پاکستان :دہشت گردانہ حملوں میں56 فیصد اضافہ

پاکستان میں سن 2020 کے مقابلے میں گزشتہ برس دہشت گردانہ حملوں میں 56 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ قریب تین سو حملوں میں 395 افراد ہلاک ہوئے۔تھنک ٹینک پاکستان انسٹیٹیوٹ فار کانفلیکٹ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز کی جانب سے جاری کی گئی رپورٹ کے مطابق ان حملوں میں 186 سویلین جبکہ پاکستانی سکیورٹی فورسز کے 192 اہلکار ہلاک ہوئے۔ پاکستانی فوج کی جانب سے کی گئی کارروائیوں میں 188 عسکریت پسند مارے گئے۔پی آئی سی ایس ایس کی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافے کو پڑوسی ملک افغانستان میں طالبان کی بڑھتی ہوئی طاقت کے ساتھ جوڑا جا سکتا ہے۔ پاکستان میں دہشت گردی کے سب سے زیادہ واقعات گزشتہ سال اگست میں ہوئے جب طالبان کابل پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ اس ماہ پاکستان میں 45 حملوں میں 64 پاکستانی مارے گئے تھے۔تحریک طالبان پاکستانی ریاست کے خلاف ماضی میں انتہائی طاقتور حملے کر چکی ہے۔ قریب دس سال قبل ٹی ٹی پی اتنی مضبوط تھی کہ ایک وقت میں اس تنظیم نے پاکستان کے قبائلی علاقوں کی قریب ساری ایجنسیوں میں اپنے آپ کو پھیلا لیا تھا۔پاکستانی فوج نے چھ سال جاری رہنے والے عسکری آپریشنز کے ذریعے اس تنظیم کا قلع قمع کیا۔ لہذا فل الحال اس تنظیم کے پاس ایک مرتبہ پھر طاقت ور حملے کرنے کی صلاحیت تو نہیں ہے لیکن یہ اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔” دہشتگروں کے خلاف پاکستانی فوج کی کارروائی کو انسداد دہشت گردی کی کامیاب مہم تصور کیا جاتا ہے۔پاکستان انسٹیٹیوٹ فار کانفلیکٹ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز کی رپورٹ کے مطابق سن 2021 میں بلوچستان میں سب سے زیادہ حملے کیے گئے۔ یہاں عسکریت پسندوں کے 104 حملوں میں 177 افراد ہلاک ہوئے۔ دوسرا سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ پاکستانی قبائلی ایجنسیوں کا تھا۔ یہاں 103 حملوں میں 117 افراد ہلاک ہوئے

اپنا تبصرہ بھیجیں