سفارتی زبان میں بیرونی مداخلت اور سازش میں فرق؟

سوال یہ ہے کہ سفارتی زبان میں بیرونی مداخلت اور سازش میں کیا فرق ہے؟ سفارتی امور کے ماہرین کے خیال میں یہ دو الگ الگ نوعیت کے کام ہیں اور ان کے معنی اور مفہوم بھی مختلف ہیں اور سفارتی لحاظ سے ان کے اثرات بھی یکساں نہیں ہوتے۔اگرچہ یہ دونوں کام ہی اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی ہیں لیکن مداخلت ایک معمول کا کام ہے جبکہ سازش ایک قابل سزا جرم کے زمرے میں آتا ہے۔’سفارتی سطح پر مداخلت ہمہ وقت ہوتی رہتی ہے – اقوام متحدہ اور امریکہ میں پاکستان کی سابق مندوب ملیحہ لودھی نے ممالک کے درمیان سفارتی کیبل کے تبادلے کے دوران “ ملیحہ لودھی نے کہا کہ ممالک کے ایک جیسے مفادات نہیں ہوتے۔ ملکوں کے درمیان تضادات اور اختلافات ہوتے ہیں جن کا تبادلہ سفارتی کیبلز کے ذریعے ہوتا ہے۔’مداخلت‘ اور ’سازش‘ میں فرق واضح کرتے ہوئے ملیحہ لودھی نے کہا کہ اگر کوئی ملک کسی دوسرے ملک کی سیاست یا معیشت جیسے اندرونی معاملات میں مداخلت کرتا ہے تو اسے زبانی رابطے کی بنیاد پر مداخلت قرار دیا جا سکتا ہے۔لودھی نے خارجہ تعلقات کے حوالے سے ایک مثال کے ساتھ اس کی مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’’بعض اوقات ممالک دوسرے ممالک میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے خلاف بھی بولتے ہیں۔ اسے مداخلت بھی کہا جاتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر کیبل میں سخت اور غیر سفارتی زبان استعمال کی گئی تو حکومت کو ہفتوں انتظار کرنے کے بجائے فوری طور پر سخت ڈیمارچ بھیجنا چاہیے تھا۔ملیحہ لودھی نے کہا کہ ماضی میں ہم نے جوہری پروگرام اور دہشت گردی کے خلاف جنگ پر امریکا کے ساتھ انتہائی سخت سفارتی کیبلز کا تبادلہ کیا لیکن اس سے سازش کا احساس نہیں ہوتا۔“لہذا، یہ صرف ایک سفارتی تبادلہ ہے اور اس میں کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے،” انہوں نے کہا۔ ‘ انڈیا میں پاکستان کے سابق ہائی کمشنر اور سینئر سفارت کار عبدالباسط کے مطابق ’سفارتی سطح پر مداخلت ہمہ وقت ہوتی رہتی ہے۔ ہر ملک کسی نہ کسی مسئلے پر کسی دوسرے ملک پر مداخلت کا الزام عائد کرتا رہتا ہے۔ افغانستان کی سابق حکومت پاکستان پر اندرونی معاملات میں مداخلت کا الزام عائد کرتی ہے۔ عموماً ہر ملک کا دفتر خارجہ آئے روز کسی دوسرے ملک کے بارے میں یہ بیان جاری کرتا ہے کہ فلاں ملک ہمارے معاملات میں مداخلت کر رہا ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’بعض اوقات مداخلت بیان بازی کی حد تک ہوتی ہے اور بعض صورتوں میں جیسا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان حالیہ واقعات کے تناظر میں ہوا۔ سفارتی سطح پر دونوں ممالک کے تعلقات، حکومتوں کے باہمی رویوں اور داخلی پالیسی کی بنیاد پر سفارت کاروں کو اپنے خدشات کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے ایسا تبصرہ بھی کیا جاتا ہے جو مداخلت کے زمرے میں آتا ہے اور عموماً اس کا سفارتی سطح پر ہی جواب دیا جاتا ہے۔ ایسا نہیں ہوتا کہ اسے سازش بنا کر عوام میں لے جایا جائے کیونکہ کسی ایک مسئلے پر اختلاف ہو سکتا ہے جبکہ سفارتی دنیا میں آپ نے مجموعی ملکی مفاد اور باہمی تعلقات کو بھی دیکھنا ہوتا ہے۔‘ عبدالباسط نے کہا کہ ’سفارتی سطح پر سازش کسی خاص مقصد کے لیے ہوتی ہے اور اس کے مقاصد بھی مذموم ہوتے ہیں۔ جو سازش کرتے ہیں وہ بلا کر ساری بات نہیں بتاتے بلکہ خاموشی سے اپنا کام کرتے ہیں اور بعد میں معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک سازش تھی اور بعض اوقات تو معلوم بھی نہیں ہوتا۔سفارت کاری کے ماہرین کے مطابق مداخلت کے کئی طریقے ہیں۔ کوئی بھی ملک جب ظاہری طور پر کسی خود مختار ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی نیت سے زبانی مداخلت، مسلح مداخلت، سیاسی، معاشی یا ثقافتی دباؤ ڈال کر مجبور کرتا ہے تو اسے غیرملکی مداخلت کہا جاتا ہے جو کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی ہے لیکن دنیا کے تمام ممالک اپنے اپنے طور پر خودمختار ملکوں کے اندرونی معاملات اور فیصلوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ ’اس حوالے سے برطانیہ میں سابق ہائی کمشنر نفیس زکریا نے بتایاکہ ’غیرملکی سازش اور مداخلت میں فرق یہ ہے کہ سفارتی دنیا میں مداخلت کو بین الاقوامی تعلقات کے تناظر میں بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی سمجھا جاتا ہے جبکہ سازش ایک قابل سزا جرم ہے۔‘ انہوں نے بتایا کہ ’80 کی دہائی میں عالمی عدالت انصاف میں نکاراگوا کی جانب سے امریکہ کے خلاف ایک کیس دائر کیا گیا تھا جس میں نکاراگوا کی حکومت نے امریکہ پر غیرملکی مداخلت کا الزام عائد کیا تھا۔ امریکہ نے اگرچہ عالمی عدالت انصاف کے اختیار سماعت کو تسلیم کیا تھا اور نکاراگوا کی حکومت کی جانب سے فراہم کیے گئے ثبوتوں کی بنیاد پر امریکہ کے خلاف فیصلہ دیا تھا۔ نفیس زکریا کے مطابق ’عالمی عدالت انصاف نے قرار دیا تھا کہ کوئی بھی ملک کسی بھی قانون کے تحت کسی دوسرے ملک کے اندرونی معاملات بالخصوص سیاسی معاملات میں مداخلت نہیں کرسکتا۔‘ تاہم نفیس زکریا کہتے ہیں کہ ’سازش مداخلت سے کہیں بڑا جرم ہے۔ مداخلت اور سازش کا آپس میں موازنہ اس لیے بھی نہیں کیا جا سکتا کہ مداخلت سفارتی اصولوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کے زمرے نہیں آتی ہے جبکہ سازش کو سفارتی دنیا میں قابل سزا جرم ہے۔‘ سفارتی امور کے ماہرین کا خیال ہے کہ ’مداخلت پر دونوں ملک ایک دوسرے سے سفارتی سطح پر بات چیت کے ذریعے یا چھوٹے موٹے احتجاجی مراسلے کے ذریعے ہی نمٹ لیتے ہیں لیکن سازش بعض اوقات سفارتی تعلقات کو محدود یا ختم کرنے کا باعث بن جاتی ہے۔‘ ماہرین کا کہنا ہے کہ جب بھی کسی ملک کی جانب سے اندرونی معاملات میں مداخلت کی جاتی ہے تو اسے ڈی مارش کیا جاتا ہے یعنی تحریری طور پر احتجاج ریکارڈ کرا دیا جاتا ہے۔ اس سے دونوں ملکوں کے سفارتی تعلقات پر بظاہر کوئی فرق نہیں پڑتا بلکہ اسے رسمی کارروائی کے طور لیا جاتا ہے۔ جبکہ سازش کرنے والے ملک کے سفیر کو واپس بھیجا جاتا ہے اور عالمی عدالت انصاف یا کسی بھی بڑے سفارتی فورم جیسے اقوام متحدہ وغیرہ وہاں پر اٹھایا جاتا ہے۔ اس کے ثبوت عالمی اداروں کے ساتھ شیئر کیے جاتے ہیں تاکہ سفارتی سطح پر غیرملکی سازش کو نہ صرف بے نقاب کیا جا سکے بلکہ دیگر ممالک کو بھی خبردار کیا جائے کہ وہ بھی متعلقہ ملک سے خبردار رہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں