سپریم کورٹ: ڈپٹی اسپیکر رولنگ اور قومی اسمبلی کی تحلیل غیر آئینی قرار

سپریم کورٹ نے ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی جانب سے وزیر اعظم عمران خان کے خلاف لائی گئی تحریک عدم اعتماد کو مسترد کرنے کی رولنگ اور صدر مملکت کے اسمبلی تحلیل کرنے کے فیصلے کو غیر آئینی قرار دے دیا۔ چیف جسٹس نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ یہ تمام ججز کا متفقہ فیصلہ ہے، ہم نے ایک دوسرے سے مشورہ کیا، ڈپٹی اسپیکر کی 3 اپریل کی رولنگ غیر آئینی تھی جبکہ وزیر اعظم، صدر کو اسمبلی تحلیل کرنے کی ایڈوائس نہیں دے سکتے تھے۔ عدالت عظمیٰ نے قومی اسمبلی کو بحال کرتے ہوئے اسپیکر کو ایوان زیریں کا اجلاس 9 اپریل بروز ہفتہ صبح 10 بجے بلانے اور تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کرانے کی ہدایت کردی۔ چیف جسٹس نے حکم دیا کہ ووٹنگ والے دن کسی رکن قومی اسمبلی کو ووٹ ڈالنے سے نہیں روکا جائے گا جبکہ تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے کی صورت میں فوری نئے وزیر اعظم کا انتخاب ہوگا۔ سپریم کورٹ نے صدر مملکت کے نگراں حکومت کے احکامات کو بھی کالعدم قرار دے دیا۔ فیصلہ سنانے سے پہلے چیف جسٹس نے چیف الیکشن کمشنر کو روسٹرم پر بلایا اور استفسار کیا کہ کیا آپ نے پورے ملک کی حلقہ بندیاں کرنی ہیں یا کسی ایک علاقے کی؟ چیف الیکشن کمشنر نے جواب دیا کہ پورے ملک کی حلقہ بندیاں ہونی ہیں جبکہ 6 سے 7 ماہ میں حلقہ بندیاں ہو سکیں گی۔ انہوں نے کہا کہ شفاف انتخابات کے لیے ضروری ہے کہ حلقہ بندیاں ہوں، فاٹا کے انضمام کے بعد خیبر پختونخوا کی تمام حلقہ بندیاں بدلیں گی، فاٹا کی 12 نشستیں ختم ہو کر خیبر پختونخوا میں ضم ہو گئی ہیں۔ چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ الیکشن کمیشن اپنی ذمہ داری پوری کرنے کے لیے مکمل اقدامات کرے۔ عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے بعد وزیر اعظم وفاقی کابینہ سمیت اپنے عہدوں پر بحال ہوگئے۔ فیصلے سے قبل سپریم کورٹ کے باہر حفاظتی اقدامات مزید سخت کردیے گئے اور پولیس کی اضافی نفری کو طلب کرلیا گیا جبکہ فواد چوہدری، فیصل جاوید، شہباز شریف اور بلاول بھٹو زرداری سمیت پی ٹی آئی اور اپوزیشن جماعتوں کے متعدد رہنما فیصلہ سننے کے لیے عدالت عظمیٰ پہنچے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں