وزیر اعلی پنجاب کا انتخاب:شجاعت کا خط عمدہ سیاسی چال

سہیل وڑائچ نے کہا کہ چوہدری شجاعت کا خط سیاسی طورپر جتنی بھی عمدہ چال تھی۔نجی چینل کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے سہیل وڑائچ نے کہا کہ چوہدری شجاعت اور پرویز الٰہی کے تعلقات کے برخلاف مونس الٰہی اور سالک حسین کے تعلقات اچھے نہیں ہیں، چوہدری پرویز الٰہی عمر میں بڑے ہیں لیکن انہوں نے ہمیشہ چوہدری شجاعت حسین کو اپنا لیڈر مانا۔ چوہدری شجاعت کا خط سیاسی طورپر جتنی بھی عمدہ چال ہو لیکن سیاسی اخلاقیات کے لیے انتہائی فضول چیز ہے، چوہدری شجاعت کے خط کو سیاسی تاریخ میں ہمیشہ منفی انداز میں دیکھا جائے گا، اس کے بعد چوہدری شجاعت کے لیے مسلم لیگ ق کو سنبھالنا مزید مشکل ہو جائے گا، ضمنی انتخابات کے مینڈیٹ کے بعد چوہدری پرویز الٰہی کو ہی وزیراعلیٰ بننا چاہیے۔ سینئر صحافی و تجزیہ کار حامد میر نے کہا کہ آصف زرداری نے بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد ق لیگ کو قاتل لیگ کہا تھا، ن لیگ میں بہت سے لوگ ق لیگ کے ساتھ مفاہمت کا راستہ اختیار کرنا چاہتے تھے، نواز شریف اور چوہدری شجاعت کافی عرصے سے آپس کے معاملات ٹھیک کرنا چاہتے تھے، کچھ سال پہلے دونوں پارٹیوں کے انضمام کی بھی بات ہوئی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ن لیگ پرویز الٰہی کو وزیراعلیٰ کا امیدوار بنانے کیلئے تیار نہیں تھی لیکن آصف زرداری نے اس میں کردار ادا کیا، چوہدری برادران میں تعلقات کی خرابی کوئی ملی بھگت نہیں ہے، چوہدری شجاعت اور چوہدری پرویز الٰہی کے درمیان تعلقات کچھ زیادہ خراب نہیں ہیں، مونس الٰہی اور سالک حسین کے درمیان معاملات خراب ہیں، مونس الٰہی نے تین دن پہلے چوہدری شجاعت سے کہا اگر آپ نے پرویز الٰہی کی حمایت نہیں کی تو میرے اور آپ کے تعلقات ٹھیک نہیں رہیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ق لیگ کے تمام 10 ایم پی ایز نے پرویز الٰہی کو ووٹ دیا ہے، اس وقت اخلاقی طور پر پرویز الٰہی جبکہ آئینی طور پر چوہدری شجاعت کا پلڑا بھاری ہے۔ سینئر تجزیہ کار ارشاد بھٹی نے کہا کہ پاکستانی سیاست میں انتہائی دکھ کا لمحہ ہے کہ ارکان اسمبلی کا پتا ہی نہیں کہ کون کس کے ساتھ کھڑا ہے، علیم اور ترین گروپ کے ساتھ حمزہ شہباز کا مینڈیٹ جمہوریت کے لیے اچھا ہے تو اچھی بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہائیکورٹ کا یہ فیصلہ کہ حمزہ شہباز غیرقانونی وزیراعلیٰ ہیں لیکن خود کو وزیراعلیٰ منتخب کروانے تک وزیراعلیٰ رہیں گے اگر یہ فیصلہ اچھا ہے تو بڑی بات ہے، آج جو کچھ ہوا اس میں چوہدری شجاعت کا کردار اچھا نہیں سمجھا جائے گا، چوہدری شجاعت آج زیرک، مدبر اور اپنی بات پر کھڑے ہونے والے نہیں رہے۔ شاہزیب خانزادہ نے کہا کہ عمران خان کی یہ بات درست نہیں کہ وہ 26 سال سے نواز شریف ، آصف زرداری اور موروثی سیاست کے خلاف لڑ رہے ہیں، عمران خان 2002 سے 2008 تک جنرل مشرف اور پرویز الٰہی کے خلاف پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے ساتھ کھڑے تھے، 2018 سے پہلے بلوچستان میں ن لیگ کی حکومت عمران خان نے آصف زرداری کے ساتھ مل کر گرائی تھی، صادق سنجرانی کو چیئرمین سینیٹ بناتے وقت بھی عمران خان اور آصف زرداری ملے ہوئے تھے۔ منیب فاروق نے کہا کہ پارلیمانی لیڈر کی آئینی طور پر کوئی حیثیت نہیں ہوتی، آرٹیکل 63 اے میں پارٹی سربراہ کا ذکر ہے اور ڈیفیمشن کی تعریف بھی پارٹی سربراہ کی ہے، پارلیمانی لیڈر کے پاس آئینی کی رو سے پارٹی فیصلوں کو ڈکٹیٹ کرنے کا اختیار نہیں ہے، صرف پارٹی سربراہ اپنے ارکان اسمبلی کو ہدایت دے سکتا ہے کہ وہ کس کو ووٹ دیں گے، ق لیگ کے ایم پی ایز چوہدری شجاعت کی ہدایت کے برخلاف پرویز الٰہی کو ووٹ کرتے ہیں تو نہ ان کا ووٹ شمار ہوگا بلکہ وہ ڈی سیٹ بھی ہو جائیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں