چکوال کےبعدعمران ریاض خان سی آئی اے کی تحویل میں

لاہور پولیس کی ایک ٹیم نے اینکر پرسن عمران ریاض خان کو چکوال سے گرفتار کر کے سول لائنز تھانے میں درج مقدمے میں سٹی کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (سی آئی اے) کے حوالے کر دیا ہے۔یہ مقدمہ لاہور کے علاقے فیض باغ کے رہائشی محمد آصف نامی شہری نے بغاوت پر اکسانے اور ریاستی اداروں پر تنقید کے الزام میں درج کرایا تھا۔ اٹک پولیس کی جانب سے منگل کی رات اسلام آباد کے قریب سے حراست میں لیےگئے صحافی کو جمعرات کی صبح مقامی عدالت نے ریلیف دے دیا تھا تاہم چکوال پولیس کی ایک ٹیم نے انہیں کمرہ عدالت کے باہر سے ہی گرفتار کر لیا۔ انہیں لاہور منتقل کرنے سے قبل ضلع چکوال کی مقامی عدالت نے ان کے جوڈیشل ریمانڈ کی اجازت دی تھی۔عمران ریاض خان کے خلاف منظر عام پر آنے والی تازہ ترین ایف آئی آر میں شکایت کنندہ نے الزام لگایا کہ وہ انٹرنیٹ براؤز کر رہے تھے جب اس نے صحافی کا ایک ویڈیو کلپ دیکھا جس میں پاکستانی فوج پر تنقید کی گئی، محمد آصف نے الزام لگایا کہ عمران ریاض نے فوج پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور سیاست میں ملوث ہو کر ریاست کو نقصان پہنچانے کا الزام لگایا تھا۔شکایت کنندہ نے الزام لگایا کہ عمران ریاض نے کہا تھا کہ فوج نے پاکستان کی سالمیت کو داؤ پر لگا دیا ہے، صحافی نے فوج کے افسران اور دیگر اہلکاروں کو اکسانے کا جرم کیا۔ شکایت کنندہ نے بتایا کہ حال ہی میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون میں اہم کردار ادا کرنے پر کنگ عبدالعزیز میڈل سے نوازا تھا۔ محمد آصف نے ایف آئی آر میں الزام لگایا کہ صحافی نے اپنی ویڈیو میں سعودی حکومت کے فیصلے کا بھی مذاق اڑایا کہ جنرل باجوہ پاکستان میں موجودہ حکومت کے لیے مملکت کی مالی مدد لینے ریاض گئے تھے۔دریں اثنا، ایک عہدیدار نے بتایا کہ پولیس نے صحافی کو پوچھ گچھ کے لیے سی آئی اے کوتوالی پولیس کے حوالے کر دیا، انہیں آج ڈیوٹی مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ دوسری جانب عمران ریاض خان کے وکیل میاں علی اشفاق نے الزام لگایا کہ پولیس نے ان کے مؤکل کو نامعلوم مقام پر منتقل کرنے کی پوری کوشش کی لیکن ان کے دوستوں اور بھائیوں نے اس کوشش کو ناکام بنا دیا، انہوں نے کہا کہ صحافی کو پنجاب بھر کے مختلف تھانوں میں 20 سے زائد فوجداری مقدمات میں نامزد کیا گیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں