ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی کرپشن پر رپورٹ قومی سانحہ ہے، شاہد خاقان

شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی 2021 کی تازہ رپورٹ سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) حکومت کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ اسلام آباد میں پارٹی کے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ پاکستان 2020 میں دنیا کے کرپٹ ترین ممالک کی فہرست میں 124ویں نمبر پر تھا، تازہ رپورٹ بتا رہی ہے کہ ایک سال کے اندر ہم 140ویں نمبر پر پہنچ گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل دنیا کے 180 ممالک میں کرپشن کا جائزہ لیتا ہے، یہ ادارہ کسی کے ماتحت نہیں ہے، تمام ممالک کے معاملات کو دیکھ کر رپورٹ شائع کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی ملک کا ایک سال کے اندر 16 ممالک سے زیادہ کرپٹ ہو جانا نیا ریکارڈ ہے، جس سے پاکستانی عوام کو موجودہ حکومت کی کرپشن کا اندازہ ہوگیا ہے۔ شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان ہر ایک پر چوری کا الزام لگاتے تھے لیکن آج پوری دنیا نے ان کی اپنی کرپشن پر مہر ثبت کردی ہے، یہ کوئی معمولی بات نہیں بلکہ قومی سانحہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ رپورٹ کے مطابق حکومت کی جانب سے ترقیاتی اخراجات کے معاملے میں پاکستان 152ویں نمبر پر ہے، یہ سب ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ملک میں کوئی ترقیاتی پراجیکٹ موجود ہی نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) نے جب اقتدار سنبھالا تو پاکستان کرپٹ ممالک کی فہرست میں 127ویں نمبر پر تھا اور جب پارٹی نے حکومت چھوڑی تو پاکستان 117ویں نمبر پر آچکا تھا، جبکہ تحریک انصاف کے 3 سالوں میں پاکستان 117 سے 140ویں نمبر پر پہنچ گیا۔ لیگی رہنما نے کہا کہ ملک میں آج جتنی بھی مہنگائی ہے اسی کرپشن کی وجہ سے ہے، مسلم لیگ (ن) کی حکومت میں مہنگائی اور کرپشن کم ترین سطح پر تھی اور آج تحریک انصاف کی حکومت میں مہنگائی اور کرپشن رکارڈ سطح پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ جس شخص کو سپریم کورٹ نے صادق اور امین کا لقب دیا وہ پاکستان کا کرپٹ ترین حکمران نکلا۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی اور صوبائی کابینہ میں کونسا آدمی ہے جو کرپٹ نہیں ہے؟ کوئی ایک ایسا آدمی نہیں ہے جو اپنی وزارت میں ناکام نہیں ہوا۔ شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ اپوزیشن کے طور پر ہمارا فرض ہے کہ جب بھی ملک کو کوئی مشکل درپیش ہو تو اس کی وجوہات کی نشاندہی کریں اور عوام پر اس کے اثرات بیان کریں۔ انہوں نے کہا کہ اس رپورٹ میں یہ بھی لکھا ہوا ہے کہ جب آپ حکومتی اہلکاروں کے تبادلے کرتے رہیں گے اور کرائے کے مشیر رکھیں گے تو یہ حکمت عملی بھی کرپشن کی وجہ بنے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ رپورٹ میں واضح ہے کہ کرپشن کی فہرست میں 120 سے 144 پر پہنچنے کی وجہ طرز حکمرانی ہے، دنیا الزام لگارہی ہے کہ آپ ایک کرپٹ حکومت ہیں اور کرپٹ ترین ہوتے جارہے ہیں، ہم سب کو افسوس ہے کہ آج ہمارا ملک دنیا کے کرپٹ ترین ممالک میں شامل ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی چیئرپرسن ناصرہ اقبال کا اس رپورٹ پر مختصر تبصرہ ضرور پڑھیں کہ انہوں نے کیا کہا ہے۔ واضح رہے کہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے جاری کردہ کرپشن پرسیپشن انڈیکس (سی پی آئی) برائے سال 2021 میں پاکستان 180 ممالک میں سے 140ویں درجے پر آگیا جبکہ گزشتہ برس پاکستان سی پی آئی رینکنگ میں 124ویں نمبر پر تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں