قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس، جنرل فیض اور محسن داوڑ میں سخت سوال وجواب

قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ اور کور کمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے درمیان سخت سوال وجواب کا تبادلہ ہوا ہے۔ پارلیمانی فورم نے کالعدم ٹی ٹی پی سے مذاکرات جاری رکھنے کا متفقہ فیصلہ کر لیا ہے۔ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پارلیمانی ممبران پر مشتمل ایک کمیٹی وزیراعظم کے احکامات پر تشکیل دی جائے گی جو مذاکراتی عمل کی ناصرف نگرانی کریگی بلکہ اس کے ساتھ ساتھ کوئی بھی فیصلہ کمیٹی کی اجازت سے مشروط ہوگا۔قومی سلامتی کی کمیٹی کو چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ، ڈی جی آئی ایس آئی ندیم انجم اور کور کمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے بریفنگ دی۔ ذرائع نے تصدیق کی کہ ٹی ٹی پی کی شرائط پر مذاکرات نہیں ہونگے بلکہ حکومت پاکستان کی شرائط پر ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کئے جائینگے۔ فوجی قیادت نے اپنے متفقہ پیغام میں واضح کیا کہ ٹی ٹی پی سے جاری مذاکرات میں پارلیمنٹ کو کسی صورت نظر انداز نہیں کرینگے۔ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں پابند سلاسل ممبر قومی اسمبلی علی وزیر کے حوالے سے دو ممبران نے سوال پوچھا کہ علی وزیر کو ذاتی عناد کی وجہ سے قید میں رکھا گیا، مگر اس سوال کے جواب میں فوجی قیادت مکمل خاموش رہی اور کوئی جواب نہیں دیا۔ ایک سوال کے جواب میں کہ کیا طالبان مسلح واپسی کرکے قانون کو اپنے ہاتھ میں نہیں لینگے؟ اس پر فوجی قیادت نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ نہیں ان کی واپسی آئین اور قانون کے تحت ہوگی اور کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اجلاس کے دوران فوجی قیادت نے پہلی بار تصدیق کی کہ پاکستان آرمی کے کچھ افسران نے افغانستان جا کر ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کئے۔ فاٹا انضمام پر فوجی اور سیاسی قیادت نے متفقہ فیصلہ کیا کہ کسی صورت قبائلی اضلاع کا انضمام ختم نہیں ہوگا۔ ایک سوال کے جواب میں کہ پارلیمان کو اعتماد میں نہ لے کر فوجی قیادت نے کس کی اجازت سے مذاکرات شروع کئے؟ پر جواب دیتے ہوئے فوجی قیادت نے کہا کہ ہم نے اعتماد بحال کرنے کے لئے ٹی ٹی پی سے ملاقاتیں کی لیکن مذاکراتی عمل باقاعدہ شروع نہیں ہوا اور مذاکرات پارلیمنٹ کی اجازت سے ہی شروع ہونگے۔ ممبران پارلیمان کی جانب سے فوجی قیادت سے جب سوال کیا گیا کہ کابل میں طالبان نے بندوق کے زور پر ایک ریاست پر قبضہ کیا تو پاکستان میں وہ کیسے پرامن رہینگے؟ اس سوال پر فوجی قیادت نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ سب کچھ آئین اور قانون کے تحت ہوگا اور کسی کی مسلح واپسی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ممبر قومی اسمبلی محسن داوڑ کے سوالات پر وزیراعظم شہباز شریف نے ان کو کئی بار ٹوک دیا مگر کور کمانڈر پشاور لیفٹننٹ جنرل فیض حمید اور محسن داوڑ کے درمیان سخت سوال اور جواب کا تبادلہ ہوا جبکہ سینیٹر مشتاق احمد کی جانب سے بھی سخت سوالات کا فوجی قیادت کو سامنا رہا۔ جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد خان نے پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ بطور مجموعی اتفاق پایا گیا ہے کہ طالبان سے مذاکرات ہونے چاہیں۔ یہ بھی اتفاق کیا گیا کہ مذاکرات آئین پاکستان کے تحت ہونے چاہیں۔ مشتاق احمد نے کہا فوجی قیادت پر پارلیمان نے واضح کیا کہ فاٹا انضمام کی واپسی کسی صورت قبول نہیں ہے۔ سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ طالبان کو ہتھیار پھینکنا ہوں گے تب ہی بات چیت آگے چل سکے گی۔ انھوں نے مزید کہا کہ حکومت سلامتی کمیٹی اجلاس کا اعلامیہ جاری کرے گی۔ رکن قومی اسمبلی علی وزیر کو آج کے اجلاس میں ہونا چاہیے تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں