سپریم کورٹ:شاہ زیب قتل کیس میں شاہ رخ جتوئی سمیت تمام ملزمان بری

سپریم کورٹ آف پاکستان نے شاہ زیب قتل کیس کے مرکزی ملزم شاہ رخ جتوئی سمیت دیگر ملزمان کو بری کردیا۔جمعرات کو جسٹس اعجازالاحسن کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ملزم کے وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ فریقین کا پہلے ہی راضی نامہ ہوچکا ہے اور ملزمان کا دہشت پھیلانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔انہوں نے کہا کہ قتل کے واقعے کو دہشت گردی کا رنگ دیا گیا۔عدالت نے وکیل کے دلائل سننے کے بعد مرکزی ملزم شاہ رخ جتوئی اور نواب سراج تالپور سمیت دیگر ملزمان کو بری کردیا۔عدالتی فیصلے کے بعد ملزمان کے وکیل لطیف کھوسہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مقتول کے ورثا کے ساتھ صلح ہوگئی تھی اور مدعی اور لڑکے کے والد اورنگزیب انہوں نے بیان دیا تھا کہ میں دل سے اور بغیر کسی جبر کے معاف کرتا ہوں جبکہ ان کی بیگم بھی گواہ تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ سب ہی نے کہا کہ ہماری صلح ہوگئی ہے لہٰذا ملزم کو بری کیا جائے کیونکہ اس میں کوئی عذر نہیں اور اسلام بھی اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ معاملات کو الجھانے کے بجائے اسے خوشگوار انداز میں صلح کر لی جائے۔انہوں نے کہا کہ آج سپریم کورٹ نے تمام ملزمان کو انسداد دہشت گردی کے مقدمے میں بری کیا ہے، مقتول کے ورثا کے راضی نامے کو ہائی کورٹ نے تسلیم کرلیا تھا اور 302 سے استثنیٰ دیا تھا۔ملزم کے وکیل نے کہا کہ 7-اے ٹی اے میں دہشت گردی پھیلانے کا مواد ہونا چاہیے، اس میں دہشت گردی پھیلانے کا کوئی عنصر تھا ہی نہیں، آدھی رات کو بچوں کا جھگڑا ہوتا ہے اور اس جھگڑے کے شاخسانے میں شاہ زیب کو دو گولیاں لگتی ہیں، لہٰذا اس میں کوئی دہشت گردی کا عنصر نہیں تھا۔انہوں نے بتایا کہ سپریم کورٹ نے کہا کہ 7-اے ٹی اے میں چونکہ دفعہ 6 کے کسی بھی مندرجات کا اطلاق نہیں ہوتا اس لیے اس دفعہ کے تحت انسداد دہشت گردی کی سزا کو سپریم کورٹ نے کالعدم قرار دے دیا ہے۔لطیف کھوسہ نے کہا کہ آج انصاف کا بول بالا ہوا ہے، صلح اور امن آشتی ہونی چاہیے، دونوں خاندانوں کے بہت اچھے تعلقات ہوگئے ہیں۔ ملزم شاہ رخ جتوئی کی جانب سے فتح کا نشان بنانے کے حوالے سے ملزم کے وکیل نے کہا کہ بچہ اس وقت 18سال کا تھا اور شاہ رخ نے سپریم کورٹ میں کہا تھا کہ وکٹری کا نشان بنانا میرا بچپنا تھا اور میرا خیال ہے کہ اگر 17 سے 19 سال کی عمر کے بچے اس طرح کی حرکت کر جائیں تو انہیں اصلاح کا موقع دینا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ سچ کا ساتھ دیں، آپ لوگ سوشل میڈیا پر مہم چلا کر جرم ثابت ہونے اور فیصلے سے پہلے اس کا ٹرائل کر کے داغدار اور مجرم ثابت کر دیتے ہیں۔ یاد رہے کہ 20 سالہ نوجوان شاہ زیب کو دسمبر 2012 میں کراچی کے علاقے ڈیفنس میں فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا تھا۔اس وقت کے چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدری نے مقدمے کا از خود نوٹس لیا تھا جس کے بعد پولیس نے مجرموں کو گرفتار کرکے ان کے خلاف انسداد دہشت گردی کی عدالت میں مقدمہ چلایا تھا۔ بعد ازاں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے 30 جون 2013 کو شاہ رخ جتوئی اور سراج تالپور کو سزائے موت جبکہ سجاد تالپور اور غلام مرتضی لاشاری کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔مجرمان نے 2013 میں ہی سزا کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔عدالت کی جانب سے سزائے موت سنانے کے چند ماہ بعد شاہ زیب کے والدین نے معافی نامہ جاری کردیا تھا جس کو سندھ ہائی کورٹ نے منظور کیا تھا۔شاہ زیب کے والدین کی جانب سے معافی نامہ جاری کرنے کے بعد سزائے موت دہشت گردی کی دفعات کے باعث برقرار تھی، تاہم 11 نومبر 2017 کو سندھ ہائی کورٹ نے سزا کو کالعدم قرار دیتے ہوئے دوبارہ تفتیش کا حکم جاری کردیا تھا۔ 30 دسمبر کو سیشن کورٹ نے شاہ رخ جتوئی سمیت دیگر مجرموں کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا تھا۔ یاد رہے کہ 26 دسمبر 2017 کو وکلا، انسانی حقوق کے کارکن جبران ناصر اور کراچی کے دیگر شہریوں نے سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے شاہ زیب قتل کیس میں شاہ رخ جتوئی اور ان کے ساتھیوں کے مقدمے کو سیشن عدالت بھیجنے کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔سپریم کورٹ نے یکم فروری 2018 کو شاہ زیب قتل کیس میں متفرق درخواستوں کی سماعت کے دوران سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے شاہ رخ جتوئی سمیت 3 مجرمان کو دی جانے والی ضمانت اور مذکورہ کیس دوبارہ سول عدالت میں چلانے کا فیصلہ معطل کرکے مجرمان کی گرفتاری کا حکم دے دیا تھا۔سپریم کورٹ نے سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے پولیس کو مجرمان کی فوری گرفتاری کا حکم دیا تھا۔ عدالت عظمیٰ نے تینوں مجرمان کے خلاف سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ آنے تک ان کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں ڈالنے کا حکم بھی دیا تھا۔بعد ازاں سپریم کورٹ کے حکم پر سندھ ہائی کورٹ کے جج جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس نذر اکبر پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے مجرمان کے خلاف کیس کی سماعت کی تھی اور 11 مارچ کو فریقین کے وکلا کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔13 مئی 2019 کو محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے عدالت عالیہ نے 2 مجرمان کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کردیا تھا جبکہ دیگر 2 مجرمان کی عمر قید کی سزا کو برقرار رکھا تھا۔عمر قید کی سزا کے خلاف شاہ رخ جتوئی سمیت تمام ملزمان نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی

اپنا تبصرہ بھیجیں