کراچی میں بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنےکی حکومت سندھ کی درخواست مسترد

الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے کراچی میں بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کی حکومت سندھ کی درخواست مسترد کرتے ہوئے پولیس نفری کی تعیناتی یقینی بنانے کی ہدایت کردی۔الیکشن کمیشن کا اہم اجلاس چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کی زیر صدارت ہوا جس میں اراکین الیکشن کمیشن کے علاوہ سیکریٹری الیکشن کمیشن، سینئر افسران اور صوبائی الیکشن کمشنرز نے وڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔دوران اجلاس الیکشن کمیشن کو سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں کراچی ڈویژن کے انتخابات کے حوالے سے بریف کیا گیا جن کا انعقاد 23 اکتوبر 2022 کو مقرر ہے۔مزید پڑھیں: کراچی میں بلدیاتی انتخابات: سندھ پولیس نے سیکیورٹی دینے سے معذرت کرلی الیکشن کمیشن کو بتایا گیا کہ صوبائی حکومت نے خط ارسال کیا ہے جس میں یہ کہا گیا ہے کہ کراچی کے بلدیاتی انتخابات کے دوران پولیس کی نفری پوری نہیں ہے اور اندرونِ سندھ سے بھی پولیس کی نقل و حمل ممکن نہیں کیونکہ دیگر اضلاع میں پولیس فلڈ ریلیف کی کارروائیوں میں مصروف ہے، لہٰذا بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کو 3 ماہ کے لیے ملتوی کیا جائے۔اس پر الیکشن کمیشن نے واضح کیا کہ مقررہ تاریخ پر بلدیاتی انتخابات کا انعقاد الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے۔انہوں نے اس درخواست پر جائزہ لینے کے بعد حکومت سندھ کی کراچی میں بلدیاتی انتخابات کے التوا کی درخواست مستر د کردی۔الیکشن کمیشن نے کہا کہ الیکشن کے دوران امن و امان کو برقرار رکھنا صوبائی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری ہے، لہٰذا صوبائی حکومت کراچی ڈویژن میں الیکشن کے دوران ان اضلاع سے پولیس کی تعیناتی کو یقینی بنائے جہاں پر صورت حال بہتر ہے۔الیکشن کمیشن نے کہا کہ کراچی کے ان اضلاع میں تمام حساس ترین پولنگ اسٹیشنوں پر بھی بلدیاتی انتخابات کے پرامن انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے پاک فوج یا رینجرز کی تعیناتی کے لیے الیکشن کمیشن وزارت داخلہ اور وزارت دفاع سے رابطے میں ہے ۔الیکشن کمیشن کو بتایا گیا کہ الیکشن کمیشن نے ضمنی انتخابات کے انعقاد کے لیے وفاقی حکومت سے 60 کروڑ روپے کی رقم کے لیے کہا تھا لیکن ابھی تک یہ فنڈز الیکشن کمیشن کو مہیا نہیں کیے گئے ۔اس موقع پر الیکشن کمیشن نے تشویش کا اظہار کیا اور خدشہ ظاہر کیا کہ الیکشن کمیشن کو فنڈز کی فراہمی بروقت نہ کی گئی تو الیکشن کا انعقاد ممکن نہ ہوگا، تاہم یہ معاملہ وزیر اعظم آفس اور وزارت خزانہ کے سامنے بھی رکھا جا چکا ہے۔علاوہ ازیں، بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے لیے بھی مطلوبہ رقم کا صرف 25 فیصد الیکشن کمیشن کو مہیا کیا گیا ہے جبکہ بقایا رقم الیکشن کمیشن کو ابھی تک فراہم نہیں کی گئی جس کی وجہ سے بلدیاتی انتخابات کے انعقاد میں بھی الیکشن کمیشن کو مشکلات کا سامنا ہے۔سیکرٹری الیکشن کمیشن نے الیکشن کمیشن کو بتایا کہ قومی اسمبلی کے 9 اور صوبائی اسمبلی پنجاب کے تین 3 حلقوں میں ضمنی انتخابات کا انعقاد 16 اکتوبر 2022 کو ہو رہا ہے اور اس سلسلے میں الیکشن کمیشن نے انتظامات مکمل کر لیے ہیں۔ اس پر الیکشن کمیشن نے اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ انتخابات کے پر امن انعقاد کے لیے الیکشن کمیشن نے پاک فوج ، رینجرز اور فرنٹیر کور کی تعیناتی کے لیے وزارت دفاع اور وزارت داخلہ کو چٹھیاں ارسال کی ہوئی ہیں اور ان سے رابطے میں ہے ۔الیکشن کمیشن نے کہا کہ دونوں وزارتوں سے دوبارہ رابطہ کیا جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ پاک فوج رینجرز یا فرنیٹر کور کی تعیناتی تمام حساس ترین پولنگ سٹیشنوں کے باہر ہونا ضروری ہے تاکہ ووٹروں کو پرامن ماحول مہیا کیا جا سکے۔واضح رہے کہ 3 اکتوبر کو سندھ پولیس نے سیلاب زدہ علاقوں میں پولیس نفری کی تعیناتی کا سبب بتاتے ہوئے کراچی رینج میں بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کے دوران فول پروف سیکیورٹی دینے سے معذرت کرلی تھی۔سندھ پولیس کی طرف سے محکمہ داخلہ سندھ کے ایڈیشنل سیکریٹری کو لکھے گئے خط میں کہا گیا تھا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے 23 اکتوبر کو کراچی رینج میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کا اعلان کیا ہے، تاہم پولیس نفری کی تیعناتی سیلاب زدہ علاقوں میں ہونے کہ وجہ سے فول پروف سیکیورٹی فراہم کرنا ناممکن ہے۔ خط میں لکھا گیا کہ جائزہ لینے کے بعد یہ سامنے آیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن پر ضرورت کے مطابق 16 ہزار 786 پولیس اہلکاروں کی قلت ہے جس کی وجہ سے بلدیاتی انتخابات میں سیکیورٹی فراہم کرنا ناممکن ہے۔بعدازاں، سندھ حکومت نے پولیس کی طرف سے لکھا گیا خط الیکشن کمیشن کو ارسال کرتے ہوئے کراچی میں بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کی درخواست کی تھی۔ ۔ واضح رہے کہ الیکشن کمیشن کی طرف سے کراچی میں 23 اکتوبر کو بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کا اعلان کیا گیا ہے۔اس سے قبل 26 جون کو پہلے مرحلے میں سکھر، لاڑکانہ، شہید بینظیر آباد اور میرپورخاص ڈویژن کے کُل 14 اضلاع میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ہوا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں