منی لانڈرنگ کیس:ایف آئی اےشہبازشریف اورحمزہ کےخلاف مقدمےسےدستبردار

لاہور کی خصوصی عدالت کی جانب سے 16 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کیس میں وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کے خلاف فرد جرم عائد ہونے سے 3 روز قبل وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کے خلاف ٹرائل نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔عدالت میں جمع کرائی گئی تحریری درخواست کے مطابق ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) نے تفتیشی افسر کے توسط سے اسپیشل پراسیکیوٹر سکندر ذوالقرنین سلیم سے کہا کہ وہ عدالت میں پیش نہ ہوں کیونکہ اس مقدمے کے ملزمان پاکستان کے وزیراعظم اور وزیر اعلیٰ پنجاب ہیں۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ متعلقہ حلقوں کو ملزمان کے خلاف قانونی چارہ جوئی میں دلچسپی نہیں ہے، اس میں درخواست کی گئی کہ ان ہدایات کو کیس ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے۔ ایف آئی اے نے نومبر 2020 میں وزیر اعظم شہباز شریف اور ان کے بیٹوں حمزہ اور سلیمان کے خلاف انسداد بدعنوانی ایکٹ کی دفعہ 419، 420، 468، 471، 34 اور 109 اور اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 3/4 کے تحت مقدمہ درج کیا تھا، کیس میں مفرور سلیمان شہباز برطانیہ میں موجود ہیں۔انسداد بدعنوانی ایکٹ کی دفعہ 5 (2) اور 5 (3) (مجرمانہ بدانتظامی) کے تحت 14 دیگر افراد کو بھی ایف آئی آر میں نامزد کیا گیا تھا۔خصوصی عدالت نے 27 جنوری کو اس مقدمے میں شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی ضمانت قبل از گرفتاری منظور کی تھی۔ایف آئی اے کی جانب سے کل درخواست جمع کرانے کے بعد عدالت نے درخواست کو ریکارڈ پر لے لیا اور اسے کیس کے ساتھ منسلک کردیا۔ دریں اثنا سکندر ذوالقرنین سلیم نے کہا کہ استغاثہ کو کیس میں پیش ہونے سے روک دیا گیا کیونکہ شہباز شریف اور حمزہ شہباز نے اب عوامی عہدہ سنبھال لیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایف آئی اے حکام نے شہباز شریف، حمزہ شہباز اور دیگر کے خلاف ٹرائل میں عدم دلچسپی کا اظہار کیا۔ واضح رہے کہ یہ اقدام عدالت کی جانب سے وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ پنجاب پر 14 مئی کو فرد جرم عائد ہونے سے محض 3 روز قبل سامنے آیا ہے۔ گزشتہ سماعت کے دوران عدالت نے وزیر اعظم اور دیگر کو ہدایت کی تھی کہ وہ اگلی سماعت پر اپنی حاضری یقینی بنائیں کیونکہ سماعت مزید ملتوی نہیں کی جائے گی۔ تحریری حکم نامے میں کہا گیا تھا کہ یہ واضح کیا جاتا ہے کہ سماعت کی اگلی تاریخ پر فرد جرم عائد کی جائے گی اور تمام ملزمان اپنی حاضری کو یقینی بنائیں گے۔ خیال رہے کہ رواں ہفتے کے آغاز میں ایف آئی اے کے سابق ڈائریکٹر محمد رضوان دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے تھے جو شہباز اور ان کے بیٹے کے خلاف الزامات کی تحقیقات کر رہے تھے۔ شہباز شریف اور حمزہ شہباز کو شوگر اسکینڈل میں منی لانڈرنگ کے کیس کا سامنا ہے، ایف آئی اے نے نومبر 2020 میں ان کے خلاف پاکستان پینل کوڈ، کرپشن کی روک تھام ایکٹ اور انسداد منی لانڈرنگ ایکٹ کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔ شہباز شریف پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے بیٹوں حمزہ شہباز اور سلیمان شہباز کو ان کی آمدنی کے نامعلوم ذرائع سے مال جمع کرنے میں مدد دی۔ ایف آئی اے نے 13 دسمبر 2021 کو شہباز شریف اور حمزہ شہباز اور دیگر ملزمان کے خلاف 16 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کا چالان بینکنگ عدالت میں جمع کروایا تھا اور دنوں کو مرکزی ملزم نامزد کر دیا تھا۔ ایف آئی اے کی جانب سے جمع کرایے گئے 7 والیمز کا چالان 4 ہزار سے زائد صفحات پر مشتمل ہے جس میں 100 گواہوں کی لسٹ بھی جمع کرا دی تھی اور کہا تھا کہ ملزمان کے خلاف 100 گواہ پیش ہوں گے۔ چالان میں کہا گیا تھا کہ تحقیقاتی ٹیم نے 28 بے نامی بینک اکاؤنٹس کا سراغ لگایا جو 2008 سے 2018 تک شہباز شریف فیملی کے چپراسیوں، کلرکوں کے ناموں پر لاہور اور چنیوٹ کے مختلف بینکوں میں بنائے گئے۔ ایف آئی اے کے مطابق 28 بے نامی اکاؤنٹس میں 16 ارب روپے، 17 ہزار سے زیادہ کریڈٹ ٹرانزیکشنز کی منی ٹریل کا تجزیہ کیا اور ان اکاؤنٹس میں بھاری رقم چھپائی گئی جو شوگر کے کاروبار سے مکمل طور پر غیر متعلق ہیں اور اس میں وہ رقم شامل ہے جو ذاتی حیثیت میں شہباز شریف کو نذرانہ کی گئی۔ چالان میں کہا گیا کہ اس سے قبل شہباز شریف (وزیر اعلیٰ پنجاب 1998) 50 لاکھ امریکی ڈالر سے زائد کی منی لانڈرنگ میں براہ راست ملوث تھے، انہوں نے بیرون ملک ترسیلات (جعلی ٹی ٹی) کا انتظام بحرین کی ایک خاتون صادقہ سید کے نام اس وقت کے وفاقی وزیر اسحٰق ڈار کی مدد سے کیا۔ایف آئی اے نے کہا تھا کہ ’یہ چالان شہباز شریف، حمزہ شہباز اور سلیمان شہباز کو مرکزی ملزم ٹھہراتا ہے جبکہ 14 بے نامی کھاتے دار اور 6 سہولت کاروں کو معاونت جرم کی بنیاد پر شریک ملزم ٹھہراتا ہے۔ چالان میں کہا گیا تھا کہ شہباز شریف اور حمزہ شہباز دونوں ہی 2008 سے 2018 عوامی عہدوں پر براجمان رہے تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں