ماریوپول میں 1700 سےزائد یوکرینی فوجیوں نےہتھیار ڈال دیے،روس کادعوی

روس نے دعوٰی کیا ہے کہ اس کے زیرکنٹرول شہر ماریوپول میں ایک ہفتے کے دوران 1700 سے زائد یوکرینی فوجیوں نے ہتھیار ڈال دیے -غیر ملکی میڈیا کے مطابق یوکرین نے ماریوپول میں اپنے فوجیوں کو پیچھے ہٹنے کا حکم دیا تھا۔روس نواز علیحدگی پسندوں کے سربراہ ڈینس پشلین نے بدھ کو مقامی نیوز ایجنسی ڈی این اے کو بتایا کہ یوکرین کے ٹاپ کمانڈر جنہوں نے اسٹیل فیکٹری کے اندر سے زبردست مزاحمت کی وہ ابھی تک اس کے اندر ہی ہیں۔فوج کے ترجمان اولیکسینڈر موتوزینک نے نیوز کانفرنس میں بتایا کہ ریاست پوری کوشش کررہی ہے کہ اپنے اہلکاروں کو بچایا جائے، تاہم عوامی سطح پر مزید معلومات نہیں دی جاسکتیں کیونکہ اس سے وہ عمل خطرے میں پڑنے کا امکان ہے۔یوکرین کی جانب سے تصدیق کی گئی ہے کہ منگل کو 250 سے زائد فوجیوں نے ہتھیار ڈالے تاہم یہ نہیں بتایا کہ ابھی مزید کتنے فوجی اندر ہیں۔روس نے بدھ کو بتایا کہ مزید 694 فوجیوں نے ہتھیار ڈال دیئے ہیں، جس کے بعد کُل تعداد 959 ہوگئی ہے۔ روس کی وزارت دفاع نے ایسی ویڈیوز بھی جاری کی ہیں جن میں سرینڈر کرنے کے بعد یوکرینی فوجیوں کو اسپتال میں طبی امداد لیتے دکھایا گیا ہے۔ ماریوپول کے میئر بوئیچونکوف کا کہنا ہے کہ یوکرین کے صدر ولودومیر زیلنسکی، ریڈ کراس اور اقوام متحدہ مذاکرات میں شامل تھے، تاہم انہوں نے مزید کوئی معلومات نہیں دیں۔ ماریوپول اب تک کا سب سے بڑا شہر ہے جس پر روس نے قبضہ کیا ہے اور 24 فروری سے شروع ہونیوالی جنگ کے بعد اسی شہر پر قبضے کی وجہ سے صدر پوتن نے جزوی فتح کا دعوٰی کیا تھا۔ امریکی وزیر خارجہ اینٹونی بلنکن کا کہنا ہے کہ روس کے ناجائز حملے کے جواب میں یوکرین کے عوام اپنی سرزمین کا دفاع کررہے ہیں اور اس کی بدولت ہی ایک بار پھر ہماری ایمبیسی فعال ہورہی ہے۔ امریکی ایمبیسی کے ترجمان ڈینیئل لینجن کیمپ نے بتایا کہ ابتدائی طور پر بہت کم تعداد میں سفارتکار واپس پہنچیں گے تاہم قونصلر کے معاملات فوری طور پر بحال نہیں کئے جائیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں