کراچی: ستمبرمیں ڈینگی کے6 ہزار سےزائد مصدقہ کیسز رپورٹ

کراچی میں ماہ ستمبر کے دوران مہلک ڈینگی وائرس کے 6 ہزار سے زائد مصدقہ کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ زیادہ تر اموات بھی اسی مہینے رپورٹ ہوئیں۔ محکمہ صحت کے عہدیدار نے بتایا کہ گزشتہ روز کورنگی سے تعلق رکھنے والا ایک شخص ڈینگی بخار کے باعث نجی اسپتال میں دم توڑ گیا۔سرکاری اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ سندھ میں اب تک رپورٹ ہونے والے کُل 9 ہزار 826 ڈینگی بخار کے کیسز میں سے 74 فیصد ستمبر میں ریکارڈ کیے گئے، اس لحاظ سے یہ مہینہ رواں سال ڈینگی سے ہونے والی اموات کے حوالے سے مہلک ترین ثابت ہوا ہے۔اعداد و شمار کے مطابق، کراچی ڈویژن میں 6 ہزار 53 تصدیق شدہ کیسز میں سے ایک ہزار 9800 صلع شرقی سے رپورٹ ہوئے، اس کے بعد ضلع وسطی سے ایک ہزار 368 کیسز،کورنگی سے ایک ہزار 112 کیسز، ضلع جنوبی سے 846 کیسز، ملیر سے 369 کیسز، کیماڑی سے 192 کیسز اور ضلع غربی سے 186 کیسز رپورٹ ہوئے۔ ذرائع کے مطابق صوبے میں گزشتہ چند ماہ کے دوران ڈینگی وائرس سے 39 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، ان میں سے صرف کراچی میں 36 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، زیادہ تر اموات ستمبر میں رپورٹ ہوئیں۔گزشتہ سال سندھ میں ڈینگی سے 17 اموات ہوئیں جبکہ 2019 میں 46 اموات ہوئیں، محکمہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق 3 مریض 2020 میں ڈینگی کے سبب وفات پا گئے۔ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ شہر کے ہسپتالوں پر مسلسل دباؤ برقرار ہے کیونکہ ڈینگی کیسز کی تعداد میں کوئی کمی نہیں آرہی۔ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز میں سندھ پبلک ہیلتھ لیب کے سربراہ اور مالیکیولر پیتھالوجی کے پروفیسر ڈاکٹر سعید خان نے بتایا کہ ‘ہم نے گزشتہ 4 ماہ کے دوران یونیورسٹی کی مرکزی لیبارٹری میں ڈینگی کے کیسز کی تعداد میں بتدریج اضافہ دیکھا ہے، امکان ہے کہ یہ شرح اکتوبر کے وسط تک عروج پر پہنچ جائے گی’۔ تاہم انہوں کہا کہ موسمی حالات اس شرح کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے، سرد خشک موسم کی جلد آمد یقینی طور پر صورتحال کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوگی اور دسمبر کے مہینے میں ڈینگی کیسز کی تعداد میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئے گی۔ ڈاکٹر سعید خان کے مطابق جو مریض پہلے اس بیماری سے متاثر ہو چکے ہیں وہ دوسرے ‘سیرو ٹائپ’ سے دوبارہ انفیکشن کی صورت میں زیادہ شدت سے بخار میں مبتلا ہو سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ‘وائرس کے 4 مختلف سیرو ٹائپس ہیں جو ڈینگی کا سبب بنتے ہیں، خیال کیا جاتا ہے کہ ڈینگی سے صحتیابی اس سیرو ٹائپ کے خلاف تاحیات استثنیٰ فراہم کرتی ہے، ہمارے ملک میں سیروٹائپ-2 زیادہ عام ہے، ڈینگی کے پہلے حملے میں تیار ہونے والی اینٹی باڈیز دیگر سیرو ٹائپ کے سبب ہونے والے انفیکشن سے صحتیابی میں سہولت فراہم کرتی ہیں’۔ فی الحال سندھ کے متعدی امراض کے اسپتال اور ریسرچ سینٹر (ایس آئی ڈی ایچ آر سی) میں علاج کے لیے داخل ہونے والے کُل 147 مریضوں میں سے 70 ڈینگی اور 15 ملیریا کے مریض ہیں، ستمبر میں ہسپتال میں ڈینگی بخار کے مریضوں کی تعداد 150 سے بڑھ کر 300 تک پہنچ گئی۔ ایس آئی ڈی ایچ آر سی کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر عبدالواحد راجپوت نے کہا کہ ‘ہمارے پاس ڈینگی بخار سے اب تک ایک موت ہوئی ہے، ایک 10 سالہ بچی کو تشویشناک حالت میں ہمارے پاس لایا گیا اور وہ کم از کم 3 سے 4 روز وینٹی لیٹر پر رہی’۔ انہوں نے مزید کہا کہ تقریباً 90 فیصد مریض بغیر کسی سنگین پیچیدگی کے صحت یاب ہوئے اور 10 فیصد سے بھی کم کیسز میں خون کی منتقلی کی ضرورت پڑی۔ ڈاکٹر عبدالواحد راجپوت نے امید ظاہر کی کہ اکتوبر میں کیسز کم ہونے کا امکان ہے کیونکہ رواں مہینے بارش کا کوئی امکان نہیں ہے اور مختلف علاقوں سے پانی کی نکاسی جاری ہے۔ پاکستان کی متعدی امراض سوسائٹی کے صدر ڈاکٹر رفیق خانانی کے مطابق رواں برس ڈینگی وبا نے کراچی کے تمام علاقوں اور معاشرے کے تمام طبقات کو متاثر کیا۔ مزید پڑھیں: کراچی میں ڈینگی سے 27 اموات، ماہرینِ صحت کا اعدادوشمار پر شکوک کا اظہار انہوں نے کہا کہ ‘پہلے یہ کیسز چند قصبوں تک محدود ہوتے تھے لیکن رواں برس اس بیماری نے پورے شہر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور ہسپتالوں میں بستر ختم ہو گئے ہیں’۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس وبا کے اثرات کا بڑا تعلق شہر میں صفائی کی ناقص صورتحال اور کھانے کی خراب عادات سے ہے۔

کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں