وزیراعلیٰ کاانتخاب: فل کورٹ کیلئےمزید سماعت کی ضرورت ہے، سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخاب پر ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ کے خلاف درخواست سننے کے لیے فل کورٹ کی تشکیل سے متعلق کہا ہے کہ اس کے لیے مزید سماعت کی ضرورت ہے۔چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر پر مشتمل 3 رکنی بینچ دوبارہ سماعت کر رہا ہے۔سپریم کورٹ کی جانب سے فل کورٹ کی تشکیل کے حوالے سے دلائل کے بعد فیصلے کے لیے وقفہ لیا اور وقفے کے بعد سماعت شروع ہوئی تو سپریم کورٹ نے پاکستان مسلم لیگ (ق) اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کو فریق بننے کی استدعا منظور کرلی۔عدالت نے کہا کہ کیس میرٹ پر سنیں گے، چیف جسٹس نے کہا کہ فل کورٹ بینچ تشکیل دینا ہے یا نہیں ابھی اس کے لیےمزید سماعت کی ضرورت ہے۔ اس موقع پر وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ نظرثانی کیس پر ابھی دلائل نہیں ہوئے، 12 کروڑ کا صوبہ ہے اور سنجیدہ معاملہ ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ 5 ججوں نے وزیراعظم کو گھر بھیجا تھا، جس پر وزیر قانون نے کہا کہ معذرت چاہتا ہوں تاہم چیف جسٹس نے کہا کہ آپ معذرت نہ کریں، آپ نے تو مٹھائیاں بانٹی تھیں،ہم نے آئین کو دیکھنا ہے۔چیف جسٹس عمر عطابندیال نے کہا کہ اگر آپ چاہتے ہیں کہ کیس میں نہیں پیش ہونا نہ ہوں، اگر موجودہ حکومت سپریم کورٹ کو تسلیم نہیں کر رہی تو یہ بہت سنگین ہے، آرٹیکل 63 اے کا طویل سفر ہے۔وزیرقانون نے کہا کہ میں نے استدعا کی ہے کہ فل کورٹ بینچ بنانے سے عدالتی تکریم میں اضافہ ہوگا۔ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری کے وکیل عرفان قادر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کیس 10 ججوں نے سنا، وہ ایک جج کا معاملہ تھا اور یہ پورے صوبے کا معاملہ ہے۔انہوں نے کہا کہ علی ظفر صاحب کا اسرار تھا یہی بینچ اس کیس کو سنے، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ایک جج صاحب تھے، جنھوں نے جوڈیشل کونسل کا فورم استعمال کیا۔عرفان قادر نے کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس 10 ججوں نے سنا جبکہ یہاں ایک صوبے کا معاملہ ہے۔ انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ میں یہ نہیں کہہ رہا غیرجانب داری پر سوال ہے بلکہ میں کہہ رہا ہوں اگر فل کورٹ بنایا جائے تو عدالت کی تکریم میں اضافہ ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تاثر ہے کہ ایک ہی بینچ میں کیسز چلتے ہیں، ڈپٹی اسپیکر کی حاضری بارے میری رائے پر تھوڑی ناراضی نظر آئی، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ فل کورٹ بڑے معاملات میں بنایا جاتا ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے دیکھنا ہے ہمارا فیصلہ فل کورٹ کے حوالے سے دیکھی ہیں، ملک میں گورننس بڑا مسئلہ ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر کے معاملے پر ہم نے از خود نوٹس لیا، اس معاملے میں ہم نے از خود نوٹس نہیں لیا۔چیف جسٹس نے کہا کہ کیس طویل کرنے کی ضرورت نہیں ہے، ہمارے ملک میں اچھی طرز حکمرانی بہت اہم معاملہ ہے، ہم نے وفاقی حکومت کے کیس میں ازخود نوٹس لیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہماری نظر میں اسپیکر صاحب نے آرٹیکل 95 کی خلاف ورزی کی، جس پر عرفان قادر نے کہا کہ نظرثانی کیس کو اس کیس سے الگ نہیں کر سکتے۔عرفان قادر نے کہا کہ وزیر قانون صاحب کو سپریم کورٹ میں استدعا کرنے کی ضرورت نہیں۔ڈپٹی اسپیکر کے وکیل نے دلائل دیے کہ اگر عدالت کہہ دے کہ منحرف اراکین کا ووٹ شمار ہوگا تو پھر معاملہ خراب ہو جائے گا۔چیف جسٹس نے کہا کہ کیس طویل کرنے کی ضرورت نہیں ہے، ہمارے ملک میں اچھی طرز حکمرانی بہت اہم معاملہ ہے، ہم نے وفاقی حکومت کے کیس میں ازخود نوٹس لیا، ہماری نظر میں اسپیکر صاحب نے آرٹیکل 95 کی خلاف ورزی کی۔عرفان قادر نے کہا کہ سیاست دانوں کے ساتھ ساتھ عدلیہ کو بھی اپنے فیصلوں میں متحد ہونا چاہیے، میں سپریم کورٹ پر تنقید نہیں کر رہا، ہم ہیں چلے جائیں گے لیکن آئین کی بالادستی ہونی چاہیے۔عرفان قادر نےکہا کہ پارٹی سربراہ اور پارلیمانی پارٹی کے سربراہ میں بڑا فرق ہے، پرویز الہٰی کو وہ جماعت وزیراعلیٰ بنانا چاہتی ہے، جن کو وہ ڈاکو کہتی تھی۔اپنے دلائل جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چوہدری شجاعت حسین ملک کے بڑے سیاست دان ہیں۔انہوں نے کہا کہ جنہوں نے آئین توڑا، ملک کو تباہی کے دہانے پر لے گئے، اب تاثر ہے کہ عدالت ان کو فائدہ دے رہی ہے۔چیف جسٹس عمرعطابندیال نے کہا کہ ہم نے زیرالتوا کیسز کا سپریم کورٹ پر بوجھ کم کیا، سپریم کورٹ کے سارے جج محنت اور لگن سے زیر التوا مقدمات کا بوبھ کم کررہے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ مختلف رجسٹریوں میں بیٹھ کر وہ کیسز کی سماعت کررہے ہیں، سوشل میڈیا حقائق نا صرف بیانیہ سنتا ہے، ہم نے اس کیس میں تمام فریقین کو بات کرنے کا موقع دیا، یہ عدالت زیر التوا مقدمات نمٹانے کے لیے دن رات کام کر رہی ہے۔چیف جسٹس عمرعطابندیال نے کہا کہ اس کیس میں پارٹی کے سربراہ کی ہدایت ہے، صرف ایک نکتہ دیکھنا ہے کیا پارٹی سربراہ پارلیمانی پارٹی کا فیصلہ اوور رول کر سکتا ہے یا نہیں۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ پارلیمانی پارٹی عام عوام کی اسمبلی میں نمائندگی کرتی ہے، 18ویں ترمیم میں پارلیمانی پارٹی کو اختیارات دیے، بورس جانسن کو پارلیمانی پارٹی نے وزارت عظمیٰ سے ہٹایا۔چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے جمہوریت اور پارلیمنٹ کو مضبوط کرنا ہے، افراد کو نہیں۔اس کے ساتھ ہی ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی دوست محمد مزاری کے وکیل نے اپنے دلائل مکمل کیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں