ٹرانس جینڈرایکٹ تہذیبی جارحیت اورہمارےخاندانی نظام پر حملہ ہے،سینیٹرمشتاق احمد

جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہا ہے کہ ٹرانس جینڈر ایکٹ تہذیبی جارحیت اورہمارے خاندانی نظام اور نکاح کے ادارے پر حملہ ہے۔ اسلام آباد میں جمعیت اتحاد العلماپنجاب کے زیر اہتمام منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مشتاق احمد خان نے کہا کہ یہ اسلام کے قانون وراثت عورت کی شرم و حیا اور وقار کے خلاف سازش ہے ،خواجہ سراؤں کے ساتھ حکومت ریاست والدین اور معاشرہ ظلم کر رہا ہے ،ہم ان کے حقوق کے محافظ ہیں۔ سینیٹر مشتاق احمد کا کہنا تھا کہ ہماری سیاسی جماعتیں اور پارلیمینٹیرین غلام ہیں، یہ قومی مفاد کے لئے ایک دوسرے کے دشمن ہیں مگر دشمن کے مفاد کے لئے ایک بن جاتے ہیں، شیریں مزاری کہتی ہیں یہ لبرل قانون ہے اس پر امریکہ اور مغرب ہماری تعریف کرتے ہیں،ہما رے حکمران اسلام کو پوائنٹ اسکورنگ کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلام ان ظالموں کے ہاتھوں اس ملک میں سب سے زیادہ مظلوم ہے، جب اسلام کے نظام کے نفاذ کی بات آتی ہے تو یہ اسلام سے دور بھاگتے ہیں لیکن اپنے مفاد کے لیے اسلام کو استعمال کرتے ہیں،میری طرف سے پیش کئے گئے ترمیمی بل کی پاکستان تحریک انصاف کی شیریں مزاری نے مخالفت کی۔ مشاق احمد کا کہنا تھا کہ اس بل کی مخالفت پر عمران خان کو شیریں مزاری کو شوکاز نوٹس دینا چاہیے، ٹرانس جینڈر ایکٹ کے حوالے سے میرے ترمیمی بل کو مسترد کر کے ہمارے پارلیمنٹرین مجھ پر ہنستے تھے مگر عوامی دباؤاور ڈنڈے سے یہ سب ڈرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے تیس سال سود کے خلاف عدالتی جنگ لڑی جب کہ ملک کا آئین کہتا ہے کہ پاکستان میں کوئی بھی قانون قرآن وسنت کے خلاف نہیں بن سکتا، میری پیش کردہ ترامیم کوآئین اور قرآن وسنت کی بنیاد کی بجائے اس بنیاد پر مسترد کر تے ہیں کہ یہ بین الاقوامی معیار کے خلاف ہیں۔ سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ اب حکمران حقوق کے نام پر پورے اسلامی نظام پر حملہ آور ہیں اس لیے ہم اس کو مسترد کرتے ہیں، اس بل کو پاس کرنے میں پی ٹی آئی، نون لیگ، پی پی پی اور ق لیگ سب متفق ہیں۔ انہوں نے کہا جب بات مہنگائی، تعلیم،عوام کی صحت اورآئی ایم ایف کی غلامی سے نجات کی آتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم آپس میں نہیں بیٹھ سکتے مگر جب بات ایف اے ٹی ایف اور اسلام مخالف قوانین کی آتی ہے تو پھر یہ سب ایک ہو جاتے ہیں، ملک کی تاریخ میں سب سے زیادہ اسلام مخالف قانون سازی پی ٹی آئی کے دور میں ہوئی ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں