پاکستان اورکالعدم ٹی ٹی پی کےمابین مذاکرات

کالعدم تحریک طالبان پاکستان ( ٹی ٹی پی) اور پاکستانی اداروں کے درمیان کابل میں مذاکرات ہو رہے ہیں ۔ مذاکرات کیلئے تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ مفتی نور ولی محسود بھی کابل میں موجود ہیں۔ ٹی ٹی پی ن کے ترجمان نے بتایا کہ مفتی نور ولی محسود گزشتہ ہفتے اس وقت کابل پہنچے تھے جب جنوبی وزیرستان کے محسود قبائل کا جرگہ مذاکرات کیلئے افغانستان گیا تھا۔ محسود قبائل کا 10 رکنی جرگہ دو دن قبل واپس پاکستان آ گیا تھا اور جرگے کے ترجمان نے آگاہ کیا تھا کہ ٹی ٹی پی کے رہنما حکومتِ پاکستان کے ساتھ بات چیت کے لیے آمادہ ہیں۔ مذاکرات کے حوالے سے کالعدم ٹی ٹی پی کے ترجمان محمد خراسانی کا کہنا ہے کہ دونوں فریقوں کے درمیان امارت اسلامی افغانستان ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ ٹی ٹی پی کے مطابق مذاکرات میں تحریک طالبان اور حکومت پاکستان کی سربراہ کمیٹیوں کے درمیان ہو رہے ہیں۔ دوسری جانب محسود قبیلہ کے 32 افراد پر مشتمل کمیٹی اور ملاکنڈ ڈویژن کے مختلف قبائل کے نمائندہ جو 19 افراد پر مشتمل ہیں وہ بھی حکومت پاکستان کے مطالبے پر تحریک طالبان پاکستان کی مذاکراتی کمیٹی ملاقاتیں کرچکے ہیں۔ یہ ملاقاتیں 13 اور 14 مئی کو ہوئیں۔ جس میں ان کا پرُزور مطالبہ تھا کہ جب تک مذاکراتی کمیٹیاں بیٹھی ہوئی ہیں، دونوں جانب سے فائر بندی کا اعلان ہونا ضروری ہے۔ جس کے بعد دونوں جانب سے فریقین نے 30 مئی تک سیز فائر پر اتفاق کیا ہے، تاہم مذاکرات کی شرائط سے متعلق ٹی ٹی پی ترجمان نے بتایا کہ یہ شرائط ابھی ٹیبل پر موجود ہیں، جنہیں فی الحال سامنے نہیں لایا جا سکتا ہے۔ واضح رہے کہ افغانستان میں پاکستانی سیکیورٹی حکام اور ٹی ٹی پی قیادت کے درمیان دو ہفتے سے مذاکرات جاری ہیں۔ اطلاعات کے مطابق پاکستانی حکام کیجانب سے ٹی ٹی پی سینیر جنگجو محمود خان اور مسلم خان کو بھی رہا کیا گیا ہے، تاہم ٹی ٹی پی ذرائع کا کہنا ہے کہ فی الحال دونوں رہنما اس وقت پاکستان میں ہی موجود ہیں اور انہیں ٹی ٹی پی کی قیادت کے حوالے ابھی نہیں کیا گیا ہے۔ اطلاعات یہ بھی ہیں کہ گزشتہ دو روز سے پشاور کور کے سربراہ اور سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید مذاکرات کے سلسلے میں افغانستان میں موجود ہیں، تاہم سرکاری سطح پر نہ اس سے متعلق کوئی تردید یا تصدیق سامنے آئی ہے اور نہ ہی کوئی بیان جاری کیا گیا ہے۔ طالبان کیجانب سے مذاکرات میں کمیٹی کی سربراہی قاضی محمد عامر کر رہے ہیں، جب کہ دیگر افراد میں مولوی فقیر محمد، ڈاکٹر حمود، مفتی ابوھریرہ، ہلال غازی اور مولوی آصف وغیرہ شامل ہیں۔ ٹی ٹی پی نے گزشتہ برس یکم نومبر سے جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔ لیکن بعدازاں طالبان نے حکومت پر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا اور دسمبر کے اوائل میں جنگ بندی کے خاتمے کا اعلان کر دیا تھا۔جس کے بعد اس کی پر تشدد کارروائیوں میں اضافہ ہو گیا تھا۔ ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق افغانستان میں طالبان کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد خیبر پختونخوا کے قبائلی اضلاع میں دہشت گردی اور تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے ۔ اطلاعات کے مطابق کابل میں پاکستانی حکام اور ٹی ٹی پی رہنماؤں کے درمیان مذاکرات میں حقانی نیٹ ورک کے سربراہ اور طالبان کی افغانستان میں عبوری حکومت کے وزیرِ داخلہ سراج الدین حقانی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں