مسجد نبوی واقعہ پرمقدمات درج نہ کیےجائیں،اسلام آباد ہائیکورٹ

اسلام آباد ہائی کورٹ نے پولیس کو مسجد نبویؐ کے واقعہ کی ایف آئی آرز درج نہ کرنے کا حکم دے دیا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ مسجد نبوی واقعے پر ایف آئی آرز بظاہر نیک نیتی پر مبنی نہیں ہیں۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمعرات 12 مئی کو مسجد نبویؐ میں ہونے والے واقعہ پر درج مقدمات کے خلاف پی ٹی آئی رہنماؤں کی درخواست پر سماعت ہوئی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جسٹس اطہر من اللّٰہ نے واقعہ پر درج مقدمات کے خلاف فواد چوہدری،قاسم سوری، شہباز گِل کی درخواستوں کو یکجا کرکے سماعت کی۔سماعت کے آغاز میں پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) کے وکیل فیصل چوہدری نے کہا کہ پولیس رپورٹ ہے کہ چار درخواستیں آئیں جس میں تفتیش چل رہی ہے، پرچہ درج نہیں ہوا۔اس موقع پر سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے عدالت میں بولنے کی اجازت ملنے پر کہا کہ میں حاضر ہوگیا ہوں، حیران ہوں ان کیسز پر، مارشل لاء بھی رہا، مگر کسی حکومت نے توہین مذہب کے قانون کو اس طرح استعمال نہیں کیا۔سابق وزیر نے کہا کہ وزیر داخلہ کے بارے میں نہیں کہتا، مگر وزیر قانون پر حیرت ہے، ہم نے کوئی فساد تو نہیں کرانے، ایک دوسرے کی لاشوں پر چڑھ کر تو وزیر نہیں بننا ہوتا، ایسا رواج شروع کیا ہے کہ اس کے سنگین نتائج ہیں۔ فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ برطانیہ کی پارلیمنٹ میں ڈسکشن شروع ہو رہی ہے اور ویزے واپس لینے کی بات ہو رہی ہے، سوسائٹی میں تفریق پیدا کر دی گئی ہے۔ چیف جسٹس اسلام آباد نے سوال کیا کہ کیا یہ عدالت اس کیس میں کارروائی کو آگے چلائے؟ آپ کو اس پر اعتماد ہے؟ فواد چوہدری نے جواب میں کہا کہ عدالت پر اعتماد نہیں ہوگا تو کس پر ہوگا؟ چیف جسٹس نے کہا کہ سیاسی قیادت ہی سوسائٹی میں تبدیلی اور صبر لا سکتی ہے، مذہب کو سیاسی مقصد کے لیے استعمال کرنا خود توہین مذہب ہے، اس طرح 2018 میں بھی ہوا اور پہلے بھی ہوتا رہا، یہ بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں سے ایک ہے۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے ریمارکس دیئے کہ غیر ملکی کو سیالکوٹ میں مارا گیا، مشال خان کا واقعہ بھی سامنے ہے، یہاں پر بھی جو کیسز درج ہو رہے ہیں وہ درست معلوم نہیں ہوتے، جس پر سابق وزیر نے کہاکہ اصولاً تو حکومت کو خود ہی عقل کرنی چاہیے۔ چیف جسٹس کا یہ بھی کہنا تھا کہ درج ایف آئی آرز میں عمران خان، شہباز گل، قاسم سوری سمیت دیگر کو نامزد کیا گیا ہے، فواد چوہدری نے جواباً کہا کہ ہم سب استعفیٰ دے چکے ہیں۔ چیف جسٹس کے مطابق ابھی تک آپ کو ڈی نوٹیفائی نہیں کیا گیا۔ فواد چوہدری نے عدالت کو بتایا کہ عثمان بزدار پر اس کو اپلائی کریں تو پھر وہ چیف منسٹر ہیں۔ عدالت کے روبرو پی ٹی آئی وکیل نے کہا کہ اس وقت پنجاب میں کوئی حکومت نہیں ہے۔ پی ٹی آئی وکیل کے بیان پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کا کہنا تھا کہ کہ آئین پاکستان کی بہت بے توقیری ہو چکی ہے۔ آئین پاکستان ہی لوگوں کو اکٹھا رکھ سکتا ہے، ہم آئین کو سپریم نہیں سمجھتے ورنہ آج ملک میں یہ حالات نہ ہوتے، ادارے بھی اسی آئین کے تابع ہیں، سب کو آئین کی پاسداری کرنی چاہیے، آئین کے تحت ہر ادارہ جوابدہ ہے، مدینہ منورہ میں واقعہ ہوا، ریاست کا کام ہےیقینی بنائے کہ مذہبی استحصال نہ ہو۔ اس سے قبل مسجد نبویؐ واقعہ پر کیسز کے خلاف قاسم سوری کی درخواست پر وفاق اور دیگر کو نوٹس جاری کیے گئے۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ قاسم سوری ڈی نوٹیفائی ہو گئے ہیں؟ وکیل نے آگاہ کیا قاسم سوری نے استعفیٰ دے رکھا ہے لیکن ابھی ڈی نوٹیفائی نہیں ہوئے، مقدمات اندراج کے بعد مختلف طریقوں سے ہراساں کیا جا رہا ہے۔ عدالت نے قاسم سوری کی درخواست کو فواد چوہدری کی ایسی ہی درخواست کے ساتھ یکجا کیا۔ درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ فواد چوہدری کی درخواست بھی آج ہی سماعت کے لیے فکس ہے، اس پر چیف جسٹس اسلام آباد نے کہا کہ پھر قاسم سوری کی درخواست کو بھی اس کے ساتھ ہی دیکھ لیں گے۔ وکیل درخواست گزارنے کہا کہ مدینہ منورہ واقعہ کے بعد اسی روز قاسم سوری پر بھی حملہ کیا گیا تھا، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کا یہ بھی کہنا تھا کہ ریاست نے دیکھنا ہے کہ کمپلینٹ کی نوعیت کیا ہے؟ ، مذہب کو سیاست میں استعمال نہیں کرنا چاہیے، ماضی میں ایسا ہوتا رہا ہے۔ سماعت کے دوران ڈپٹی اٹارنی جنرل سید طیب شاہ نے کہا کہ میں اس متعلق وفاق سے ہدایات لے لیتا ہوں، ریاست کو چاہیے سیاسی قیادت کو بٹھائے، پالیسی بنائے کہ مذہب کو سیاست میں نہیں لانا چاہیے۔ جسٹس اطہر من اللہ نے اپنے ریمارکس میں کہاکہ سیاسی تنازعات کے لیے مذہب کا استعمال درست نہیں، یہ طے ہونا چاہئے کہ سیاست میں مذہبی کارڈ استعمال نہیں کیا جائے گا۔ وکیل درخواست گزار نکے مطابق وفاقی حکومت کو ہدایات جاری کریں کہ ایف آئی آرز واپس لے، ڈپٹی اٹارنی جنرل نے بتایا کہ لوگوں کے مذہبی جذبات ہیں اور ان کے مذہبی جذبات کو واقعہ سے ٹھیس پہنچی، مقدمہ درج کرانے کی درخواستیں پرائیویٹ پرسنز کی جانب سے جمع کرائی گئیں۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا کہ یہ بتا دیں کہ مستقبل میں ایسے ایشوز کو کیسے ڈیل کیا جائے گا؟ وکیل نے کہاکہ وزارت داخلہ کو تمام مقدمات کی تفصیل جمع کرانے کی ہدایت کی جائے۔ کیس کی سماعت دو ہفتوں تک ملتوی کردی گئی

اپنا تبصرہ بھیجیں