ماڈل ایان علی کا خرم شیرزمان کو کرارا جواب

معروف ماڈل ایان علی نے خرم شیر زمان کی ٹوئیٹر پر حالیہ بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی مسخرے کی حیثیت نہیں کہ میں اسے جواب دوں ۔ ایان علی نے خرم شیر زمان کے بیان کے بارے میں حقائق بیان کرتے ہوئے کہا کہ “عمران خان 13 مئی کی تقریر میں مجھ پر جھوٹے الزامات لگانے پر آپ کو کہا تھا کہ مزید عزت افزائی کروانی ہو تو پھر میرا نام لیں آپ نے ڈر کے مارے اگلی 3 تقریروں میں میرے ذکر سے توبہ تو کی جو 2015 سے ہر دوسری اور اقتدار کے بعد ہر تقریر میں کرتے تھے مگر اب آپ نے مجھ پر مسخرےچھوڑ دیے- ان میں سے کسی مسخرے کی حیثیت نہیں کہ میں اسے جواب دوں یا اس کا ذکر کر کے آپ کی گالم گلوچ برگئیڈ میں اس کی ترقی کرواوں- ان کا رزق اگر میرے طفیل جاری ہے تو اللہ جاری رکھے
یہ جواب بھی اس لیے لکھ رہی ہوں کہ ڈان نیوز جیسے ادارے نے بھی یہ خبر شائع کی- میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ یہ خبر صحافت کے کس اصول کے مطابق صحیح ہے- خاص طور پر جب “ذرا ہٹ کے ” ڈان یہ بتا چکا تھا کہ میرے کیس سے متعلقہ ہر شخص زندہ ہے اور مرحوم کی کا کیس سے کوئی تعلق نہیں ضرار کھوڑو اور وسعت اللہ خان یہ جانتے ہیں- یہ خبر ایسے ہی ہے جیسے کوئی کہے کہ مجھے جو بائیڈن کے قاتل کا علم ہےجو کہ ابھی زندہ ہیں ایسی خبر لگاتے ہوئے ادارے کو خود حقائق کی چھان بین کرنا چاہیے مجھے 14 مارچ 2015 کو راول لاونج سے غیر قانونی طور پرکرنے والے صاحب انسپکٹر منظورتھے آج تک زندہ ہیں عدالتی کاغذات دیکھ لیں
میرے کیس میں انویسٹیگیشن آفیسر پہلے دن سے انسپکٹر سلیم تھے اور ہیں ان کا اور ان کی عدالت میں ثابت شدہ بدنیتی اور جعلسازی کا ذکر کروں تو کئی دن ہوں گے فضول کا ڈیپریشن الگ ہو گا بہر حال حقیقت یہ ہے کہ یہ صاحب اور چالان کے کالم 5 میں شامل ہر گواہ زندہ ہے -ایک غیر متعلقہ انسپکٹر اعجاز کا دوران ڈکیتی قتل ہوا، ایک سال تک میرا اس سے کوئی لینا دینا نہ تھا پھر جب میں باقی جھوٹے مقدمات سے بری ہوئی تو ان کا قتل میرے سر ڈالا اور اے ٹی اے دفعات لگائی گئیں میں دہشت گردوں کے ہمراہ اے ٹی سی میں کھڑی ہوئی اور اسے فیس کیا فائنلی اے ٹی سی ،ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ سے بری ہوئی
میرے کیس سے متعلق ہائیکورٹ کے تین ممبر بنچ نے کہا
“یہ ریاستی اہلکاروں کا اپنی طاقت کا استعمال کرتے ہوئے پاکستان کے ایک شہری کو دھمکانے کا ایک کلاسک کیس ہے”۔میں بمشکل 21 سال کی تھی جب یہ بدترین ہراسانی کا سامنا کیا بغیرکسی سپورٹ کے-اُس پر سے میڈیا میں میری بدترین کردار کشی ہوئی -جو الفاظ پرائم ٹائم پر میرے بارے میں کہے گئے وہ اتنے غلیظ تھے کہ شاید تحریر نہیں ہو سکتے- اس دوران کسی کو میری عمر، میرے فیملی بیک گراؤنڈ، میری صحت کا خیال نہ تھا – میں نے اس سے شدید صدمہ اور کارڈیومیوپیتھی جیسی بیماریاں حاصل کیں
اب سات سال بعد جب میں 12 میں سے 11 جھوٹے مقدمات جیت چکی ہوں بشمول جعلی منی لانڈرنگ کیس کے تو کیا اب بھی کسی مسخرے کو اجازت ہونی چاہیے کہ وہ میرے نام پر جھوٹ بولے یا بھتان باندھے اور میڈیا بغیر کسی حقائق کی چھان بین کے اس خبر کو جاری کرے کیا دنیا میں کہیں یہ ممکن ہے -مجھے امید ہے کہ کوئی میڈیا ہاؤس میرے بارے میں کسی مسخرےکے بیان کو شائع کرنے سے پہلے حقائق کی چھان بین ضرور کرے گا خاص طور پر ڈان نیوز جیسا ادارہ جہاں کئی صحافی جیسا کہ گل مینے ۔ نصرت جاوید پہلے سے ان جھوٹے مقدموں کی حقیقت جانتے ہیں
بطور میڈیا حقائق کی چھان بین کر کے چلانا کرنا آپ کی ذمہ داری ہے خاص طور پر جب حقائق آپ کے علم میں ہوں جس کی کردار کشی ہو رہی ہو اس سے امید رکھنا کہ وہ مقدمات بھی لڑے اور کلیریفیکیشنز بھی دے زیادتی ہے امید ہے ہم ایتھیکل جرنلزم سے جھوٹی خبروں کا مقابلہ کر پائیں گے”

اپنا تبصرہ بھیجیں