ماڈل گرل ایان علی نےعمران خان کی کھیچائی کر ڈالی

پاکستانی ماڈل ایان علی نے ٹوئٹر پر تحریک انصاف کے رہنما عمران خان کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ دو عادات شاید آپ مرتے دم تک نہیں چھوڑ سکتے، پہلی میرے نام پر ٹی آر پی کمانا (کیونکہ خود کمانا و کھانا آپ کی فطرت نہیں)دوسری جھوٹ بولنا (کیونکہ سچ بولنا آپ نے سیکھا نہیں)۔ ایان علی نے کہا کہ چار سال وزیر اعظم رہے، پھر بھی مجھ پر جھوٹا الزام لیے بغیر آپ کی تقریر و خبر نہیں بنتی، جیسے پہلے نہیں بنتی تھی۔آج بھی آپ کو میری ضرورت ہے ریلیونٹ رہنے کے لیے یہ آپ کے اقتدار کی فردجرم ہے اپنا کیا کرایا کچھ ہوتا تو بیان کر لیتے، آخیر عمر میں میرے نام پر جھوٹ تو نہ بولتے آپ چار سال وزیر اعظم رہے، میں اس دوران بھی جھوٹے مقدمات سے بری ہوئی کیونکہ میں سچی آپ جھوٹے تھے اور ہیں جھوٹ کے کوئی پاؤں نہیں ہوتے جیسے آپ کے اس جھوٹ کے کہ میرے کیس کے تفتیشی افسر کا قتل ہوا میرے کیس میں تفتیشی افسر ایک انسپکٹر سلیم تھے پہلے دن سے آج تک زندہ ہیں ہٹے کٹے ہیں اور اپنے ڈیپارٹمنٹ سے انعام لے رہے ہیں مجھ پر جھوٹی کیس ڈالنے کے ہر کورٹ ڈوکیومنٹ پر اُن کا نام ہے /ان سمیت ہر شخص جو کورٹ ڈوکیومنٹس میں ہے زندہ ہے آپ شاید کسی دباؤ کی وجہ سے​ پڑھ نہیں سکتے اس لیے الف لیلا کی کھانیاں سناتے ہیں جن کا قتل ہوا ان کا نام انسپکٹر اعجاز تھا (ٱللَّٰه مغفرت کرے) دور دور تک میرے کیس سے تعلق نہ تھا یہ ہائی کورٹ میں ثابت ہوا /ایک سال تک سب بشمول آپ کے دوست چوہدری نثار جانتے تھے کہ مرحوم میرے کیس سے متعلقہ نہیں تھے اور ڈکیتی میں قتل ہوئے ایک سال بعد جب میں سب مقدمات جیت گئی تو ان کے قتل کا الزام بھی مجھ پر ڈال دیا گیا اوپر سے دہشت گردی کی دفعات بھی لگائی گئیں میں نے یہ مقدمہ سیشن کورٹ، انسداد دہشت گردی کورٹ، ہائی کورٹ و سپریم کورٹ میں لڑا و جیتا ہر جگہ یہ ثابت ہوا کہ میں اس مقدمہ میں ملزمہ بھی نہیں بالآخر مجھے سپریم کورٹ نے اس مقدمے سے آزاد کیا جانتے ہیں اس بنچ میں کون تھا جسٹس ثاقب نثار اور شیخ عظمت سعید جن کی آپ تک نے تعریف کی سپریم کورٹ تک سے میرے بری ہونے کے بعد اگر آپ کے شکی دماغ میں غلل تھا تو اپنے چار سالہ منحوس دور میں اپیل یا دوبارہ تحقیقات کرتے بطور وزیر اعظم آپ تو چار سال آصف علی زرداری، نواز شریف، مریم، بلاول یا مجھے قانونً کچھ کر نہیں سکے اب پھر ٹی آر پی کے لیے ہم سے بھیک مانگنے لگےجو کچھ میں نے ان جھوٹے مقدمات میں سامنا کیا اسے ہائی کورٹ نے غیر معمولی اور قومی سانحہ کہا آپ میں شرم ہوتی تو ان جھوٹوں کو پھر سے نہ پھیلاتے مگر آپ میں شرم ہوتی تو آپ آپ تو نہ ہوتے ہمیں کیسے پتہ چلتا اسپورٹ کوٹہ پر آکسفورڈ جانے والوں معیار کیا ہوتا ہے انہیں جھوٹوں نے پہلے بھی آپ کا منحوس اقتدار ختم کیا اور یہی جھوٹ آپ کو مزید بھی ایکسپوز کریں گے یہاں تک کہ پاکستان کے عوام آپ اور آپ کے غلیظ اطوار سے آزاد ہوں تب تک میں آپ کے خود پر بولے جھوٹ بے نقاب کرتی رہوں گی اور یہ بھی پوچھوں گی کہ آپ پر درج اقدام قتل کے کیس کا کیا بناآپ کی جانب سے ایک پولیس آفیسر پر لائیو ٹی وی پرحملہ کیا گیا دوسرے آفیسرز کو لائیو ٹی وی پردھمکیاں بھی دی گئیں وقت آ گیا ہے کہ آپ ان اور دوسرے مقدمات بشمول آٹا چوری، رنگ روڈ، مالم جبہ، بی آر ٹی، ادویات، پٹرولیم، مہمند ڈیم، بلاسفیمی، فارن فنڈنگ کا جواب دیں میں تو 20 سال کی عمر میں جھوٹے مقدمات لڑ کر جیت چکی امید ہے آپ بھی گھبرائیں گے نہیں دیکھتے ہیں آپ کتنے دن برداشت کرتے ہیں جو میں نے کیا مزید عزت افزائی کروانی ہو تو پھر میرا نام لیں

اپنا تبصرہ بھیجیں