وزیراعلیٰ پنجاب کا انتخاب: نوجوان احتجاج کریں،عمران خان

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے پنجاب میں چوہدری پرویز الہٰی کی شکست پر ردعمل میں عوام اور خصوصاً نوجوانوں سے احتجاج کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ساری نظریں سپریم کورٹ پر ہیں۔ پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان نے خطاب میں کہا کہ ابھی پنجاب اسمبلی میں ہوا ہے، اس پر حیرت میں ہوں، ہمیشہ سمجھتا ہوں کہ اللہ ہماری جمہوریت اس سطح پر لے جائے جہاں مغربی ممالک میں قوم کو جمہوریت کو فائدے ہوتےہیں۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت کی ایک بنیاد اخلاقیات ہوتی ہے، جمہوریت کے پاس فوج نہیں ہوتیں، پارلیمنٹ کی فوج نہیں ہوتی، فوج کہیں اور ہوتی ہے، جسمانی طاقت کسی اور کے پاس ہوتی ہے لیکن پارلیمنٹ کے پاس صرف اخلاقیات ہوتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ برطانیہ کی جمہوریت اس لیے چلتی ہے کہ ان کا وزیراعظم ایک قانون توڑتا جو یہاں خبر بھی نہ بنتی اور وہ کہتا ہے کہ کورونا کے دوران ایک تقریب رکھی، اس پر اس کو استعفیٰ دینا پڑتا ہے۔ ‘عمران خان نے کہا کہ ابھی جو تماشا دیکھا وہ سندھ ہاؤس کی طرح تھا جہاں اراکین اسمبلی کی بھیڑ بکریوں کی طرح منڈی لگی، وہاں بھی سب سے بڑا شکار اس ملک کا ‘نام ور ڈاکو آصف زرداری جو 30 سال سے ملک لوٹ رہا ہے، جیلوں مین جاچکا ہے اور 14 سال سے حکومت سندھ سنبھال کر بیٹھا ہوا ہے’۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام کے پیسے سے خرید و فروخت ہو رہی تھی، بیرونی سازش کا حصہ بنا اور اس کے ساتھ شریف تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب سینیٹ پر اراکین کو خریدا گیا، کچھ نہیں ہوا، بڑی دیر لگی، حکومت گئی، راہول گاندھی کا بیان آیاکہ پاکستان کے خلاف فوج کی ضرورت نہیں ہے تھوڑے ارب روپے جمع کرو حکومت گرا سکتے ہیں، ہماری یہ قیمت رہ گئی ہے۔ عمران خان نے کہا کہ ضمنی انتخابات میں جس طرح عوام نکلے ہیں، ایسا پاکستان میں کبھی نہیں ہوا، ہم نے ساری جماعتوں، ریاستی مشینری اور کرپٹ حکومت کو شکست دی اور ہم نے وہ کیا جو ہو نہیں سکتا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب ہم انتخابات جیت گئے تو آج وزیراعلیٰ کا انتخاب ہونا تھا لیکن رات کو ضمیروں کا سودا گر آصف زرداری پہنچ گیا اور ہمیں معلومات تھیں کہ پیسہ چلانے آیا ہے۔ ‘انہوں نے کہا کہ ابھی تک حیرت میں ہوں کہ انہوں نے کیا کیا ہے، جب 63 اے پر سپریم کورٹ کا واضح فیصلہ ہے پارلیمانی پارٹی کا سربراہ فیصلہ کرے گی اور اس کے مطابق پارٹی ووٹ دے گی، باہر بیٹھا ہوا پارٹی سربراہ کا نام نہیں لکھا ہوا ہے۔ چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ چوہدری شجاعت کا خط ہی قابل عمل نہیں ہے، اسپیکر کو شرم نہیں آتی ہے، مسلم لیگ (ق) کے 10 رکن اسمبلی نے جا کر ووٹ ڈالے اور ہم جیت گئے اور اس نے الیکشن دوسروں کو جیتوا دیا۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں اس طرح کا مذاق ہوتا ہے، یہ جمہوریت نہیں ہے، جو انہوں نے آج کیا ہے، اس پر مجھے سب سے بڑا افسوس ہے کہ ہماری معیشت بدتر ہو رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک آپ پرامن احتجاج نہیں کریں گے، سب کو پرامن احتجاج کرنا چاہیے، رات کو جب بھی نکلیں احتجاج رجسٹر کرائیں، میں نہیں کہتا قانون ہاتھ میں لیں، کوئی توڑ پھوڑ کریں۔ عمران خان نے کہا کہ ان کو پتہ چلے پاکستان میں زندہ قوم ہے، نوجوانوں کو خاص طور پر کہتا ہوں سب کو آج رات اپنا احتجاج رجسٹر کرنا چاہیے۔ سابق وزیراعظم نے کہا کہ میں سپریم کورٹ سے کہتا ہوں اب ساری نظریں آپ کے اوپر ہیں، 63 اے میں واضح ہے طور پر پارلیمانی لیڈر لکھا ہوا ہے، جو چوہدری شجاعت نہیں تھے بلکہ وہ پارٹی کے سربراہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک آصف زرداری جیسے لوگوں کو ہمارا انصاف کا نظام نہیں پکڑے گا، طاقت ور ڈاکووں کو قانون کے نیچے لے کر نہیں آئیں گے پاکستان کا کوئی مستقبل نہیں ہے۔ دوسری طرف، سابق وفاقی وزیر اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) رہنما فواد چوہدری نے رد عمل دیتے ہوئے ٹوئٹر پر لکھا کہ کوئی شرم ہوتی ہے، حیا ہوتی ہے، نہ ملک کی پرواہ نہ آئین کی، بے شرم آدمی دوست مزاری۔فواد چوہدری نے ایک اور ٹوئٹ میں آئین پاکستان کا ایک صفحہ دکھاتے ہوئے لکھا کہ مریم نواز اور کچھ صحافی سپریم کورٹ کا آرڈر پڑھے بغیر فرما رہے ہیں کہ آج کی رولنگ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق ہے ان کی آسانی کیلئے چار لائنیں پڑہ لیں۔ ماہر قانون و سابق وزیر قانون بابر اعوان نے لکھا کہ ڈپٹی اسپیکر نے سپریم کورٹ کا فیصلہ اور آئین کا آرٹیکل 63 اے (1) روند کر رکھ دیا۔انہوں نے لکھا یہ تو سری لنکا میں بھی نہیں ہوا۔ پورے پاکستان کے عوام کے دل میں لاوا اُبل رہا ہے، پاکستان کے حالات اور نظام اتنے بڑے خطرے کا شکار پہلے کبھی نہیں ہوئے، آج ملک سرزمین بے آئین بنادیا گیا۔ بابر اعوان نے ایک اور ٹوئٹ میں لکھا کہ سپریم کورٹ نے کہا پرویز الہی اور حمزہ شہباز کے درمیان مقابلہ ہوگا، پرویز الہٰی اور حمزہ شہباز دونوں سپریم کورٹ میں بلائے گئے، دونوں کو بتایا گیا کہ الیکشن پُرامن طریقے سے لڑو، دونوں نے وعدہ کیا آئین کی پاسداری کریں گے، ڈپٹی اسپیکر نے آرٹیکل 6 کے تحت آئین سے سنگین غداری کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں