پاکستان پرایٹم بم گرانےسےمتعلق بیان،عمران خان کےخلاف مقدمےکی درخواست

لاہور کے سیشن کورٹ نے عمران خان کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے معاملے پر پولیس سے رپورٹ طلب کرلی ہے، شیخ مظفر نامی شہری نے درخواست میں مؤقف اختیار کیا کہ سابق وزیراعظم نے جلسے میں اپنے حامیوں سے خطاب کے دوران انتہائی غیر حساس اور خطرناک بیان دیا ہے۔درخواست گزار کا کہنا تھا کہ وہ اپنے خاندان کے ہمراہ پاکستان میں مقیم ہیں اور عمران خان کے قابل اعتراض بیان کے بعد ان کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔درخواست گزار نے کہا کہ اسلام پورہ تھانے میں سابق وزیر اعظم کے خلاف شکایت لے کر گیا مگر متعلقہ ایس ایچ او نے سابق وزیر اعظم کے خلاف مقدمہ درج کرنے سے انکار کردیا۔ نہوں نے استدعا کی کہ عدالت پولیس کو سابق وزیر اعظم کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے انہیں مقدمے میں شامل کرے۔عدالت نے پولیس کو نوٹس جاری کرتے ہوئے متعلقہ ایس پی انویسٹی گیشن سے 18 مئی تک رپورٹ طلب کرلی۔ واضح رہے کہ 14 مئی کو بنی گالا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے پیغامات آرہے ہیں، میں کسی سے بات نہیں کررہا، ان لوگوں کے نمبر بلاک کرچکا ہوں، جب تک عام انتخابات کا اعلان نہیں ہوتا، کسی سے بات نہیں ہوگی۔میڈیا رپورٹس کے مطابق انہوں نے اس ملاقات میں کہا تھا کہ جو اس سازش کا حصہ بنے، ان سے سوال کرتا ہوں، کیا سازش کا حصہ بننے والوں کو پاکستان کی فکر نہیں تھی، چوروں کو حکومت دینے سے تو بہتر تھا کہ پاکستان پرایٹم بم گرا دیتے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں