واشنگٹن : پرسرار طیارے کی پرواز،کیپیٹل ہل کوخالی کرا لیا گیا

واشنگٹن میں کیپیٹل ہل کو بدھ کے روز اس وقت مختصر طور پر خالی کرا لیا گیا جب حکام نے ایک پیراشوٹ اسٹنٹ پر خطرے کی گھنٹی بجا دی۔واشنگٹن کے مرکز میں واقع حکومتی کمپلیکس کی حفاظت کی ذمہ دار پولیس نے شام 6:30 کے فوراً بعد ایک ابتدائی بیان جاری کیا جس میں کہا گیا تھا کہ انہوں نے کیپیٹل ہل کے انخلا کا حکم دیا ہے کیونکہ وہ ایک ایسے ’طیارے‘ کا سراغ لگا رہے ہیں جس سے ممکنہ طور پر خطرہ ہو سکتا ہے۔پولیس نے اس کی مزید تفصیلات نہیں بتائیں تاہم بعد میں یہ معلوم ہوا کہ یہ ’چھوٹا بحران‘ ہل کے قریبی نیشنلز سٹیڈیم میں پہلے سے طے شدہ فلائی اوور سے شروع ہوا تھا۔یہ خبر چند منٹوں میں امریکہ میں آگ کی طرح پھیل گئی جہاں نائن الیون حملے اور گذشتہ سال چھ جنوری کو مظاہرین کی جانب سے کیپیٹل ہل پر دھاوا بولنے کی یادیں تازہ ہیں۔یو ایس کیپیٹل پولیس نے جلد ہی ایک دوسرا بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ یہ حکم ’ضرورت سے زیادہ احتیاط‘ کے باعث دیا گیا تھا اور یہ کہ کمپلیکس کو اب ’کوئی خطرہ نہیں‘ ہے اور حکومتی عمارتیں دوبارہ استعمال کے لیے کھول دی گئی ہیں۔ اس خوف و ہراس کے وقت ایوان نمائندگان اور نہ ہی سینیٹ میں کوئی سیشن جاری تھا۔ لیکن اس واقعے نے ایوان کی اسپیکر پیلوسی کو پریشان کر دیا جنہوں نے واضح غلط فہمی کی وجہ سے انخلا کا حکم واپس لیے جانے کے فوراً بعد فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (ایف اے اے) کے حکام کو جھاڑ پلا دی۔پیلوسی نے کہا کہ ایف اے اے کی کیپیٹل پولیس کو پہلے سے طے شدہ فضائی سرگرمی کے بارے میں مطلع کرنے میں ناکامی ’اشتعال انگیز اور ناقابل معافی‘ ہے۔ اسپیکر نے کہا: ’اس ظاہری غفلت کی وجہ سے پیدا ہونے والی غیر ضروری افراتفری خاص طور پر نقصان دہ تھی خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو چھ جنوری کو کیپیٹل پر ہونے والے حملے کے صدمے سے ابھی تک باہر نہیں نکلے۔‘

اپنا تبصرہ بھیجیں