عدلیہ اپنےکام سےکام رکھے،ورنہ خودحکومت کرلیں،مولانا فضل الرحمن کی سخت تنقید

جمیعت علمائے اسلام ف کے امیر مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ عدلیہ کا اپنا کام ہے حکومت کا اپنا کام ہے، آپ ان لوگوں سے ڈرتے ہیں، لیکن اگر یہ مخلوق ( جلسے کے شرکاء کی جانب اشارہ کرتے ہوئے)عدالت کے سامنے کھڑی ہوگئی تو کیا کریں گے،عدالت آزادی کے ساتھ فیصلےکرے۔ کسی کے کہنے پر دباؤ میں آ کر عدالت فیصلہ نہ کرے-یہ بات انہوں نے کراچی میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ مولانا فضل الرحمان نے عدالت سے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے چیف ایگزیکٹو نے ان کا کہنا تھا کہ عدلیہ اپنی عزت اور وقار میں کمی کر رہی ہے۔ بشیر میمن چیخ چیخ کر کہتا رہا کہ عمران خان نے غلط کام کا بولا، مگر اس پر تو عدالت نے کوئی سوموٹو نہیں لیا تھا، مگر ایک جلسہ کی گفتگو کو بنیاد بنا کر سوموٹو لیا گیا ہے۔مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ کیا عدالت نے اتنا بڑا قدم ایک جلسے میں عمران خان کی گفتگو پراٹھایا؟ انہوں نے عدالت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بہتر ہے کہ آپ حکومت کرلیں، آپ ہی ملک کے چیف ایگزیکٹو بن جائیں۔امیر جے یو آئی کا کہنا تھا کہ حکومت کا اپنا کام ہے جبکہ عدلیہ کا اپنا، آپ ان لوگوں سے ڈرتے ہیں۔ عدالت آزادی کے ساتھ فیصلے کرے۔ یہ مخلوق عدالت کے سامنے کھڑی ہوگئی تو کیا کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب سازش اور خط کا بیانیہ ختم ہو گیا تو عمران خان نے زندگی کو خطرے کا بیان دے دیا، عمران خان کو پارلیمنٹ اور عوامی نمائندوں نے مسترد کیا ہے، انھیں کس بات کا شکوہ ہے،عمران خان ملک میں معاشی اور سیاسی عدم استحکام پیدا کرنا چاہتا ہے، ہم عوامی حقوق کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں ۔ سربراہ جمعیت علما اسلام کا کہنا تھا کہ آج کل مشکلات کھڑی کی جارہی ہیں، لیکن جلسیوں سے گھبرانے کی ضرورت نہیں، جو صادق اور امین بنا ہوا ہے اسے کوئی پیسے دینے کو تیار نہیں، جن کو یہ چورکہتا ہے اس کو پیسے دینے کو دنیا تیار ہے۔ عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ عمران خان کارکردگی کے لحاظ سے نااہل اور دماغی طور پر بیمار ثابت ہوئے، ہم پاکستان میں کسی یہودی ایجنٹ کو رہنے نہیں دیں گے۔مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ملک میں ایک مخصوص لابی اسرائیل کو تسلیم کرنے کے حق میں تھی، لیکن آپ کی آواز پر پاکستان میں کوئی اسرائیل کو تسلیم کرنے کی جراءت نہیں کرسکا، ہماری کاوشوں نے اس لابی کو اسرائیل کو تسلیم کرنےکے مؤقف سے پیچھے ہٹنے پر مجبورکیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں