پاکستان سے30 ملین ڈالرز وصولی کے بعد براڈشیٹ نے مزید بھاری رقم مانگ لی

پاکستان سے 30 ملین ڈالر وصول کرنے والی برطانوی فرم براڈ شیٹ نے حکومت پاکستان اور نیب سے مزید ایک اعشاریہ دو ملین پاؤنڈز مانگ لیے۔براڈ شیٹ نے قومی احتساب بیورو (نیب) اورحکومت پاکستان سے مزید 1.2 ملین پاؤنڈز قانونی فیس اور ادائیگیوں کی مد میں مانگے ہیں۔براڈ شیٹ کیس پرپاکستان کے اب تک تقریباً 65 ملین ڈالر خرچ ہوچکے ہیں اور اب براڈ شیٹ نے نیب سے 11لاکھ 13 ہزار 261 پاؤنڈز لیگل فیس اور 61 ہزار497 پاؤنڈز ادائیگیوں کی مد میں طلب کیے ہیں-بینک ذرائع لندن کے مطابق 17 اگست کو براڈ شیٹ کو 9 لاکھ20 ہزارپاؤنڈز ادا کیے گئے ہیں۔براڈ شیٹ کے وکلا نے لندن میں نیب کے وکلا ایلن اینڈ ایوری کو خط بھیجا ہے جس کے مطابق یہ رقم پاکستان سے اصل رقم لینےمیں خرچ ہوئی جس کا عدالت جائزہ لےچکی ہے۔خط میں کہا گیا ہے کہ نیب کو یہ رقم اپنے اور وکلا کے طرزعمل اورغیرفعال ہونے پر دینی پڑے گی، نیب پہلے آربٹریشن ایوارڈ کو مطمئن نہیں کرسکا تھا۔وکلا براڈ شیٹ کے مطابق ہائیکورٹ کے احکامات کی تعمیل کرانے کیلئے بہت کام کرنا پڑا۔خط میں نیب کو سست اور غیر ضروری تاخیر کا ذمہ دار بھی قرار دیا گیا ہے جبکہ براڈ شیٹ کے وکلا کا خط اسلام آباد میں نیب ہیڈ کوارٹر پہنچ گیا ہے۔براڈ شیٹ کے چيف ايگزيکٹو کاوے موسوی کا کہنا ہے کہ معاملہ خوشگوار طریقے سے حل نہ ہوا تو کارروائی آگے بڑھائیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں