وی لاگ میں عدلیہ کےمتعلق جھوٹےالزامات پروکیل کالائسنس معطل کردیں گے،لاہورہائیکورٹ

لاہور ہائیکورٹ نے حمزہ شہباز کے وزیراعلی پنجاب کے حلف لینے کے فیصلے کے خلاف اپیل میں غلطیاں کو دور کرنے کا حکم دے دیا۔عدالت نے واضح کردیا کہ سوشل میڈیا پرججز پر تنقید برداشت نہیں کی جائے گی۔بارہ مئی بروز جمعرات کو لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس صداقت علی خان کی سربراہی پر مشتمل 5 رکنی لارجر بینچ نے اپیلوں پر سماعت کی۔ دوران سماعت بنچ کے سربراہ نے پاکستان تحریک انصاف کے اراکین کی جانب سے دائر اپیلوں میں غلطیوں کی نشاندہی کی۔ جسٹس صداقت علی خان نے اراکین اسمبلی کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ایسی زبان میں آپ کی اپیلیں قابل سماعت نہیں ہیں،جس پر اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے اپیل میں موجود تمام غلطیاں درست کرنے کی مہلت مانگ لی۔عدالت نے استدعا منظور کرلی اور برطرف ایڈووکیٹ جنرل پنجاب احمد اویس کو آئندہ تحریری جواب جمع کروانے کی ہدایت کردی۔ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل سے استفسار کیا گیا کہ سنگل بنچ کے فیصلے میں اشترا اوصاف حمزہ شہباز کے وکیل تھے تاہم اب وہ اٹارنی جنرل آف پاکستان بن گئے ہیں، وہ اس کیس میں کیسے پیش ہونگے۔ بنچ کے رکن جسٹس شاہد جمیل نے پاکستان تحریک انصاف کے وکیل اظہر صدیق کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ بنچ پر تمہارا وی لاگ ہوا جس میں ججز پر تنقید کی گئی۔ اس پرجسٹس صداقت علی خان نے ریمارکس دئیے کہ سپریم کورٹ سمیت کسی بھی جج پر سوشل میڈیا پر تنقید برداشت نہیں ہوگی،حکومت سمیت دیگر لوگ ججز کےخلاف وی لاگ کرنے سے محتاط رہیں اوراگر ایسا ہوا تو رجسٹرار ہائیکورٹ کے ذریعے ریکارڈ طلب کیا جائے گا۔ جسٹس صداقت علی خان نے کہا کہ اگرکوئی وکیل وی لاگ میں عدلیہ پر جھوٹے الزامات عائد کرے تواس کا لائسنس معطل کردیا جائے گا۔ عدالت نے پاکستان تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی کے وکلاء کو اپیل میں غلطیاں درست کرنے کی ہدایت کرتے ہوئےسماعت 17 مئی تک ملتوی کردی

اپنا تبصرہ بھیجیں