ٹی ٹی پی سےمذاکرات کیلیےمفتی تقی عثمان کی قیادت میں پاکستانی وفد کابل پہنچ گیا

معروف عالم دین مفتی تقی عثمان کی قیادت میں پاکستانی علمائے کرام کا آٹھ رکنی وفد افغانستان کی عبوری حکومت کے سینئر رہنماؤں سے بات چیت کے لیے پیر کو کابل پہنچا تاکہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے رہنماؤں کو پاکستان کے ساتھ جنگ ​​بندی میں توسیع کے لیے راضی کیا جا سکے۔ کابل کے حامد کرزئی بین الاقوامی ہوائی اڈے پر طالبان کے سینئر حکام اور افغانستان میں پاکستان کے سفیر منصور احمد خان نے وفد کا استقبال کیا، افغان طالبان کی جانب سے جاری کردہ ویڈیو فوٹیج میں وفد کو آمد پر انہیں پرتپاک استقبال کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔وفاق المدارس العربیہ کے سربراہ قاری حنیف جالندھری اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سینیٹر طلحہ محمود بھی وفد میں شامل ہیں، ذرائع کا کہنا ہے کہ سینئر حکام نے کابل روانگی سے قبل اسلام آباد میں وفد کے ارکان کو بریفنگ دی۔ ذرائع نے بتایا کہ علمائے کرام کابل میں اپنے قیام کے دوران ٹی ٹی پی کے رہنماؤں سے بھی ملاقات کریں گے اور انہیں اپنے موقف میں نرمی اور جنگ بندی میں توسیع کے لیے قائل کرنے کی کوشش کریں گے، کالعدم تنظیم کے کمانڈر بشمول ان کے سربراہ مفتی نور ولی محسود پاکستانی حکام سے بات چیت کے لیے افغان دارالحکومت میں موجود ہیں۔ ٹی ٹی پی کے اہم مطالبات میں سے ایک سابقہ ​​فاٹا کے علاقوں کے خیبر پختونخوا کے ساتھ انضمام کو تبدیل کرنا ہے جسے حکومت پہلے ہی ‘ناقابل گفت و شنید’ قرار دے چکی ہے۔ نور ولی محسود نے جون میں کابل میں یوٹیوب کے ساتھ انٹرویو کے دوران کہا تھا کہ ہمارے مطالبات بہت واضح ہیں اور خاص طور پر فاٹا کے خیبر پختونخواکے ساتھ انضمام کا خاتمہ ہمارا بنیادی مطالبہ ہے جس سے گروپ پیچھے نہیں ہٹے گا۔ ٹی ٹی پی نے عید الفطر سے قبل غیر معینہ مدت کے لیے جنگ بندی کا اعلان کیا تھا، اس کے باوجود پاکستانی سیکیورٹی فورسز خاص طور پر وزیرستان کے غیرمستحکم اضلاع میں اکثر حملوں کی زد میں آتی رہتی ہیں، اس دوران افغانستان کی جانب سے سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں بھی اضافہ ہوا ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں