ٰٹیکساس: عافیہ صدیقی کی رہائی کا مطالبہ،مشتبہ شخص نےتین افراد کو یرغمال بنالیا

فورٹ ورتھ، ٹیکساس کے قریب ایک عبادت گاہ میں ایک مسلح مشتبہ شخص نے تین افراد کو حراست میں لیتے ہوئے ایک یرغمالی کو چھوڑ دیا۔ مشتبہ شخص نے یہ دھمکی بھی دی تھی کہ اس کے پاس علاقے میں بم ہیں۔ یرغمال بنانے کے فوراً بعد، مشتبہ شخص کو فیس بک لائیو اسٹریم کے ذریعے حکام سے بات چیت کرتے ہوئے سنا گیا۔ لائیو سٹریم پر — جسےلوگ دیکھ رہے تھے – تاہم اُسے اچانک بند کر دیا گیا— مرد مشتبہ شخص کو مذہب کے بارے میں بڑبڑاتے ہوئے اور امریکا میں گرفتار پاکستانی عافیہ صدیقی کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔ عافیہ صدیقی کو 86 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ عافیہ صدیقی پر الزام ہے کہ تفتیش کے دوران ایک امریکی فوجی پر حملہ اور انہیں قتل کی کوشش کی ٹیکساس کے علاقے کولیویل کی پولیس کا کہنا ہے کہ اتوار کو (امریکہ میں ہفتے کی شام) ٹیکساس میں یہودیوں کی عبادت گاہ میں یرغمال بنائے جانے والے افراد میں سے ایک کو رہا کر دیا گیا ہے۔ کولیویل پولیس کے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’شام پانچ بجے یرغمال بنایے جانے والے ایک مرد کو کوئی نقصان پہنچائے بغیر رہا کر دیا گیا۔‘ بیان کے مطابق ’وہ شخص اپنے خاندان والوں کے ساتھ جلد ام جلد جا ملے گا اور انہیں کسی طبی امداد کی ضرورت نہیں ہے۔‘ امریکی پولیس کا کہنا ہے کہ پاکستانی سائنس دان عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے اتوار کی صبح (امریکہ میں ہفتے کی شام) ٹیکساس میں یہودیوں کی عبادت گاہ یرغمال بنائے جانے والے افراد میں سے ایک کو چھوڑ دیا گیا ہے۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ٹیکساس میں یہودیوں کی سینیگاگ میں عبادت کے دوران چند افراد کو یرغمال بنا لیا۔ امریکی حکام کے مطابق اس مشتبہ شخص کو لائیو سٹریم میں چیختے ہوئے سنا جا سکتا ہے اور وہ پاکستانی نیورو سائنس دان ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کا مطالبہ کر رہا تھا جنہیں افغانستان میں امریکی فوج کے افسران کو قتل کرنے کی کوشش کرنے کا مجرم قرار دیا گیا تھا۔ قانون نافذ کرنے والے دو اہلکاروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے پی کو بتایا کہ ابتدائی طور پر کم از کم چار یرغمالیوں کے بارے میں خیال کیا گیا تھا کہ وہ عبادت گاہ کے اندر موجود ہیں۔ ایک اور عہدیدار نے بتایا کہ ابتدا میں خیال کیا جا رہا تھا کہ یہودیوں کی عبادت گاہ (سینیگاگ) کے ربی بھی یرغمال بنائے جانے والوں میں شامل ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے ایک اہلکار نے مزید بتایا کہ مشتبہ شخص نے مسلح ہونے کا دعویٰ کیا ہے لیکن حکام نے اس بات کی تصدیق نہیں کر سکے کہ واقعی ایسا ہی ہے۔ کولیویل پولیس ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ ایک یرغمالی کو شام 5 بجے کے فوراً بعد رہا کر دیا گیا جسے طبی امداد کی ضرورت نہیں تھی۔ حکام ابھی تک حملے کے اصل محرکات جاننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حکام نے بتایا کہ یرغمال بنانے والے کو عافیہ صدیقی کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے سنا گیا ہے۔ پاکستانی نیورو سائنس دان کا مبینہ طور پر القاعدہ سے تعلق کا شبہ ہے جنہیں افغانستان میں حراست کے دوران امریکی فوجی افسران کو قتل کرنے کی کوشش کرنے کے ’جرم‘ میں قید سزا سنائی گئی تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں