پچاس فیصدبھارتی پارلیمینٹرین پرجرائم کےالزامات ہیں ، وزیراعظم سنگاپور

سنگاپور کے وزیراعظم لی ہسین لونگ نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارت کی لوک سبھا کے ‘تقریباً نصف’ اراکین پر جرائم کے الزامات ہیں لی ہسین لونگ نے بھارتی اراکین پارلیمنٹ کے حوالے سے یہ بیان سنگاپور کی پارلیمنٹ میں اپوزیشن کے ایک رکن پر الزامات سے متعلق بحث کے دوران دیا۔اسٹریٹ ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق سنگاپور کے وزیراعظم نے اراکین اسمبلی کو کام کرنے کے لیے اچھے اقدار اور رویات پر مبنی جمہوری نظام کی ضرورت، حکومت پر عوام کے اعتماد کی اہمیت اور دیگر چیزوں پر بات کی۔ انہوں نے کہا کہ ‘اکثر ممالک کی بنیاد رکھی گئی اور آغاز بڑے اخلاقی اقدار اور عظیم رویاکی بنیاد پر ہوا لیکن اس کے بعد بانی رہنماؤں اور بنیادیں رکھنے والی نسل سے ماورا دہائیوں اور نسلوں کے بعد چیزیں بتدریج تبدیل ہوئیں’۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘چیزیں مکمل شدت کے ساتھ شروع ہوئیں، جو قیادت آزادی کے لیے لڑی اور جیت گئی تھی وہ عظیم حوصلے اور غیرمعمولی قابلیت کی حامل انفرادی شخصیات تھیں’۔تاریخی شخصیات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘وہ آگ کی بھٹی سے گزرے اور عوام اور قوم کی قیادت کی، وہ ڈیوڈ بین گوریئنز، جواہرلال نہرو تھے اور ہمارے اپنے قائدین بھی ہیں’۔انہوں نے اسرائیل اور بھارت کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ تاہم ان کے بعد کی نسلیں اس رفتار کو برقرار رکھنے کے لیے جدوجہد کرتی رہیں۔ سنگاپور کے وزیراعظم نے کہا کہ ‘بین-گوریئن کا اسرائیل اس قدر بدل گیا ہے جہاں دو سال میں 4 دفعہ انتخابات کے باوجود بمشکل ایک حکومت تشکیل پاتی ہے’۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل میں سینئر سیاست دانوں اور عہدیداروں کو جرائم کے الزامات کا سامنا ہے اور ان میں سے چند جیل جاچکے ہیں۔ لی ہسین لونگ نے کہا کہ ‘دوسری طرف نہرو کے بھارت اس طرح بن گیا ہے جہاں میڈیا کی رپورٹس کے مطابق لوک سبھا میں تقریباً نصف اراکین کے خلاف جرائم کے الزامات زیر التوا ہیں، جس میں ریپ اور قتل کے الزامات شامل ہیں’۔ انہوں نے کہا کہ تاہم ان میں سے کئی سیاسی طور پر عائد کیے گئے الزامات ہیں۔ بعد ازاں بھارت میں تعینات سنگاپور کے سفیر کو طلب کرکے ان سے وزیراعظم کے بیان کی وضاحت مانگی گئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں