محض ٹوئٹس فوج میں بغاوت اورنہ ہی عوام میں خوف وہراس پیداکرسکتی ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ

اسلام آباد ہائی کورٹ نے اپنے ایک حکم میں کہا ہے کہ ایک ٹوئٹ نہ تو مسلح افواج کے اندر بغاوت کو ہوا دے سکتی ہے اور نہ ہی عوام میں خوف و ہراس پیدا کر سکتی ہے۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس بابر ستار نے کاشف فرید نامی شہری کے خلاف متنازع ٹوئٹ کے ذریعے مبینہ طور پر ‘مسلح افواج کو بدنام کرنے’ کے الزام میں ایف آئی آر کو بھی خارج کردیا۔ کاشف فرید نامی شہری کے خلاف یہ ایف آئی آر مبینہ طور پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور فوج کے خلاف ایک ٹوئٹ کرنے پر درج کی گئی تھی۔ایف آئی آر میں کہا گیا کہ ملزم نے پاکستان پینل کوڈ (پی پی سی) کی دفعہ 500، 501 اور 505 کے تحت جرائم کا ارتکاب کیا۔عدالت عالیہ نے اپنے حکم میں ریمارکس دیے کہ ’غیر مقبول‘ ٹوئٹر اکاؤنٹ سے کی گئی ٹوئٹ فوج یا عوام میں بغاوت کو ہوا نہیں دے سکتی۔جسٹس بابر ستار نے ریمارکس دیے کہ یہ مؤقف ناقابل فہم ہے کہ کسی غیر معروف ٹوئٹر اکاؤنٹ سے کی گئی ایک ٹوئٹ کرنے سے فوج کے افسران میں بغاوت پیدا ہوسکتی ہے یا اس کی وجہ سے وہ اپنے فرائض سے غافل ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ بھی اسی طرح سے ناقابل فہم ہے کہ کس طرح سے ایک ٹوئٹ عوام میں خوف و ہراس یا بے چینی کا باعث بن سکتی ہے جس سے متاثر ہو کر عوام ریاست یا لوگوں کے خلاف جرم کا ارتکاب کر سکتے ہیں۔جسٹس بابر ستار نے یہ بھی قرار دیا کہ وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کے پاس پاکستان پینل کوڈ کے سیکشن 505 کے تحت درج کسی بھی مقدمے کا نوٹس لینے کا دائرہ اختیار نہیں ہے۔دوسری جانب پاکستان پینل کوڈ کا سیکشن 500 ہتک عزت کے معاملے میں کسی فرد کے نام کی اشاعت سے متعلق ہے لیکن مذکورہ ٹوئٹ میں کسی فرد کا نام نہیں لیا گیا۔عدالت عالیہ کے حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار نے ٹوئٹر ہینڈل کا مالک ہونے سے انکار کیا ہے اور اگر مذکورہ فرد ہی اس ٹوئٹر اکاؤنٹ کا یوزر تھا تو بھی اس مقدمے میں مذکورہ بالا سیکشنز کے تحت ایف آئی آر درج نہیں کی جاسکتیں۔حکم نامے میں ایف آئی آر کو بنیادی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کارروائی نے ایف آئی اے کی جانب سے غیر قانونی اقدام کیا۔ان ریمارکس اور مشاہدات کے ساتھ ہی اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایف آئی آر کو کالعدم قرار دے دیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں