اور چست طرزِ زندگی سے اپنے خون میں شکر کو مناسب سطح پر رکھ سکتے ہیں۔پروسیس کیے گئے میٹھے کھانوں اور مشروبات سے پرہیز اور سفید روٹی اور پاستا کی جگہ خالص آٹے کا استعمال پہلا مرحلہ ہے۔ریفائنڈ چینی اور اناج غذائیت کے اعتبار سے کم ہوتے ہیں کیونکہ ان میں سے وٹامن سے بھرپور حصہ نکال دیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر سفید آٹا، سفید روٹی، سفید چاول، سفید پاستا، بیکری کی اشیا، سوڈا والے مشروبات، مٹھائیاں اور ناشتے کے میٹھے سیریل۔صحت مند غذاؤں میں سبزیاں، پھل، بیج، اناج شامل ہیں۔ اس میں صحت مند تیل، میوے اور اومیگا تھری والے مچھلی کے تیل بھی شامل ہیں۔یہ ضروری ہے کہ وقفے وقفے سے کھایا جائے اور بھوک مٹنے پر ہاتھ روک لیا جائے۔جسمانی ورزش بھی خون میں شوگر کے تناسب کو کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔ برطانیہ میں این ایچ ایس تجویز کرتا ہے کہ ہفتے مںی کم از کم ڈھائی گھنے ایروبکس کرنا یا تیز چہل قدمی یا سیڑھیاں چڑھنا مفید ہے۔سست روی چھوڑ کر ہفتے میں کم از کم اڑھائی گھنٹے ورزش ضروری ہے-جسم کا صحت مند حد تک وزن شوگر لیول کو کم رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ اگر آپ وزن کم کرنا چاہتے ہی تو اسے آہستہ آہستہ کریں یعنی آدھا یا ایک کلو ایک ہفتے میں۔
یہ بھی اہم ہے کہ آپ تمباکو نوشی نہ کریں اور اپنے کولیسٹرول لیول کو کم رکھیں تاکہ دل کے عارضے کا خطرہ کم ہو۔

ذیابیطس کی روک تھام کرنے والی 9 غذائی عادات
ٹھیک ہے کہ ذیابیطس ایسا مرض ہے جو ایک بار لاحق ہوجائے تو پیچھا نہیں چھوڑتا اور اس کے نتیجے میں دیگر طبی مسائل کا سامنا ہوتا ہے۔تاہم ذیابیطس سے بچاﺅ یا لاحق ہونے پر اسے پھیلنے سے روکنا زیادہ مشکل نہیں اور طبی سائنس نے اس کے حوالے سے چند غذائی عادات پر زور دیا ہے۔
گھر کے بنے کھانوں کو ترجیح دینا
ہاورڈ اسکول آف پبلک ہیلتھ کی ایک حالیہ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ جو لوگ روزانہ گھر کے بنے کھانوں کو ترجیح دیتے ہیں (ہفتے میں کم از کم 11 بار) ان میں ذیابیطس کے مرض میں مبتلا ہونے کا خطرہ 13 فیصد کم ہوتا ہے۔ گھر میں بنے کھانے جسمانی وزن کو کنٹرول میں رکھتے ہیں جو ذیابیطس کا خطرہ کم کرنے میں اہم کردار ادا کرنے والا عنصر ہے۔
اجناس کا زیادہ استعمال
جو لوگ دلیہ، گندم اور دیگر اجناس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں ان میں ذیابیطس کا خطرہ 25 فیصد تک کم ہوتا ہے۔ یہ دعویٰ طبی جریدے جرنل ڈائیبٹولوجی میں شائع ایک تحقیق میں کیا گیا تھا۔
اخروٹ کا روزانہ استعمال
امریکا کی یالے یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق اگر کسی شخص میں ذیابیطس کی تشکیل کا خطرہ ہو تو وہ تین ماہ تک روزانہ کچھ مقدار میں اخروٹ کا استعمال کرے تو اس کی خون کی شریانوں کے افعال میں بہتری اور نقصان دہ کولیسٹرول کی سطح کم ہوتی ہے، اور یہ دونوں ذیابیطس ٹائپ ٹو کا باعث بننے والے عناصر ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اخروٹ کے استعمال سے جسمانی وزن میں اضافے کا خطرہ نہیں ہوتا اور انہیں کسی بھی وقت کھایا جاسکتا ہے۔
غذا میں ٹماٹر، آلو اور کیلوں کی شمولیت
ان تینوں میں کیا چیز مشترک ہے؟ یہ سب پوٹاشیم سے بھرپور ہوتے ہیں اور ایک حالیہ تحقیق کے مطابق یہ منرل ذیابیطس کے شکار افراد کے دل اور گردوں کی صحت کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔ پوٹاشیم سے بھرپور غذا کھانے سے گردے کے افعال میں خرابی آنا سست ہوجاتا ہے جبکہ خون کی شریانوں میں پیچیدگیوں کا خطرہ بھی کم ہوتا ہے۔
غذائی تجربات سے گریز
امریکا کی ٹفٹس یونیورسٹی اور ٹیکساس یونیورسٹی کی ایک حالیہ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ جو لوگ کھانوں میں بہت زیادہ تنوع پسند کرتے ہیں ان میں میٹابولک صحت خراب ہوتی ہے اور موٹاپے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ اس کے مقابلے میں جو لوگ مخصوص غذاﺅں تک ہی محدود رہتے ہیں وہ عام طور پر صحت بخش کھانوں کا انتخاب کرتے ہیں اور اس طرح ان میں ذیابیطس کا خطرہ کم ہوتا ہے۔
دہی کا استعمال
روزانہ دہی کا استعمال ذیابیطس ٹائپ ٹو کا خطرہ اٹھارہ فیصد تک کم کردیتا ہے اور یہ بات ہاورڈ یونیورسٹی کی ایک تھقیق میں سامنے آئی۔ محققین کے مطابق دہی میں ایسے بیکٹریا ہوتے ہیں جو انسولین کی حساسیت بہتر کرنے میں مدد دیتے ہیں، تاہم اس حوالے سے محققین نے مزید تحقیق کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے، تاہم پھر بھی ان کا کہنا ہے کہ دہی کے استعمال سے نقصان کوئی نہیں ہوتا۔
ہر وقت منہ چلانے سے گریز
ذیابیطس کے شکار افراد کو اکثر کہا جاتا ہے کہ وہ دن بھر میں 6 بار کم مقدار میں کھانا کھائیں مگر زیادہ مقدار میں کم تعداد میں غذا زیادہ بہتر ثابت ہوتی ہے۔ چیک ریپبلک کی ایک تحقیق کے مطابق کم مقدا رمیں زیادہ بار غذا کا استعمال کچھ اتنا فائدہ مند نہیں، اس کے برعکس تین بار میں پیٹ بھر کر کھالینا بلڈشوگر میں کمی لاتا ہے اور جسمانی وزن بھی متاثر نہیں ہوتا اور ہاں بھوک بھی محسوس نہیں ہوتی۔
پھلوں کا بہتر انتخاب
جو لوگ جوسز کی بجائے پھل خاص طور پر بلیو بیریز، سیب اور انگور کھانے کو ترجیح دیتے ہیں وہ بھی ہفتے میں کم از کم دو بار تو ان میں ذیابیطس ٹائپ ٹو کا خطرہ 23 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔ طبی جریدے بی ایم جے میں شائع تحقیق کے مطابق پھلوں کے جوس جتنے بھی صحت بخش قرار دیئے جائیں مگر وہ میٹابولزم امراض بالخصوص ذیابیطس کا خطرہ 21 فیصد تک بڑھا دیتے ہیں۔
کولڈ ڈرنکس سے پاک فریج
کولڈ ڈرنکس یا میٹھے مشروبات کا روزانہ استعمال ذیابیطس کا مریض بننے کا خطرہ 26 فیصد تک بڑھا دیتا ہے۔ ہاورڈ یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق میٹھے مشروبات کا استعمال محدود کرنا جسمانی وزن کو کنٹرول کرنے سمیت دل اور ذیابیطس جیسے امراض کی روک تھام میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

—————————————————————-
بلڈپریشر، اورکولیسٹرول کی نگہداشت کرنے کے طریقے کے بارے میں معلوم کریں۔ اس
سے آپ کو دل کا دورہ، اسٹروک، یا ذیابیطس کے دیگر مسائل کے امکانات کوکم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
اے ون سی جانچ
اے 1 سی ایک خون کی جانچ ہے جو گزشتہ تین مہینوں کے دوران آپ کےخون میں شکر کی اوسط سطح کی پیمائش کرتی ہے۔ یہ خون میں شکر کیان جانچوں سے مختلف ہے جو آپ روزانہ کرتے ہیں۔وقفے وقفے سے آپ کو اپنے خون میں شکر کی سطحوں کو جاننے کی ضرورت ہے۔ آپ نہیں چاہیں گے کہ ان کا شمار کافی زیادہ ہو جائے۔ خون میں شکر کی اونچی سطحوں سے آپ کے دل اور خون کی نالیوں، گردوں، پیروں، اور آنکھوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
اے 1 سی ہدف کیا ہے؟
ذیابیطس والے بہت سے لوگوں کے لیے اے 1 سی ہدف 7 سے نیچے ہے۔ یہ آپ کے لیے مختلف ہو سکتا ہے۔ دریافت کریں کہ آپ کا ہدف کیا ہونا چاہیے
بی برائے بلڈ پریشر۔
بلڈ پریشر آپ کی رگوں کی دیواروں پر آپ کے خون کی قوت ہے۔اگر آپ کا بلڈ پریشر بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے تو اس سے آپ کے دل کو کافی زیادہ محنت کرنی پڑتی ہے۔ اس سے دل کا دورہ، اسٹروک ہو سکتا ہے، اور گردوں اور آنکھوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
آپ کے بلڈ پریشر کا ہدف کیا ہے؟
ذیابیطس والے اکثر لوگوں کے لیے بلڈ پریشر کا ہدف 90/140 سے نیچےہے۔ یہ آپ کے لیے مختلف ہو سکتا ہے۔ دریافت کریں کہ آپ کا ہدف کیا ہونا چاہیے۔

سی برائے کولیسٹرول
آپ کے خون میں دو طرح کے کولیسٹرول ہوتے ہیں:
ایل ڈی ایل اور ایچ ڈی ایل۔
ایل ڈی ایل یا “خراب” کولیسٹرول جمع ہوسکتا ہے اور آپ کی رگوں کومسدود کر سکتا ہے۔ اس سے دل کا دورہ یا اسٹروک ہوسکتا ہے۔ایچ ڈی ایل یا “اچھا” کولیسٹرول آپ کی رگوں سے “خراب” کولیسٹرول کوہٹانے میں مدد کرتا ہے۔دریافت کریں کہ آپ کے کولیسٹرول کا شمار کیا ہونا چاہیے۔ آپ کےاہداف دیگر لوگوں سے مختلف ہو سکتے ہیں۔ اگر آپ کی عمر 40 سال
سے زیادہ ہے تو آپ کو دل کی صحت کے لیے اسٹیٹن داوئیں لینے کی ضرورت ہوسکتی ہے۔
اگر کسی آدمی کو ذیا بیطس نہ ہو اور وہ ذیابیطس کی دوا استعمال کرے تو کیا اس سے کچھ فرق پڑے گا یا نہیں؟
ذیابیطس کی تمام دوائیں صرف ذیابیطس کا علاج نہیں کرتیں۔ ہر دوا کا کام کرنے کا طریقہ الگ ہے اور ایک ہی دوا کئی مختلف بیماریوں کے لیے لی جا سکتی ہے جن کو انڈیکیشن کہتے ہیں۔ جن حالات میں کوئی دوا بالکل نہ لی جا سکتی ہو، ان کو کنٹرا انڈیکیشن کہتے ہیں۔ ذیابیطس کے علاج کی دوائیں مندرجہ ذیل ہیں۔
ایک۔ گلوکوفاج (Glucophage)
دو۔ سلفونل یوریا (Sulphonylurea)
تین۔ جی ایل پی ون ریسپٹر اینٹاگونسٹ (GLP۔ 1 RA)
چار۔ ایس جی ایل ٹی ٹو انہیبیٹر (SGLT 2 inhibitors)
پانچ۔ ڈی پی پی فور انہیبیٹر (DPP 4 inhibitor)
چھ۔ پایوگلیٹازون (Pioglitazone)
سات۔ انسولین (Insulin)
گلوکوفاج کو پی سی او ایس (Polycystic ovarian syndrome۔ PCOS) کی بیماری میں بھی استعمال کیا جاتا ہے چاہے ان مریضوں کو ذیابیطس ہو یا نہیں۔ جی ایل پی ون ریسیپٹر اینٹاگونیسٹ ڈرگ کلاس (GLP۔ 1 RA drug class) میں ایک دوا لیراگلوٹائیڈ (Liraglutide) مارکیٹ میں سیکسینڈا (Saxenda) کے نام سے دستیاب ہے جس کو مٹاپے کی بیماری کے علاج میں استعمال کیا جاتا ہے۔
ایس جی ایل ٹی ٹو انہیبیٹر (SGLT 2 inhibitor) کلاس کی دوائیں دل کے فیل ہونے کے لیے بھی استعمال ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ اس کو گردوں کی بیماری کو مزید بگڑنے سے بچانے میں بھی دیا جاتا ہے۔
چونکہ ذیابیطس کی دواؤں کا مرکزی مقصد خون میں شوگر کی مقدار کو کم کرنا ہے، اگر ہم سلفونل یوریا (Sulphonylurea) اور انسولین جیسی دوائیں بغیر سوچے سمجھے ان افراد کو دے دیں جن کو ذیابیطس نہیں ہے تو ان میں شوگر کی مقدار خطرناک حد تک کم ہو سکتی ہے۔ اس سے لوگ کوما میں بھی جا سکتے ہیں اور ان کی موت واقع ہو سکتی ہے۔ اس لیے ذیابیطس کی کوئی بھی دوا مناسب تشخیص اور تعلیم کے بغیر دینا درست نہیں ہے-

ذیابیطس کا دیسی علاج:
–صبح نہار منہ بہترین عرقِ گلاب دو چمچ پانی کہ ایک گلاس میں ملا کر پینے سے شوگر کنٹرول رہتی ہے
— پہلےمرحلے میں بڑھی ھوئی شوگر کنٹرول کرنے کے لیے یہ نسخہ استعمال کریں-
آبنوس 3 گرام، کشتہ ابرک نصف گرام، حرمل 5 گرام، افستین 4 گرام، اقاقیہ 1 گرام، نمک باجرہ 1 گرام، برگد کا دودھ حسبِ ضرورت۔ سواۓ کشتہ و دودھ کے سب دواؤں کو کوٹ پیس کر سفوف بنا لیں۔ پھر دونوں چیزیں ملا لیں تاکہ چنے برابر گولیاں بن جایں۔ 3 ٹایؑم 1-1 گولی پانی کے ساتھ لیں۔
دوسرے مرحلہ میں شوگر مکمل رفع کرنے کے لیے یہ نسخہ استعمال کریں۔
نمک بدھارا 3 گرام، نمک برہم ڈنڈی 2 گرام، برہمی بوٹی 5 گرام، پنیر مایہ بکرا 1 گرام، تج 5 گرام، تخم حیات 1 گرام، جاوتری 2 گرام، حرمل 5 گرام، جند بید ستر 1 گرام، زعفران نصف گرام، گوند کیکر 1 گرام۔ تمام ادویات کو نہایت باریک پیس چھان کر قدرے پانی ملا کر چنے برابر گولیاں بنا لیں۔ 3 ٹایؑم 1-1 گولی ہمراہ پانی یا کریم نکلے دودھ کے ساتھ دیں۔
تیسرے مرحلہ میں جب شوگر مکمل کنٹرول ہو جاۓ تو یہ طاقت کے لیے نسخہ استعمال کریں۔
میتھی، درمنہ ترکی، مرزبخوش ہر ایک 5 گرام، زعفران نصف گرام، جرجیر 1 گرام، گل بھنگرا سیاہ 1 گرام۔ تمام دوایں پیس کر 2 پہر کھرل کریں۔ پھر شہد خالص کے مدد سے چنے برابر گولیاں بنا لیں۔ 2-2 گولی صبح دوپہر شام دودھ کے لیں
–زیتون کا تیل :
دو یا دو سے زیادہ چمچ زیتون کا تیل سونے سے پہلے پی لینا۔ اور اتنی ہی مقدار صبح نہارمنہ (کلی کئے بغیر) پی لینا۔صبح نہارمنہ زیتون کا تیل پی چکنے کے بعد اور ناشتہ کرنے کا درمیانہ وقفہ جتنا زیادہ ہوگا افاقہ اتنا ہی زیادہ ہوگا۔ تاہم اتنا ضرور یاد رکھیئے کہ یہ مدت کم از کم ایک گھنٹہ ضرور ہو
–بھنڈی کا کمال:
بھنڈی ایک مقبول سبزی ہے اور اکثر گھروں میں پکائی جاتی ہے لیکن اس کا پانی کئی بیماریوں جیسے ذیابیطس ‘ دمہ‘ کولیسٹرول اور گردے کی بیماریوں کیلئے بہت مفید ہوتا ہے۔ بھنڈی کی وجہ سے نہ صرف آپ کا مدافعتی نظام بہتر ہو گا بلکہ کولیسٹرول کم رہے گا اور ساتھ ہی بلڈ شوگر لیول بھی ٹھیک رہے گا۔ ماہرین کے مطابق بھنڈی کو اوپر اور نیچے سے کاٹنے کے بعد اسے تین حصوں میں تقسیم کریں اور انہیں پانی سے بھرے ایک گلاس میں ڈالیں اور ساری رات پانی میں پڑا رہنے دیں‘ اس کے بعد صبح ناشتے کے بعد بھنڈی سے نکلنے والا پانی پی لیں.
پانچ آزمودہ نسخے:
۔1۔۔۔: گٹھلی جامن خشک 100 گرام کوٹ چھان کر سفوف (پاؤڈر) بنالیں اور 5 گرام سفوف پانی کے ساتھ دن میں دو بارصبح نہار منہ اور شام 5 بجے لیں
۔ 2 ۔۔۔: نیم کی کونپلیں 5 گرام پانی 50 ملی لیٹر میں پیس چھان کر صبح نہار منہ یا ناشتے کے ایک گھنٹے بعد لیں
۔ 3 ۔۔۔: کریلہ کو کچل کر اسکا رس نچوڑ لیں یا جوسر میں اسکا جوس نکال لیں 25 ملی گرام یہ رس صبح و شام لیں
. 4 ۔۔۔: چنے کے آٹے (بیسن) کی روٹی اس مرض میں بہت مفید ہے
۔ 5۔۔۔: لوکاٹ کے پتے 7 عدد ایک کپ پانی میں جوش دے کرچائے بنائیں اس ہربل ٹی کے ساتھ گٹھلی جامن کا 5 گرام سفوف صبح منہ نہار پھانک لیں۔ ان شآءاللہ چند دنوں میں شوگر کنٹرول ہو جائے گی۔نشاستہ دار غذا؛ آلو، چاول، چینی وغیرہ سے پرہیز ضروری ہے۔
ذیابیطس کا دیسی نسخہ:
نسخہ کےاجزاء:
1 – گندم 100 گرام 2 – جو 100 گرام 3 – کلونجی 100 گرام
تیاری کا طریقہ: تمام اوپر والے اجزاء کو 5 کپ پانی میں ڈال دو۔اسے 10 منٹ کے لئے ابالئے اور پهر آگ بند کرو.
ٹهنڈا ھونے دیں.جب یہ سرد ہو جائے تو اس کو چهان کر بیج اور پانی الگ کر لیں۔گلاس جگ یا بوتل میں پانی کو محفوظ کرلیں۔
اسے کیسے استعمال کریں؟
ہر روز صبح سویرے نہار منہ ایک کپ اس پانی کا پی لیجیے۔اسے 7 دن تک جاری رکھیں.
اگلے ہفتے یہی عمل دہرائیں اور یہ پانی ایک دن چهوڑ کر ایک دن پئے۔
ان دو ہفتے کے بعد آپ محسوس کریں گئے کہ آپ کی زندگی معمول پر آ گئی ھے اور آپ ہر چیز کها سکتے ہیں

— السی کے بیج الفا لائنولینک ایسڈ سے بھرپور ہوتے ہیں جو کہ امراض قلب کا خطرہ کم کرنے کے ساتھ بلڈ پریشر، کولیسٹرول، جسمانی ورم اور خون میں رکاوٹ جیسے مسائل کا خطرہ کم کرسکتے ہیں۔ان میں موجود پروٹین جسمانی وزن کم کرنے یا مسلز بنانے میں بھی مدد فراہم کرتے ہیں۔ان تمام فوائد سے ہٹ کر یہ بیج ذیابیطس کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے بھی فائدہ مند ہیں۔ان بیجوں کے ایک چمچ میں 3 گرام فائبر موجود ہے جو جسم میں جاکر جلد ہضم نہیں ہوتی جس کے نتیجے میں خون میں شوگر کا اخراج سست روی سے ہوتا ہے۔

ہومیوپیتھک علاج
ہومیوپیتھک علاج سے شوگر کنٹرول رکھی جا سکتی ہے۔ اِس کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ مریض کی صورتِ حال اور مجموعی مسائل کو سامنے رکھتے ہوئے دوا دی جاتی رہے۔ کوئی بھی ایک دوا زیادہ عرصہ کامیاب نہیں رہتی کیونکہ مریض کے حالات بدلتے رہتے ہیں۔
نیٹرم سلف: شوگر / ذیابیطس / ذیابیطس کے ساتھ سانس کی تکلیف، کھانسی اور دمہ کی تکلیف
پنکریاٹینم: خون میں شوگر کی زیادتی
نیٹرم میور: جلد کی خشکی، سارے جسم میں خارش، افسردگی، پریشانی بھری پرانی باتیں مستقل پریشان کریں۔ جمائیاں آتی ہیں۔ ہر ایک گھنٹے بعد پیشاب کی حاجت۔
موسکس: نامردی، اعصابی کمزوری
ارجنٹم نائیٹریکم: پیشاب میں شوگر کی زیادتی۔ میٹھا کھانے سے پرہیز ممکن ہی نہ ہو۔
ارجنٹم میٹ: اگر ٹخنے متورم ہو جائیں اور چلنے میں درد ہو
اوپیم: غشی، سکتہ اور سُستی کی کیفیت
یورینیم نائیٹریکم: معدہ کی پُرانی تکالیف سے۔ زبان کی بے پناہ خشکی اور شدید بھوک کا احساس
ایسٹک ایسڈ: اچھی خوراک کے باوجود کمزوری، پیشاب کی بہت زیادتی
آرسینک البم: گنگرین، بے حد بے چینی، چھوٹی چھوٹی بات پر غصہ اور آوازاری کا مزاج
فاسفورک ایسڈ: پیشاب کی زیادتی (خاص طور پر رات کو بہت زیادہ)، مردانہ اور اعصابی کمزوری
فاسفورس: میٹھے اور بہت زیادہ ٹھنڈے پانی طلب۔ کمزوری ختم کرنے کے لئے ہر وقت کچھ نہ کچھ کھانے کی طلب ہو۔ مریض راتوں کو اُٹھ کر کھانے کی تلاش کرے۔ لبلبہ کی خرابی
لیک ویکسینم ڈی: پیشاب کرنے کے بعد قطرے ٹپکیں۔ گاڑھے پیشاب کی بھی یہی دوا ہے
کاربو اینی میلس: موٹاپے کے باعث شوگر کا عارضہ لاحق ہو، اپھارہ اور قبض کا رجحان
پکرک ایسڈ: مریض ہر وقت لیٹا رہے۔ بہت زیادہ کمزوری – خاص طور ذہن کی تھکاوٹ
انسولینم: لبلبے کی خرابیوں کی وجہ سے

یہ شوگر کے مریضوں کے علاج میں استعمال ہونے والی اہم ہومیوپیتھک دوائیں ہیں تاہم صحیح علاج کے لئے ضروری ہے کہ اپنے اعتماد کے ڈاکٹر سے اپنا کیس تفصیلی ڈسکس کریں تاکہ صحیح دوا، اُس کی پوٹینسی اور خوراک کا انتخاب ممکن ہو سکے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں