قرآن کی بےحرمتی پرسوئیڈن میں احتجاج،مظاہرین اورپولیس کےدرمیان جھڑپیں

سوئیڈن میں قرآن کی بے حرمتی اور جلدیں نذر آتش کرنے کے خلاف مختلف شہروں میں بھرپور احتجاج کیا گیا اور اس دوران مظاہرین اور پولیس میں جھڑپوں کے نتیجے میں 26 افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔سوئیڈن کی انتہا پسند دائیں بازو کے گروپ ’ہارڈ لائن‘ نے ڈنمارک نژاد سوئیڈن کے سیاستدان راسمس پلوڈن کی زیر قیادت قرآن کی جلدیں نذر آتش کیں۔راسمس ایک وکیل اور یوٹیوبر ہیں جو سوئیڈش رکن اسمبلی کا الیکشن لڑنا چاہتے ہیں لیکن سوئیڈن کے دورے پر موجود سیاستدان کے پاس امیدوار بننے کے لیے فی الحال زیادہ تعداد میں دستخط موجود نہیں ہیں۔40 سالہ سیاستدان رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں سوئیڈن کے مختلف علاقوں کا دورہ کر کے قرآن پاک کی جلدیں نذر آتش کر رہے ہیں اور ان کے اس عمل پر یورپ بالخصوص سوئیڈش مسلمانوں میں شدید اشتعال پایا جاتا ہے۔انتہا پسند سیاستدان نے ہفتے کو مالمو میں قرآن کی ایک جلد نذر آتش کی تھی جس کے بعد وہاں کے اسکول میں رات میں آگ بھڑک اٹھی تھی اور چار دن سے مسلسل احتجاج اور مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔اس قبیح عمل کی وجہ سے حالیہ دنوں میں احتجاج کرنے والے مسلمان مظاہرین اور پولیس کے درمیان متعدد جھڑپیں بھی ہوئی ہیں۔جمعرات اور جمعہ کو ہونے والی جھڑپوں میں 12 پولیس افسران زخمی ہو گئے تھے۔پولیس نے اپنے بیان میں کہا کہ اتوار کو نورکوپنگ میں احتجاج کے دوران 8 افراد اور لنکوپنگ میں کیے گئے احتجاج میں 18 افراد کو گرفتار کیا گیا۔واضح رہے کہ پلوڈن نے سوئیڈن بھر میں ایسٹر کے موقع پر مظاہروں کی اجازت طلب کی تھی اور وہ قرآن کی بے حرمتی کے کئی واقعات کی اس سے قبل بھی سربراہی کر چکے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں