پی ٹی آئی نےڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کیخلاف سپریم کورٹ رجسٹری میں درخواست دائر کردی

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور مسلم لیگ (ق) نے پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر دوست مزاری کی رولنگ کے خلاف سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں درخواست دائر کردی۔ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ق کے رہنما چوہدری پرویزالہٰی کی جانب سے ایڈووکیٹ عامرسعید راں نے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں درخواست دائر کی۔ درخواست میں حمزہ شہباز، ڈپٹی اسپیکر اور چیف سیکرٹری کو فریق بنایا گیا۔دوسری جانب پی ٹی آئی کے رہنما فواد چوہدری نے پارٹی کی جانب سے ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ کے خلاف سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں درخواست دائر کرنے کی تصدیق کی۔انہوں نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف کی پٹیشن داخل ہو گئی ہے،اس پر نمبر لگ رہا ہے اور سماعت کیلئے مقرر کی جائیگی۔ ہمیں سپریم کورٹ سے انصاف کی امید ہے۔ رپورٹس کے مطابق پی ٹی آئی نےدرخواست میں ڈپٹی اسپیکر کی گنتی کو بھی چیلنج کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ مسلم لیگ ن کے 7 ارکان ووٹ کاسٹ کرنے ہی نہیں آئے۔ یہ 7 لیگی ارکان گھروں میں بیٹھے رہے اور ان کا ووٹ بھی انتخاب میں شمار کر لیا گیا۔ بعد ازاں فواد چوہدری نے بتایا کہ اسپیکر کے غیر آئینی اقدام کے خلاف پٹیشن کی سماعت آج صبح دس بجے ہو گی۔ اس کے علاوہ ایڈووکیٹ عامر سعید راں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی غلط تشریح کی، چیف جسٹس غیر آئینی اقدام پر ازخود نوٹس لیں۔ عامر سعید راں کا کہنا تھا کہ جب تک چیف جسٹس عدالت نہیں آجاتے تب تک یہیں بیٹھے ہیں۔ دوسری جانب ڈپٹی رجسٹرار اعجاز گورایا کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ کے انتخاب کے خلاف پرویز الہیٰ کی درخواست چیف جسٹس کو بھجوا دی ہے۔ڈپٹی رجسٹرار کے مطابق سماعت کب ہو گی اس کا فیصلہ چیف جسٹس نے کرنا ہے۔ واضح رہے کہ ن لیگ کے امیدوار حمزہ شہباز دوبارہ وزیراعلیٰ پنجاب منتخب ہوگئے جبکہ پرویز الہیٰ کو پھر شکست کا سامنا کرنا پڑا۔پنجاب اسمبلی میں وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کیلئے گزشتہ روز ووٹنگ ہوئی جس میں حمزہ شہباز نے اکثریت کی حمایت حاصل کرلی۔وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کیلئے پنجاب اسمبلی کا اجلاس تقریباً پونے تین گھنٹے کی تاخیر سے شام 7 بجے شروع ہوا جس کے بعد ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری نے ووٹنگ کا عمل شروع کرایا۔ ووٹنگ کے نتیجے کے مطابق پی ٹی آئی کے امیدوار پرویز الہیٰ نے 186 ووٹ لیے جبکہ مسلم لیگ ن کے حمزہ شہباز نے 179 ووٹ لیے۔تاہم ووٹنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد ڈپٹی اسپیکر دوست مزاری نے ق لیگ کے سربراہ چوہدری شجاعت کے خط کو پڑھ کر سنایا جس میں انہوں نے ق لیگ کے ارکان کو حمزہ شہباز کو ووٹ ڈالنے کی ہدایت کی تھی۔ ڈپٹی اسپیکر نے کہا کہ اس خط کے مطابق سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں جتنے بھی ووٹ ق لیگ کے کاسٹ ہوئے ہیں وہ مسترد ہوتے ہیں اور میں اس بات کا اعلان کرتا ہوں کہ 10 ووٹ ختم ہونے کے بعد حمزہ شہباز وزیراعلیٰ پنجاب منتخب ہوگئے ہیں۔ تاہم بعد ازاں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور مسلم لیگ (ق) نے وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب میں ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کے خلاف سپریم کورٹ جانے کا اعلان کیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں