مسلم لیگ(ق) کے ووٹ مسترد، حمزہ شہباز پنجاب کے وزیراعلیٰ برقرار

پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے امیدوار پرویز الہٰی سمیت پاکستان مسلم لیگ (ق) کے ووٹ ناقابل شمار کردیا جس کے بعد حمزہ شہباز ووٹوں کی برتری کی بدولت بدستور وزیراعلیٰ پنجاب رہیں گے۔ ڈپٹی اسپیکر دوست مزاری نے ووٹوں کی گنتی کے بعد ایوان کو بتایا کہ مجھے چوہدری شجاعت کی طرف سے خط موصول ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین کا خط پڑھتے ہوئے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ سے تعلق رکھنے والے پنجاب اسمبلی کے تمام اراکین کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے لیے ووٹنگ 22 جولائی کو شیڈول ہے اور پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ کی حیثیت سے اپنے تمام اراکین صوبائی اسمبلی کو احکامات دے رہا ہوں وہ حمزہ شہباز شریف کے حق میں ووٹ دیں۔انہوں نے کہا کہ اس خط کی کاپی پارٹی کے تمام اراکین کو بھیجے گئے ہیں۔ ڈپٹی اسپیکر نے کہا کہ اس خط کے مطابق سپریم کورٹ کے فیصلے کے تحت جتنے بھی پاکستان مسلم لیگ(ق) کے جتنے بھی ووٹ کاسٹ ہوئے ہیں وہ مسترد ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ق) کے 10 ووٹ مسترد ہوتےہیں اور 10 ووٹ ختم ہوگئے ہیں۔ڈپٹی اسپیکر کے فیصلے کے بعد پی ٹی آئی کے رکن راجا بشارت نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ میں 63 اے کی طرف توجہ مبذول کروانا چاہتا ہوں کہ ووٹ کی ہدایت دینے کے لیے کس کو حق حاصل ہے۔راجا بشارت کے سوال پر ڈپٹی اسپیکر نے جواب دیا کہ قانون کے مطابق پارٹی کے سربراہ کو حق حاصل ہے، اور اس پر راجا بشارت نے کہا کہ پارلیمانی لیڈر کو حق حاصل ہے اور آئینی شق پڑھ کر سنائی۔انہوں نے کہا کہ پارلیمانی پارٹی کے سربراہ چوہدری ساجد ہیں اور حکم انہوں نے دینا تھا تاہم ڈپٹی اسپیکر نے کہا کہ عدالت کا حکم پڑھیں لیکن راجا بشارت نے کہا کہ کل مسلم لیگ(ق) کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا، جس میں انہوں نے فیصلہ کیا ووٹ چوہدری پرویز الہٰی کو دیا جائے گا۔قبل ازیں ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری کی زیرصدارت پنجاب اسمبلی کا اجلاس تلاوت کلام پاک اور ترجمے سے شروع ہوا، جس کے بعد ڈپٹی اسپیکر نے راولپنڈی سے منتخب ہونے والے پاکستان مسلم لیگ(ن) کے رکن اسمبلی راجا صغیر سے رکنیت کا حلف لیا۔اجلاس کے شروع میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رکن طاہر خلیل سندھو نے اعتراض کیا کہ حلف اور نوٹیفکیشن میں فرق ہوتا ہے، پی پی-167 سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے منتخب رکن صوبائی اسمبلی شبیراحمد کے بارے میں لکھا گیا ہے نوٹیفکیشن کمیشن کے حتمی فیصلے سے مشروط ہوگا، اگر اس کا حلف لیا گیا ہے تو وہ غیر قانونی ہے اور وہ ووٹ نہیں ڈال سکتے۔انہوں نے ایک اور اعتراض کیا کہ زین قریشی ملتان سے اس وقت رکن قومی اسمبلی ہیں اور صوبائی رکن بھی ہیں تاہم پی ٹی آئی کے راجا بشارت نے پی ٹی آئی ارکان کے حوالے سے اعتراض دور کیا، جس کے بعد ڈپٹی اسپیکر نے کہا کہ پہلا ووٹ زین قریشی ڈالیں۔ڈپٹی اسپیکر نے کہا کہ 16 اپریل کو وزیراعلیٰ پنجاب کے لیے ووٹنگ ہوئی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے حمزہ شہباز کامیاب ہوئے جبکہ پرویز الہیٰ کو کوئی ووٹ نہیں ملا۔ انہوں نے کہا کہ ‘حمزہ شہباز کو 197 ووٹ ملے لیکن سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق 25 اراکین کا ووٹ شمار نہیں کیا گیا’۔ ان کا کہنا تھا کہ حمزہ شہباز کے پاس اب 172 ووٹ ہیں اور کسی کے پاس 186 ووٹ نہیں ہیں تاہم آئین کے آرٹیکل 130 فور کے تحت دوبارہ ووٹنگ کے لیے اسمبلی کا اجلاس منعقد ہو رہا ہے۔ڈپٹی اسپیکر نے کہا کہ ووٹنگ کا عمل پہلے کی طرح ہوگا اور سیکریٹری اسمبلی ووٹنگ کا طریقہ کار بتائیں گے اور اس کے بعد سیکریٹری نے ووٹنگ کا طریقہ کار سمجھایا۔دوست مزاری نے کہا کہ پرویز الہیٰ اور حمزہ شہشباز کی حمایت کرنے والے اراکین مخالف سمت پر چلے جائیں۔ اس سے قبل اسمبلی اجلاس میں کورم پورا کرنے کے لیے گھنٹیاں بج چکی تھیں لیکن اجلاس مقرر وقت 4 بجے شروع نہیں ہوسکا اور تاخیر کا شکار ہوا جہاں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے اراکین اسمبلی لابی میں موجود رہے لیکن وہ ایوان میں داخل نہیں ہو رہے تھے۔ تاہم تقریباً 3 گھنٹے کی تاخیر کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے دیگر اراکین اسمبلی میں پہنچ گئے اور ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری کی صدارت میں اجلاس شروع ہوگیا۔ا

اپنا تبصرہ بھیجیں