ضمنی انتخابات:عمران خان پشاوراورمردان سےکامیاب،4 حلقوں میں برتری

ملک بھر میں قومی اسمبلی کی 8 اور پنجاب اسمبلی کی 3 نشستوں پر ضمنی انتخابات کے غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کا سلسلہ جاری ہے، چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان پشاور اور مردان سے کامیاب ہوگئے ہیں جبکہ انہیں 4 حلقوں اور پیپلزپارٹی کو 2 حلقوں میں برتری حاصل ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے اراکین قومی اسمبلی کے استعفے منظور ہونے کے بعد خالی ہونے والی خیبرپختونخوا کی 3، پنجاب کی 3 اور سندھ کی 2 نشستوں پر ضمنی انتخابات ہوئے، پولنگ کے بعد اب ووٹوں کی گنتی اور غیر سرکاری غیر حتمی نتائج کا سلسلہ جاری ہے۔تینوں صوبوں میں پی ڈی ایم اور حکومت کی اتحادی جماعتوں کا پی ٹی آئی سے سخت مقابلہ ہے جن میں سے 7 نشستوں پر خود عمران خان بطور امیدوار ہیں جبکہ ایک نشست پر شاہ محمود قریشی کی صاحبزادی مہر بانو پی ٹی آئی کے ٹکٹ سے بلے کے نشان پر الیکشن لڑ رہی ہیں۔این اے 22 مردان کے تمام 330 پولنگ اسٹیشنز کے نتائج الیکشن کمیشن کو موصول ہوگئے جس کے مطابق عمران خان 76 ہزار 681 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے ہیں جبکہ محمد قاسم 68 ہزار 181 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق این اے 22 مردان میں ووٹرز کا ٹرن اوور 32.94 فیصد رہا۔این اے 24 چارسدہ سے 367 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق عمران خان کے 74830 اور ایم ولی کے 65230 کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔الیکشن کمیشن نے این اے 31 پشاور کا فارم 47 جاری کردیا۔ تفصیلات کے مطابق عمران خان 57818 ووٹ حاصل کرکے کامیاب ہوگئے ہیں۔ اے این پی کے غلام بلور کے 32 ہزار 252 ووٹ لے سکے۔جماعت اسلامی کے محمد اسلم 3 ہزار 817 ووٹ لیکر تیسرے نمبر پر رہے۔ این اے 31 پشاور میں ووٹرز ٹرن آؤٹ 20.28 فیصد رہا۔ این اے 108 کے 324 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان 91809 ووٹ لے کر آگے مسلم لیگ ن کے عابد شیر علی 68984 ووٹ حاصل کر کے دوسرے نمبر پر ہیں۔حلقہ این اے 118 کے 271 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی نتاٸج کے مطابق پی ٹی آٸی امیدوار عمران خان 75075 ووٹ لے کر آگے جبکہ مسلم لیگ (ن) کی امیدوار ڈاکٹر شذرہ منصب علی کھرل 64569 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں اور ٹی ایل پی کے پیر افضال حسین شاہ 20764 ووٹ لے کر تیسرے نمبر پر ہیں۔ ملتان کے حقلہ این اے 157 کے 197 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی نتائج کے مطابق پی پی کے علی موسی گیلانی 79743 کے ساتھ کامیاب ہوگئے ہیں۔ ٹی آئی کی امیدوار مہربانو 59993دوسرے نمبر پر ہیں۔این اے 237 ملیر کے 150 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی نتیجہ کے مطابق پاکستان پیپلزپارٹی کے عبدالحکیم بلوچ 20740 کے ساتھ پہلے جبکہ پی ٹی آئی کے عمران خان 17740 کے ساتھ دوسرے نمبر اور ٹی ایل پی کے سمیع اللہ خان 2096 ووٹ لے کر تیسرے نمبر پر ہے۔ این اے 239 کورنگی کے 106 پولنگ اسٹیشن غیر حتمی نتیجے کے مطابق تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان 16039 ووٹ لے کر آگے، ایم کیو ایم کے سید نیئر رضا 2748 ووٹ لے کر دوسرے نمبر اور ٹی ایل پی کے محمد یاسین 1904 ووٹ لے کر تیسرے نمبر پر ہیں۔ پنجاب کی صوبائی نشستوں کے غیر حتمی نتائج کے مطابق خانیوال اور بہاولنگر میں پی ٹی آئی جبکہ شیخوپورہ میں مسلم لیگ (ن) کو برتری حاصل ہے۔ پی پی 139 کے 152 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی نتائج کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے افتخار احمد بھنگو 40435 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر پی ٹی آئی کے محمد ابو بکر 37345 لے کر دوسرے نمبر پرہیں۔پی پی 209 خانیوال کے غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق پی ٹی ائی کے امیدوار محمد فیصل خان نیازی 58337 ووٹ لیکر آگے جبکہ مسلم لیگ ن کے امیدوار چوہدری ضیا الرحمان 45958 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر ہیں۔ پی پی 241 کے 156 پولنگ اسٹیشنز کے غیرحتمی غیرسرکاری نتائج کے مطابق تحریک انصاف کے امیدوار ملک مظفر خان55005 ووٹ کے ساتھ پہلے جبکہ مسلم لیگ (ن) کے امان اللہ ستار باجوہ 44229 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔خیبرپختونخوا کے حلقے این اے 22 مردان میں جمیعت علما اسلام کی جانب سے مولانا قاسم جبکہ چارسدہ حلقہ این اے 24 سے عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل خان ولی کو ٹکٹ دیا گیا، ان دونوں امیدواروں کی حکومت میں شامل تمام اتحادی جماعتوں نے حمایت کا اعلان کردیا ہے۔ پی ڈی ایم امیدواروں کا مقابلہ پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان سے ہوا۔پنجاب کی تین نشستوں حلقہ این اے 108 فیصل آباد، ننکانہ صاحب این اے 118 سے مسلم لیگ ن نے بالترتیب عابد شیر علی اور ڈاکٹر شذرہ منصب علی کو ٹکٹ دیا گیا، جن کو پی ڈی ایم کی حمایت بھی حاصل ہے۔ ان دونوں حلقوں پر بھی لیگی امیدواروں کے مدمقابل عمران خان رہے۔ ملتان این اے 157 کی نشست سے شاہ محمود قریشی کی صاحبزادی مہر بانو قریشی نے پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا جن کا مقابلہ یوسف رضا گیلانی کے بیٹے اور پی پی کے امیدوار علی موسیٰ گیلانی سے ہوا۔علاوہ ازیں کراچی کے حلقہ این اے 237 اور 239 میں عمران خان کے مدمقابل پی ڈی ایم نے بالترتیب عبدالحکیم بلوچ اور ایم کیو ایم کے نیئر رضا کو مشترکہ امیدوار نامزد کیا۔ حلقہ این سے 237 میں مجموعی طور پر گیارہ جبکہ حلقہ این اے 239 میں 22 امیدوار مد مقابل ہوئے۔قومی اسمبلی کے 8 حلقوں کے علاوہ پنجاب اسمبلی کے تین حلقوں پی پی 139 شیخوپورہ، پی پی 209 خانیوال اور پی پی 241 بہاولنگر میں بھی ضمنی انتخاب ہوئے۔الیکشن میں امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کیے گئے جبکہ انتخابی سامان ریٹرننگ افسران کی زیر نگرانی پولنگ اسٹیشن منتقل کیا گیا۔ الیکشن کمیشن نے کراچی کے دونوں این اے 237 اور 239 کے تمام پولنگ اسٹیشنز کو حساس یا انتہائی حساس قرار دیا۔ تمام حلقوں میں پولنگ صبح 8 بجے سے شام پانچ بجے تک بغیر کسی وقفے کے جاری رہی۔ الیکشن کمیشن نے رینجرز، ایف سی اور پاک فوج کی تعیناتی کا نوٹی فکیشن بھی جاری کیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں