پی ٹی آئی میجرجنرل فیصل نصیرسےپس پردہ مذاکرات کرتی رہی،خرم حمید روکھڑی کاانکشاف

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما میجر (ریٹائرڈ) خرم حمید خان روکھڑی نے پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان ’پس پردہ مذاکرات‘ کا انکشاف کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم عمران خان کے سینئر انٹیلی جنس افسر میجر جنرل فیصل نصیر کے خلاف الزامات کو مسترد کرتے ہوئےکہا ہے کہ جنرل فیصل نصیر ایک اصولی اور پیشہ ورانہ آدمی ہیں جو کبھی بھی کسی کو خوش کرنے کے لیے اپنی عزت کا سودا نہیں کریں گے۔خرم حمید خان روکھڑی کو، جو خود ایک سابق فوجی ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ عمران کے قریبی ساتھیوں میں سے ہیں اور پی ٹی آئی میں شمالی پنجاب میں اہم عہدے پر فائز ہیں، اس ہفتے کے اوائل میں پی ٹی آئی کی سینئر قیادت نے ایک ٹیلی ویژن پروگرام میں میجر جنرل فیصل نصیر کے حق میں مبینہ طور پر بولنے پر شوکاز نوٹس جاری کیا تھا۔ جمعرات کو نجی ٹی وی چینل کے انٹرویو میں خرم حمید خان نے کہا کہ شہباز گل کی گرفتاری کے چند دن بعد بنی گالہ میں ایک میٹنگ ہوئی تھی جس میں اس بات پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا کہ اسلام آباد میں ایک نیا افسر تعینات کیا گیا ہے جس کا مقصد ’پی ٹی آئی اور عمران خان کے بیانیے کو ختم کرنا‘ ہے۔انہوں نے بتایا کہ جب جنرل فیصل نصیر کا نام لیا گیا تو میں نے کہا کہ ایک منٹ رکو، میں جنرل نصیر کو اسی طرح جانتا ہوں جس طرح آپ جیو نیوز کے دوسرے لوگوں یا میڈیا میں کسی کو جانتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی رہنما سلمان احمد نے مجھ سے پوچھا کہ پھر آپ کیا کہنا چاہتے ہیں، اگلے دن وہ جہلم میں جلسے کے لیے جارہے تھے اور میں نے سلمان سے کہا کہ عمران خان کو بتاؤ میں یہاں سے راہیں جدا کرنے کا فیصلہ کر رہا ہوں۔انہوں نے کہا کہ اس پر سلمان نے عمران خان سے کہا کہ آپ کے قریبی ساتھی کی رائے جنرل فیصل نصیر کے بارے میں وہ نہیں جو آپ کی اور جو آپ کے آس پاس کے لوگوں کی ہے، جب عمران خان نے ان سے پوچھا کہ وہ شخص کون ہے تو سلمان نے جواب دیا کہ وہ میجر خرم ہیں۔اس کے بعد عمران خان نے سلمان احمد سے کہا کہ ان سے جنرل فیصل نصیر سے بات کرنے کا کہو۔ ان کا کہنا تھا کہ میں نے جنرل فیصل نصیر کو فون کیا اور بتایا کہ میں ان سے ملنا چاہتا ہوں، جب میں ان سے ملا تو میں نے ان سے پوچھا کہ کیا انہیں اسی وجہ سے تعینات کیا گیا ہے تو جنرل فیصل نے انہیں بتایا کہ انہیں 20 روز قبل اس دن تعینات کیا گیا تھا جس دن جنرل سرفراز کی شہادت ہوئی تھی۔خرم حمید نے کہا کہ جنرل فیصل نصیر نے جواب دیا کہ میں ایک پیشہ ورانہ آدمی ہوں، میں ایسا کیوں کرنا چاہوں گا، عمران خان پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے رہنما ہیں، وہ ملک کے ہیرو ہیں، میں یہ کیوں چاہوں گا، اور اگر کوئی عمران کو یہ بتا رہا ہے، تو براہ کرم اسے جاکر بتائیں کہ ایسا کچھ نہیں ہے۔ منحرف پی ٹی آئی رہنما نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے اس گفتگو کا احوال پارٹی قیادت تک پہنچایا جس کے بعد انہیں ہدایت کی گئی کہ وہ ’خلا کو پُر کریں‘ اور جنرل نصیر سے ایک اور ملاقات کریں۔ریٹائرڈ فوجی افسر نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ دوسری میٹنگ میں انٹیلی جنس افسر نے کہا کہ ادارہ ان لوگوں اور لیڈر کی قدر کرتا ہے جسے انہوں نے منتخب کیا، جنرل فیصل نصیر نے مجھے یقین دلایا کہ ان کی طرف سے کوئی رکاوٹ نہیں آئے گی اور درخواست کی کہ فوجی قیادت کو بدنام نہ کیا جائے۔انہوں نے بتایا کہ اس کے ساتھ ساتھ ایک تیسری میٹنگ بھی ہوئی جہاں سابق میجر، سلمان احمد کے ساتھ عمران خان کے ترجمان کے طور پر موجود تھے، وہ اور سلمان دونوں پارٹی اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان کشیدگی کو کم کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم انتخابات کی طرف جانا چاہتے تھے تاکہ عمران دو تہائی اکثریت سے جیتیں، عمران خان کی اصل طاقت ووٹ ہے۔خرم حمید نے انکشاف کیا کہ پارٹی کے معطل رہنما فیصل واڈا بھی ایسا ہی کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ تیسری ملاقات کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ بات چیت کو آگے بڑھایا جائے گا اور عمران اور جن کا وہ آج نام لے رہے ہیں، ان کے درمیان ملاقات کرائی جائے۔ان کا کہنا تھا کہ انہیں اسلام آباد میں عمران خان کی رہائش گاہ پر دو بار ملاقات کے لیے بلایا گیا لیکن ’دیگر ملاقاتوں‘ کی وجہ سے پی ٹی آئی کے سربراہ ان سے ملاقات نہیں کر سکے، جب انہوں نے مجھے تیسری بار بلایا تو میں نے انکار کردیا۔ انٹرویو کے دوران ایک موقع پر ریٹائرڈ میجر نے یہ بھی کہا کہ عمران خان کے ارد گرد گھومنے والے کچھ لوگ انہیں گمراہ کر رہے ہیں، سابق وزیر اعظم کی ایک خیر خواہ ان کی بہن علیمہ خان تھیں لیکن انہوں نے کبھی بھی ان کی بات نہیں سنی۔انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان کو توشہ خانہ ریفرنس میں غلط طور پر سزا سنائی گئی اور کہا کہ جنرل نصیر کا شہباز گل پر حراست میں ہونے والے تشدد سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں