پراپرٹیز کےجعلی کاغذات بنانے والےگروہ کے3 افرادگرفتار

شاہراہِ نور جہاں پولیس کی بڑی کاروائی- سرکاری ۔و۔اہم اداروں سمیت عدالتوں میں پاپرٹیز کےجعلی کاغذات بنانے والےگروہ کے 3 کارندوں کو پولیس نے گرفتار کر لیا۔ گرفتار ملزمان میں رئیس احمد ولد صغیر احمد -خلیل احمد عرف آصف ولد حبیب رضا خان۔ محمد چاند ولد محمد عمر اللہ شامل ہیں گروہ کا سرغنہ خلیل ڈکیتی کی متعدد وارداتوں سمیت قتل کے مقدمے میں پہلے بھی جیل جاچکا ہے ۔ملزم خلیل گرفتار ملزمان کی ضمانت سمیت جعلی شیورٹی جعلی بائیو میٹرک کے کاغذات بھی تیار کرتا تھا -ملزم سرکاری افسران کے گھروں کی ریکی کرکے دیگر ساتھیوں کی مدد سے ڈکیتی کرواتا تھا ۔ڈکیتی کی منصوبہ بندی سٹی کورٹ کی کینٹین میں کی جاتی تھی۔ ملزم نے بتایا کہ اے سی ایل سی کا ایک افسر خضر حیات بھی ڈکیتی کی واردات میں ملزم اور دیگر ڈکیتوں کی معاونت کرتا تھا اور اسلحہ و گاڑیاں مہیا کرتا تھا۔خضر حیات نے چند ججز کی ریکی بھی کروائی تھی جن پر اسے سزا دینے پر غصہ تھا ۔سٹی کورٹ کے متعدد پیشکار بھی ملزم کی معاونت کرتے ہیں اور اپنا حصہ یعنی آدھا پیسہ لیتے ہیں۔ معاون کورٹ پیشکار میں آفاق، امجد، سلمان، اللہ بخش، منیر اور سلیم بیگ وغیرہ شامل ہیں ۔ملزم خلیل جیل میں موجود طالبان کمانڈرز کے بارے میں بھی اہم انکشافات کیے۔ جیل میں طالبان کمانڈرز سے ملنے انکی فیملی نہیں بلکہ طالبان جعلی شناختی کارڈ کی مدد سے ملنے آتے ہیں ۔ یہ افراد کوڈ ورڈ میں احکامات اور نیا ٹارگٹ بھی دیتے ہیں ۔شہر میں دہشت گردی کب اور کہاں کرنی ہے جیل کے اندر احکامات دیے جاتے ہیں ملزم رئیس کراچی شہر میں پلاٹوں کی جعلی فائلیں بناکر فروخت کرتا اور قبضہ مافیہ، پورشن مافیا کے سہولتکار بنا ہوا تھا ملزمان گزشتہ کئی سالوں سے کے ڈی اے اور کے ایم سی اور دیگر متعلقہ اداروں کے اہلکاروں کے ساتھ مل کر جعلسازی کرتے ہوئے پلاٹوں کی جعلی فائیلیں بناکر فروخت کیا کرتے تھے۔ ملزمان نے دوران تفتش بتلایا کہ کے بعض افسران سے ان کے ذاتی تعلقات ہیں جن کو وہ پلاٹ نمبر بتاتے ہیں تو وہ اس پلاٹ کے کاغذات کی ریکارڈ کاپی سوا لاکھ روپے سے دولاکھ روپے لیکر انہیں مہیا کرتے ہیں۔کے ڈی اےافسران میں مظہر کالا ، خالد عرف کاشف، ندیم و بروکر شاہد ، منصور، باسط، جمیل عرف کالا ودیگر لوگ شامل ہیں- کے ایم سی کی پرانے تاریخوں کی جعلی موٹیشن ایک لاکھ روپے میں اور اوریجنل جے سی موٹیشن ریکارڈ والی آٹھ سے دس لاکھ روپے میں ریکارڈ انچارج اظہر سے کرواتے ہیں۔۔ پلاٹ کی فوٹو کاپیاں حاصل کرکے لیز فائل کے اوپر جعلی سیل ڈیڈ بناکر آگے پارٹیوں کو 30 فیصد پر فروخت کرتے ہیں۔ ٹرانسفر فائیلوں پر جعلی پاوریں لگا کر اور رجسٹرار آفس میں رشوت کا استعمال کرتے ہوئے رجسٹریاں کرادیتے ہیں۔۔ ان فائلوں کو آگے فروخت کرتے ہیں۔۔ فائلوں کو آگے فروخت کروانے میں علاقہ کہ کچھ بلڈرحضرات بھی شامل ہیں اور ان کی خصوصی معاونت حاصل ہیں اور بلڈر حضرات کی طرف سے مہیا کیا گئے کاغذات /فائل متعلقہ اداروں سے درست کرواکر انہیں دیتے ہیں بلڈروں میں سرفہرست کاشف انڈا، علی میمن ، ازباہان اور اسکے پارٹنر نعمان اورعثمان شامل ہیں ۔۔ علی میمن جوکہ ٹوٹل دونمبر پلاٹوں پر بیلڈنگیں بناتا ہے اور اپنے آپ کو کسی ڈی ایس پی کا بھائی بھی ظاہر کرتاہے۔۔ کے ڈی اے کی موٹیشن کرانے کیلئے سینٹر ریکارڈ کا جعلی سرچ سرٹیفیکٹ کا استعمال کرتے ہیں اور کے متعدد افسران باقاعدگی سے رقم لیکر موٹیشن کا کام سرانجام دیتے ہیں جس میں کلرک سے لیکر اسسٹنٹ ڈائریکٹر،ڈپٹی ڈائریکٹراور ڈائریکٹر شامل ہوتے ہیں۔۔ اور متعدد پلاٹس کی نشاندہی کے ڈی اے کے افسران ہمیں کرتے ہیں۔۔جن پلاٹو ں پر موٹیشن بنوانے میں پریشانی ہوتی ہیں تو ان پلاٹس پر بلڈرز کے ساتھ مل کر پورشن بناکر سیل ڈیڈ کرادیتے ہیں۔۔ اسکے علاوہ سرجانی ٹاون کے لاتعداد پلاٹس کے جعلی فائیلیں بناکر آگے پارٹیوں کو فروخت کی ہیں۔۔ ہرعلاقے میں کام کرنے والا ایک مخصوص گروپ ہے ، نارتھ کراچی میں قمرقریشی ، نوید کالا ، عمران اور منا منشیات سرفہرست ہیں۔۔ملزم چاند کریم آباد مارکیٹ میں اسٹیمپ اور ڈاکومنٹیشن کا کام کرتا تھا-ملزم 15/16 سال سے جعلی اسٹیمپ اور جعلی ڈاکومینٹیشن کا کام کر رہا ہے ۔۔ملزم جعلی سیل ڈیڈ جعلی الاٹمنٹ جعلی سرچ سرٹیفکیٹ ہر طرح کے جعلی سرکاری کاغذات اور مہریں بنانے کا ماہر ہے ۔۔ ملزم چاند نے سینکڑوں مکانات اور پلاٹوں کے کاغذات جو بالکل اصل جیسے ہوتے ہیں بناکر قبضہ مافیا اور لینڈ گریبر کو فروخت کیے ہیں۔ملزم چاند اس سے قبل بھی گرفتار ہوچکا ہے۔۔ ملزمان سے ذیل پلاٹوں کی جعلی فائیلیں بھی برآمد ہوئی ہیں جبکہ 200 سے زائد سرکاری اداروں عدالتوں، بینک ڈپٹی کمشنر بینکس کی مہریں برآمد ہوئی ہیں ۔۔ # 1۔ پلاٹ نمبر R-219، بلاک 13گلستان جوہر کراچی۔ 2 ۔ پلاٹ نمبرA-124، بلاک H نارتھ ناظم آبادکراچی رقبہ233 گز۔ 3۔ پلاٹ نمبر11/14 ، بلاک 4 ناظم آبادکراچی۔رقبہ 422 گز۔ 4۔ پلاٹ نمبر R-370 ، سیکٹر 9 نارتھ کراچی۔ 5۔ پلاٹ نمبر 17/1، سیکٹر 9نارتھ کراچی۔ 6۔ پلاٹ نمبر A-204، بلاک 2 گلشن اقبال کراچی۔ 7۔ پلاٹ نمبر LS-530 ،ST-2B بلاک 6 FB ایریاکراچ رقبہ100گز۔ 8۔ پلاٹ نمبرR-69 ، سیکٹر 5-C-1 نارتھ کراچی۔ -9 پلاٹ نمبر A-473 ، سیکٹر 11-A نارتھ کراچی رقبہ 240 گز ۔ -10 پلاٹ نمبر A-474 ، سیکٹر 11-A نارتھ کراچی رقبہ 240 گز۔ -11 پلاٹ نمبر A-475 ، سیکٹر 11-A نارتھ کراچی رقبہ 240 گز۔ -12 پلاٹ نمبرA-476 ، سیکٹر 11-A نارتھ کراچی رقبہ 240 گز۔ – 13 پلاٹ نمبرB-10 ، بلاک 16 گلستانِ جوہر اسکیم 36کراچی رقبہ 400 گز۔ – 14 پلاٹ نمبر R-369 ، بلاک 9 FB ایریا کراچی۔ – 15 پلاٹ نمبر B-147 ، بلاک W ناظم آباد 5 کراچی رقبہ 430 گز۔ – 16 پلاٹ نمبر B-6 ، بلاک W ناظم آباد 5 کراچی رقبہ 430 گز۔۔ – 17 پلاٹ نمبر C-43، بلاک 17 FB ایریا کراچی رقبہ 600 گز۔۔ – 18 پلاٹ نمبر 3-H(ii), 3/12 ناظم آباد 3 کراچی۔ – 19 پلاٹ نمبر C-3113 ، بلاک 2/14-A میٹروویل II کراچی۔۔ جسکا قبضہ ہوم ڈپارٹمنٹ کے جعلی سیکشن آفیسر کو دیا ہوا ہے۔۔ – 20 پلاٹ نمبر F-129 ، بلاک F نارتھ ناظم آباد کراچی رقبہ 2160 گز۔۔ -21 پلاٹ نمبر C-19 ، بلاک Q نارتھ ناظم آبد کراچی رقبہ 600 گز۔ -؛22 پلاٹ نمبر C-20 ، بلاک Q نارتھ ناظم آبد کراچی رقبہ 600 گز ۔۔ – 23 پلاٹ نمبر 1J 67/7 ناظم آباد 1 کراچی۔ -24 پلاٹ نمبر R-840 ، بلاک 20 ایریا کراچی۔۔ گرفتار شدہ ملزمان کے خلاف قانونی کاروائی عمل میں لاتے ہوئے مقدمات درج کئے گئے ہیں اور مزید تفتیش جاری ہے۔۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں