شمالی کوریا بھی ہائپرسونک میزائل کی تیاری

شمالی کوریا نے ہائپر سونک میزائل کا کامیاب تجربہ کیا ہے، یہ اس ایٹمی ملک کی جانب سے پہلا بڑا تجربہ ہے۔شمالی کوریا کی جانب سے بین الاقوامی پابندیوں اور مذمت کے باوجود جدید ترین ٹیکنالوجی کے حصول کی کوششوں میں یہ دوسرا رپورٹ شدہ ٹیسٹ تھا جس کے بارے میں شمالی کوریا نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ ہائپرسونک گلائیڈنگ میزائل ہے۔ہائپر سونک میزائل روایتی میزائلوں کی نسبت بہت زیادہ تیزی سے سفر کرتے ہیں اور بہت زیادہ متحرک ہوتے ہیں، یوں امریکا میزائلوں سے تحفظ کے جن نظاموں پر کام کر رہا ہے ان کے لیے اس میزائل کو ہدف بنانا مشکل ہوجاتا ہے۔ہ بدھ کے روز فائر کیے گئے میزائل پر ’ہائپر سونک گلائیڈنگ وارہیڈ‘ نصب تھا جس نے ’700 کلومیٹر دور ہدف کو کامیابی سے نشانہ بنایا‘۔بیان میں مزید کہا گیا کہ اس وارہیڈ نے ایک نئی صلاحیت کا بھی مظاہرہ کیا اور لانچر سے الگ ہونے کے بعد 120 کلومیٹر عمودی پرواز کی۔ہائپرسونک میزائلوں کو شمالی کوریا کے موجودہ 5 سالہ منصوبے میں اسٹریٹجک ہتھیاروں کے لیے ’اولین ترجیح‘ کے کاموں میں شامل کیا گیا تھا اور شمالی کوریا نے اپنے ہائپرسونک میزائل ’ہواسنگ 8‘ کے پہلے تجربے کا اعلان گزشتہ سال ستمبر میں کیا تھا۔ اپنے ڈیزائن کے مطابق ہائپرسونک میزائل روایتی اور جوہری وار ہیڈز لے جاسکتے ہیں اور یہ اسٹریٹجک توازن کو بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، عام طور پر یہ آواز کی رفتار سے 5 گنا زیادہ رفتار سے سفر کرتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں