قزاقستان میں مظاہرین کےخلاف آپریشن،درجنوں افراد ہلاک

قزاقستان کے مرکزی شہر الماتی میں امن و امان بحال کرنے کی غرض سے حکومت مخالف مظاہرین کے خلاف ہونے والے آپریشن میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے ہیں۔مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے کے بعد قزاقستان کے کئی علاقوں میں مظاہرے پھوٹ پڑے تھے جن میں حکام کے مطابق اب تک سکیورٹی فورسز کے 12 اہلکار ہلاک اور 353 زخمی ہو چکے ہیں۔یہ مظاہرے اتوار کو شروع ہوئے جب حکومت نے ایل پی جی سے پرائس کیپ ہٹایا۔ ملک میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد اپنی کاروں میں ایل پی جی بطور ایندھن استعمال کرتی ہے۔ مگر اس اقدام کے بعد مظاہروں میں سیاسی ناراضی بھی ظاہر کی گئی ہے۔قزاقستان کے صدر نے مظاہرین کو ‘بیرون ملک سے تربیت یافتہ دہشتگرد گروہ’ قرار دیا ہے اور قومی سطح پر ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔ اس کے تحت لوگوں کا بڑی تعداد میں جمع ہونا منع ہے۔قزاقستان کے صدر کی درخواست پر روس (قزاقستان میں) اپنے دستے بھیج رہا ہے۔ صدر کے مطابق روسی دستوں کی مدد سے ملک میں ’استحکام‘ لایا جائے گا۔ قزاقستان روس، بیلاروس، تاجکستان، کرغزستان اور آرمینیا کے اتحاد ’سی ایس ٹی او‘ کا رکن ہے۔سی ایس ٹی او نے تصدیق کی ہے کہ زمینی دستوں کے علاوہ فضائی دستے بھی قزاقستان بھیجے جائیں گے۔ پولیس کی ترجمان نے کہا ہے کہ جب مظاہرین کی بڑی تعداد نے پولیس کی عمارتوں میں داخلے کی کوشش کی تو انھیں ‘ختم کر دیا گیا۔’ مظاہروں میں قریب 1000 لوگوں کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے جبکہ ہسپتالوں میں 400 زیر علاج ہیں اور 62 کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔ملک میں مظاہروں اور احتجاج کا سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب تیل کے زخائر سے مالا مال ملک نے مائع پیٹرولیم گیس کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے جس سے صارفین کو مہنگا ایندھن خریدنا پڑ رہا ہے۔ قزاقستان میں بہت سے افراد اپنی گاڑیوں میں ایندھن کے لیے مائع پیٹرولیم گیس کا استعمال کرتے ہیں۔ان مظاہروں کا آغاز گذشتہ ہفتے کے اختتام پر اتوار کے روز سے صرف ایک علاقے سے ہوا تھا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے ان مظاہروں میں شدت آتی گئی اور رواں ہفتے منگل تک ملک کے بیشتر بڑے شہروں میں مظاہرین کے بڑے بڑے ہجوم پولیس کے ساتھ مڈبھیڑ کرتے دکھائی دینے لگے۔یہ مظاہرے اس وقت پرتشدد ہو گئے جب پولیس نے قزاقستان کے مرکزی شہری اور سابق دارالحکومت الماتی میں مظاہرین کے ایک بڑے ہجوم کو منشتر کرنے کے لیے آنسو گیس اور سٹن گرنیڈز کا استعمال کیا۔ان پرتشدد جھڑپوں میں سینکڑوں مظاہرین اور پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ بدھ تک قزاقستان کے بیشتر حصوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی تھی لیکن اس سب کے باوجود بھی ہزاروں مظاہرین نے سڑکوں پر نکل کر اپنے مظاہرے اور احتجاج جاری رکھے۔ملک کے بیشتر علاقوں میں انٹرنیٹ سروس کو معطل کر دینے کی اطلاعات ہیں۔ قزاقستان کے صدر قاسم جومارت توکایف نے حکومت پر بدامنی کی اجازت دینے کا الزام عائد کرتے ہوئے اسے برطرف کر دیا ہے اور تیل کی قیمتوں کو کم قیمت پر لانے کا وعدہ کیا ہے تاکہ ‘ملک میں امن و امان اور استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔’

اپنا تبصرہ بھیجیں