چینی دھمکی کے باوجود امریکی کانگریس اسپیکر تائیوان پہنچ گئیں

چین کی متعدد دھمکیوں کے باوجود امریکی کانگریس کی اسپیکر نینسی پیلوسی تائیوان پہنچ گئیں۔ 82 سالہ نینسی پیلوسی کا دورہ تائیوان گذشتہ 25 سال کے دوران کسی اعلی ترین منتخب امریکی عہدیدار کا پہلا دورہ ہے۔نینسی پیلوسی کے دورہ تائیوان پر چین اور امریکہ کے درمیان شدید کشیدگی پائی جاتی ہے۔چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ہوا چن ینگ کا کہنا ہے کہ ’اگر نینسی پیلوسی تائیوان کا دورہ کرتی ہیں تو امریکہ کو اس کی قیمت چکانی ہو گی۔انہوں نے یہ بیان منگل کو بیجنگ میں ہونے والی ایک پریس کانفرنس کے دوران دیا۔منگل کو ہی چینی وزارت خارجہ کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے بیان میں چینی وزیر خارجہ وانگ یی کا کہنا تھا ’امریکہ کا تائیوان کے معاملے پر اعتبار توڑنا قابل مذمت ہے۔‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ امریکی سیاست دان جو تائیوان کے معاملے پر ’آگ سے کھیل رہے ہیں‘ ان کا ’انجام اچھا نہیں ہو گا۔‘ جبکہ امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ چین کے دھمکی آمیز بیانات سے مرعوب نہیں ہو گا۔ امریکی کانگریس کی سپیکر کے دورے سے قبل چینی طیارے منگل کو پورا دن آبنائے تائیوان میں پرواز کرتے رہے جبکہ چینی حکومت نے نینسی پیلوسی کے دورہ تائیوان کے خلاف کئی بار انتباہ جاری کیا ہے۔ نینسی پیلوسی کے دورے کی مصروفیات کے حوالے سے واقف ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ نینسی پیلوسی کی زیادہ تر ملاقاتیں بدھ کو طے ہیں جن میں تائیوان کے صدر سائی اینگ وین سے ملاقات بھی شامل ہے۔ تاہم تائیوان کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ وہ نینسی پیلوسی کی مصروفیات کے حوالے سے کچھ نہیں کہنا چاہتے جبکہ پیلوسی کا دفتر بھی اس معاملے میں خاموش ہے۔ منگل کی رات کو تائیوان کی سب سے اونچی عمارت تائی پے 101 کو بھی ’ویلکم ٹو تائی وان، سپیکر پیلوسی، تائیوان امریکہ دوستی‘ کے نعرے سے سجایا گیا۔امریکی سپیکر جس جہاز میں سوار تھیں وہ دن چار بجے کے قریب ملائیشیا سے روانہ ہوا جب کہ پروازوں کی ٹریکنگ کرنے والی ویب سائٹ فلائٹ ریڈار 24 پر بھی ان کی پرواز کی لمحہ بہ لمحہ خبر رکھی گئی۔ گذشتہ ہفتے کے دوران چین کی پیپلز لبریشن آرمی نے جنوبی چین کے سمندر میں مختلف قسم کی جنگی مشقیں کی ہیں جو چین کی فوجی قوت کا اظہار تھا۔واضح رہے کہ آبنائے تائیوان ایسی آبی گزر گاہ ہے جہاں سب سے زیادہ تعداد میں فوج تعینات ہے اور یہاں سینکڑوں چینی اور تائیوانی جہاز گشت کرتے رہتے ہیں۔تائیوان میں خود مختار حکومت قائم ہے لیکن چین کا دعویٰ ہے وہ اس کا صوبہ ہے جو الگ ہو گیا تھا۔ حالیہ ہفتوں میں چین کی جنگی مشقوں کے علاوہ امریکہ نے بھی اپنے جنگی جہاز جنوبی چین کے سمندر میں گشت کے لیے بھیجے ہیں جن میں طیارہ بردار جہاز بھی شامل ہے تاہم امریکہ نے اس تعیناتی کو ’معمول کی تعیناتی‘ قرار دیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں