قدرتی نشاستہ سرطان روکنے میں مددگار

سائنسدانوں کی تحقیق کے مطابق بعض اقسام کے موروثی سرطان کو روکنے میں قدرتی نشاستہ اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔تحقیق کے مطابق معمولی کچے کیلوں میں ایک طرح کا نشاستہ پایا جاتا ہے جسے ’ریززسٹنٹ اسٹارچ‘ یا مزاحمتی نشاستہ کہا جاتا ہے۔ اگر اس کا 30 گرام سپلیمنٹ روز کھایا جائے تو ایک کمیاب جینیاتی سرطان کی کئی اقسام کا خطرہ نصف ہوسکتا ہے۔یہ نشاستہ سبز کیلوں، لوبیا اور دلیے میں بھی موجود ہوتا ہے۔ مزاحمتی نشاستہ ایک طرح کا کاربوہائڈریٹ ہے جو ہضم ہوئے بنا چھوٹی آنت سے گزرجاتا ہے۔ یہ نشاستہ لنچ سنڈروم نامی جینیاتی کیفیت کے تحت معدے اور آنتوں میں سرطان کی وجہ بنتا ہے جس کی کئی اقسام ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پہلی مرتبہ کینسر کے تدارک میں کسی غذائی جزو کی مسلمہ اہمیت سامنے آئی ہے۔ لنچ سنڈروم ایک کمیاب جینیاتی کیفیت ہے جو دماغ، معدے، پتے اور بڑی آنت سمیت کئی طرح کے سرطان کی وجہ بن سکتی ہے۔ اب اگر لنچ سنڈروم سے معدے اور آنتوں کا سرطان لاحق ہوجائے تو وہ شدید جان لیوا ہوتا ہے۔ لیکن نشاستے پر تحقیقی کرنے والے کینسر انسٹی ٹیوٹ، بوسٹن کے ڈاکٹر میتھیو یورگیلن کہتے ہیں کہ نشاستے کا باقاعدہ استعمال ایسے مریضوں پر سرطان کا حملہ پسپا کرتا ہے۔آنتوں کے کینسر میں نشاستے کے بچاؤ کے اہم کردار سے ہم 50 سال سے واقف ہیں۔ اس پر نیوکاسل یونیورسٹی کے جان میترز نے بھی غور کیا اور بتایا کہ نشاستہ اس سرطان سے لڑنے کی طاقتور صلاحیت رکھتا ہے۔ ڈاکٹر جان میترز نے اس ضمن میں لنچ سنڈروم کے شکار مریضوں کا انتخاب کیا جو اس سرطان کی گرفت میں آسکتے ہیں۔اس تحقیق میں کل 463 ایسے افراد بھرتی کئے گئے جو لنچ سنڈروم جیسی نایاب کیفیت کے شکار تھے اور انہیں دوبرس تک روزانہ 30 گرام مزاحمتی نشاستہ کھانے کا کہا گیا جو دو کچے کیلوں میں پایا جاتا ہے۔ دوسری جانب 455 ایسے ہی لوگوں کو فرضی دوا (پلے سیبو) دیا گیا۔کینسرکی پیدائش میں وقت لگتا ہے لیکن لنچ سنڈروم والے بدقسمت افراد میں اس کا حملہ جلدی ہوجاتا ہے۔ پھر تمام مریضوں کا دس سال تک جائزہ لیا گیا۔ پھر مزید 10 برس ان سے رابطہ رکھا گیا۔ پہلے دو برس تک دونوں گروہوں کے مریضوں کی شرح یکساں تھی اور کوئی فرق نہ تھا۔ لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ اسٹارچ کھانے والے 78 افراد سرطان کے شکار ہوئے جبکہ نشاستہ نہ کھانے والے 96 افراد پر کینسر کا حملہ ہوا۔ اس طرح یہ واضح فرق سامنے آیا۔دیگر اقسام کے کینسر میں بھی بہت فرق دیکھا گیا اور شماریاتی لحاظ سے کہا جاسکتا ہے کہ نشاستے کا باقاعدہ استعمال لنچ سنڈروم کے مریضوں کو کئی طرح کے سرطان سے بچاسکتا ہے۔ اس طرح مجموعی طور پر نشاستہ 50 فیصد تک خطرات کو کم کرسکتا جو ایک بہت ہی اہم شرح بھی ہے۔اس تحقیق کے بعد ماہرین نے کہا ہے کہ وہ کسی بھی طرح مزاحمتی نشاستے کو اپنی غذا کا حصہ ضرور بنائیں۔

کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں