طالبان نے مجاہدین کو سیروتفریح کی سیلفیاں سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے سے روک دیا

طالبان حکومت کے وزیر دفاع نے اپنے جنگ جوؤں کے فیشن کرنے اور سیروتفریح کی سیلیفیاں پوسٹ کرنے پر غصہ کرتے ہوئے اسے اسلامی اقدار کے خلاف قرار دے دیا ہے۔ مولوی یعقوب نے طالبان جنگ جوؤں کے فیشن کرنے اور سیلیفیاں لینے پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیاحتی مقامات، اور تفریحی سرگرمیوں کے دوران سیلفیاں لینے اور اسے سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے سے طالبان کی ساکھ کو نقصان پہنچ رہا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 15 اگست کو کابل پر قضہ کرنے کے بعد ہزاروں طالبان جنگجوؤں کو صوبائی دارالحکومت میں تعینات کیا گیا تھا، تاہم فارغ اوقات میں پگڑی پہنے اور گنیں لٹکائے طالبان جنگ جو قابل دید مقامات، ایمیوزمینٹ پارکس اور دیگر تفریحی مقامات پر پکنک مناتے نظر آتے ہیں۔ جب کہ ملک کے دیگر حصوں سے بھی طالبان جنگ جو بے تکے انداز میں سیاحتی دوروں پر کابل آرہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق طالبان حکومت کے وزیر دفاع مولوی یعقوب نے اس طرز عمل پر اپنے جنگ جوؤں کی سرزنش کرتے ہوئے انہیں ہدایات دی ہیں کہ وہ اس کام پر توجہ مرکوز کریں جو انہیں دیا گیا ہے۔ اس با رے میں ان کا کہنا ہے کہ ’ آپ لوگ ہماری اس ساکھ کونقصان پہنچا رہے ہیں، جسے ہم نے اپنے شہیدوں کے خون سے بنایا ہے۔انہوں نے خاص طور پر ان جنگ جووؤں کو تنبیہ کی جو سیر و تفریح اور دورے پر آنے والے طالبان راہنماؤں کے ساتھ سیلفیاں بنا کر انہیں سوشل میڈیا پر پوسٹ کرتے ہیں، جس سے گروپ کے ارکان کی معلومات، محل وقوع اور دیگر سرگرمیوں کا راز افشا ہو جاتا ہے۔وزیر دفاع نے طالبان جنگ جوؤں کے لباس پر بھی تنقید کرتے ہوئے انہیں حکم دیا کہ وہ اپنی داڑھیاں، بال اور کپڑے گروپ کی جانب سے وضح کردہ اسلامی قوانین کے حساب سے پہنیں۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق کابل میں بہت سے طالبان جبگ جوشانے تک بال، اسٹائلش لباس، فیشن ایبل سن گلاسز اور اسنیکرز پہننے دکھائی دیتے ہیں۔مولوی یعقوب کا اس بارے میں کہنا تھا کہ یہ طرز عمل کٹھ پتلی حکومتوں کے وار لارڈز اورگینگسٹرز کا ہوتا ہےاور اگر ہم نے اس رجحان کو نہیں روکا تو پھر ہم اپنے اسلامی نظام کو کھو دیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں