مستنصر حسین تارڑکی’کمال فن‘ ایوارڈ لینےسےمعذرت

مستنصر حسین تارڑ نے پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز (اکادمی ادبیات پاکستان) سے ’کمال فن‘ ایوارڈ لینے سے معذرت کرلی۔ اشو لال نے چند دن قبل اکیڈمی کے اعلان کے فوری بعد انعام لینے سے انکار کردیا تھا، جس کے بعد اب مستنصر حسین تارڑ نے بھی ایوارڈ وصول کرنے سے معذرت کرلی۔ مستنصر حسین تارڑ نے اپنے ویڈیو بیان میں اکادمی ادبیات پاکستان کی جانب سے ایوارڈ دیے جانے کے ضوابط اور روایات کو توڑنے کی بنیاد پر ایوارڈ نہ لینے کا اعلان کیا۔ اپنی مختصر ویڈیو میں مستنصر حسین تارڑ نے بتایا کہ اس بار اکیڈمی نے ایوارڈ دینے کی 20 سے 21 سالہ روایات کو تبدیل کرتے ہوئے ’کمال فن‘ ایوارڈ کو دو شخصیات کو دینے کا اعلان کیا، جو کہ مضحکہ خیز بات ہے۔ ناول نگار کے مطابق آج تک مذکورہ ایوارڈ ایک ہی ادبی شخصیت کو دیا جاتا رہا ہے مگر اس بار روایات سے ہٹ کر ایوارڈ کو دو حصوں میں تقسیم کردیا گیا جو کہ ناقابل قبول بات ہے۔ سفر نامہ نگار کا کہنا تھا کہ انہیں معلوم ہوا کہ کچھ دن قبل اشو لال نے بھی اپنے نظریات کی بنیاد پر مذکورہ ایوارڈ لینے سے انکار کردیا تھا جو کہ ان کا بنیادی حق تھا اور ان کے خیال میں سرائیکی شاعر نے اپنے حساب سے ٹھیک کیا۔ مستنصر حسین تارڑ کے مطابق ان کی عمر 83 سال ہوچکی ہے اور انہوں نے 60 سال تک ادب کی خدمت کی ہے اور وہ نصف ایوارڈ وصول نہیں کر سکتے۔ انہوں نے دلیل دی کہ روایات سے ہٹ کر ’کمال فن‘ ایوارڈ ایک کے بجائے دو شخصیات کو دینا دونوں کے ساتھ ناانصافی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں