طلاق کا مقدمہ:30لاکھ ڈالرادا کرویا8 ہزارسال اسرائیل میں گزارو،شوہرکوحکم

ایک اسرائیلی بیوی نے اپنے آسٹریلوی خاوند کے خلاف طلاق کا مقدمہ دائر کیا ہے جس پر عدالت نے خاوند پر آٹھ ہزار سال تک اسرائیل چھوڑنے کی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔آسٹریلوی ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق 44 سالہ نوم ہیوپرٹ کو عدالت نے حکم دیا ہے کہ وہ یا تو مستقبل میں بچوں کی پرورش کے لیے 30 لاکھ ڈالر سے زائد ادا کریں یا 31 دسمبر 9999 تک اسرائیل ہی میں رہیں۔اپنی ناراض بیوی کے اسرائیل جانے کے بعد آسٹریلوی شہری 2012 میں اپنے دو بچوں کے قریب رہنے کے لیے گیا تھا۔ خاتون نے اسرائیل میں طلاق کے قوانین جن کو انسانی حقوق کے کارکن ’سخت اور ضرورت سے زیادہ‘ قرار دیتے ہیں، کے تحت مقدمہ دائر کیا تھا۔انہوں نے کہا:’2013 سے میں اسرائیل میں بند ہوں،‘ اور مزید بتایا کہ وہ ان آسٹریلوی شہریوں میں سے ایک ہیں جنہیں ’اسرائیلی انصاف کے نظام نے صرف اس وجہ سے تنگ کیا ہے کہ انہوں نے اسرائیلی خواتین سے شادی کی تھی۔‘ ویب سائٹ کے مطابق عدالت نے ان کے خلاف ایک نام نہاد ’سٹے آف ایکزٹ‘ کا حکم جاری کیا ہے جس میں وہ اس وقت تک چھٹی یا کام کے لیے بھی ملک چھوڑ سکتے جب تک وہ اپنے دو بچوں کی عمر18سال ہونے تک کی دیکھ بھال کے لیے ’مستقبل کا قرض‘ ادا نہیں کرتے۔اب وہ اپنی کہانی دنیا کے ساتھ شیئر کرنا چاہتے ہیں تاکہ ’دوسرے آسٹریلینز کی مدد کی جا سکے جو اس تقریباً جان لیوا تجربے کا شکار ہو سکتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں