مغربی ممالک سےاپنےتعلقات مضبوط کریں گے،طالبان

طالبان کا کہنا ہے کہ ناروے اوسلو میں مغربی ممالک کیساتھ ہونیوالے باضابطہ مذاکرات جنگ کا ماحول بدل دیں گے۔ ہفتہ کو طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسلامی امارت نے مغربی دنیا کے مطالبات کو پورا کرنے کیلئے اقدامات کئے ہیں اور ہمیں امید ہے کہ ہم سفارتکاری کے ذریعے یورپی ممالک سمیت تمام ملکوں سے اپنے تعلقات مضبوط کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ طالبان جنگ کا ماحول بدلنا چاہتے ہیں اور امن لانا چاہتے ہیں، امید ہے کہ ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں ہونیوالے مذاکرات مغربی ممالک کیساتھ جنگ کا ماحول بدل دیں گے۔رپورٹ کے مطابق طالبان اور مغربی حکام کے درمیان انسانی حقوق اور امداد پر مذاکرات کا آغاز کل (اتوار کو) ہوگا۔اگست 2021ء میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے افغانستان میں انسانی بحران شدت اختیار کرچکا ہے، افغانستان کو عالمی سطح پر ملنے والی امداد بند ہوچکی ہے اور امریکا نے بھی ملکی اثاثے منجمد کررکھے ہیں۔نارویجین وزارت خارجہ کا ایک بیان میں کہنا ہے کہ اتوار سے منگل تک ہونیوالے مذاکرات میں ناروے اور دیگر اتحادی ممالک کے حکام کے ساتھ طالبان کی ملاقاتیں ہوں گی۔ناوریجین وزارت خارجہ نے واضح کیا ہے کہ ان ملاقاتوں کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ طالبان کو تسلیم کیا جارہا ہے، تاہم ہمیں ملک کی موجودہ حکومت سے بات کرنی چاہئے، ہم اس بات کی اجازت نہیں دے سکتے کہ ایک سیاسی صورتحال کی وجہ سے انسانی بحران تباہی کے دہانے پر پہنچ جائے۔مغربی ممالک سے مذاکرات کرنیوالے طالبان وفد کی قیادت افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی کریں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں