نادرامیں ریٹائرڈ فوجی افسران بھرتی کرنےپراپوزیشن کی تنقید، تفصیلات مانگ لی

نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) میں ریٹائرڈ فوجی اہلکاروں کی بھرتی کے معاملے پر سینیٹ کے اجلاس کے دوران بحث دیکھنے میں آئی اور حزب اختلاف نے اس ضمن میں تفصیلات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔سینیٹ کا اجلاس چیئرمین صادق سنجرانی کی زیر صدارت ہوا جس میں جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ ’میں نے سوال کیا تھا کہ مسلح افواج کے کتنے ریٹارڈ افسران کو نادرا میں تعینات کیا گیا ہے؟ان کا کہنا تھا کہ انہیں نادرا میں مسلح افواج کے ریٹائرڈ افسران کو بھرتی کرنے سے متعلق نامکمل جواب دیا گیا ہے جبکہ ان کا سوال ان افسران کی تعداد سے متعلق تھا۔انہوں نے کہا کہ ’میری معلومات کے مطابق مسلح افواج کے بہت سے ریٹائرڈ افسران کو نادرا میں دوبارہ بھرتی کیا گیا ہے، حالانکہ بڑی تعداد میں نوجوان نوکریوں کے لیے پھر رہے ہیں‘ ۔سینیٹر مشتاق احمد کا کہنا تھا کہ ’ریٹائرڈ اہلکاروں کو مراعات کے ساتھ دوبارہ نوکریوں پر رکھنا نوجوانوں کے ساتھ ناانصافی ہے‘۔ انہوں نے اپنا سوال دہراتے ہوئے کہا کہ انہیں بتایا جائے کہ نادرا میں کتنے ریٹائرڈ فوجی افسران بھرتی کیے گئے ہیں اور وہ کن عہدوں پر ہیں۔جماعت اسلامی کے سینیٹر کے سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان کا کہنا تھا کہ ڈیپوٹیشن پر 6 فوجی افسران کو نادرا میں بھرتی کیا گیا ہے اور وہ ریٹائرڈ فوجی افسران نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ سینیٹر مشتاق ایک نیا سوال جمع کروا دیں کیونکہ موجودہ سوال ڈیپوٹیشن پر آئے افراد کے حوالے سے تھا۔پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے سوال کو مزید بہتر بناتے ہوئے بھرتی کیے گئے ریٹائرڈ افسران کی تفصیلات، ان کی بھرتی کی تاریخ، ان کی ذمہ داریاں اور یہ کہ آیا ان کے پاس نوکری کے حوالے سے کوئی اضافی قابلیت ہے کے بارے میں دریافت کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’تقریباً 2 ماہ قبل میں نے اخبار میں پڑھا کہ ایک دن میں 2 درجن کے قریب ڈائریکٹر اور ڈپٹی ڈائریکٹر بھرتی کیے گئے جو کہ سب ریٹائرڈ فوجی افسران تھے‘۔وزیر مملکت علی محمد خان نے اسے ’بہت اچھا سوال‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا تفصیل سے جواب دیا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ’کسی کو خصوصی مراعات نہیں دی جارہیں، ان افراد کو نوکری کے معیار کے مطابق بھرتی کیا گیا ہے‘۔

اپنا تبصرہ بھیجیں