عدم اعتماد پر ووٹنگ شام 8 بجے تک ملتوی

حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات ہوئے ہیں جس میں عدم اعتماد پر ووٹنگ 8 بجے کرانے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔سینئر تجزیہ کار حامد میر نے کہا کہ قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر کے چیمبر میں اپوزیشن اور حکومتی رہنماؤں کے درمیان مذاکرات ہوئے جس میں طے پایا کہ دونوں فریقین کے تقریروں کے درمیان کوئی عمل دخل نہیں ہوگا اور ماحول خراب نہیں کیا جائے گا۔حامد میر نے کہا کہ شاہ محمود نے جے یو آئی کے مولانا اسعد محمود یقین دہانی کرائی ہےکہ تقاریر ہونے دیں جس کے بعد 8 بجے عدم اعتماد پر ووٹنگ کرائی جائے گی۔ اس سے قبل سینئر تجزیہ کار کا کہنا تھا کہ اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی جانب سے قومی اسمبلی کا اجلاس ملتوی کیے جانے کے بعد اہم شخصیات سے بات ہوئی ہے۔حامد میر نے بتایا کہ پاکستان تحریک انصاف کے ایک رکن قومی اسمبلی نے خود میسج کر کے بتایا کہ آج کے اجلاس کے حوالے سے وزیراعظم نے شاہ محمود قریشی کو 3 گھنٹے تقریر کرنے کی ہدایت کی ہے، ان کے پاس 3 گھنٹے کی تقریر کے نوٹس موجود ہیں۔سینئر تجزیہ کار نے آج کے سیشن کے حوالے سے حکومتی حکمت عملی پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وزیراعظم عمران خان نے اپنے ارکان سے کہا ہے کہ اپوزیشن ارکان اگر اجلاس میں بے چین ہوتے ہیں تو انہیں ہونے دیں اور کوشش کریں کہ ایوان میں کوئی ہنگامہ آرائی ہو تاکہ اجلاس کسی طرح ملتوی ہو سکے۔حامد میر کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے شہباز شریف سے پوچھا تو ان کا کہنا تھا کہ اگر آج قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ نہیں ہوتی تو ہمارے سامنے آئین کا آرٹیکل 187 ہے، عدالتی احکامات کی روشنی میں اسلام آباد ہائیکورٹ یا سپریم کورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں