سرطان کی روایتی دوا، مسکیولر ڈسٹرافی میں مفید ثابت

سائنسدانوں نے حادثاتی طور پر دریافت کیا ہے کہ کینسر میں عام دی جانے والی ایک دوا مسکیولر ڈسٹرافی میں مفید ثابت ہوتی ہے جو اب تک ایک لاعلاج جینیاتی مرض ہے۔ یونیورسٹی آف برٹش کولمبیا کے سائنسدانوں نے معلوم کیا ہے کہ سی ایس ایف ون آر انہبیٹرز گروپ کی ایک دوا سرطان میں عام کھائی جاتی ہے لیکن یہی دوا مریض کو وھیل چیئر تک محدود کردینے والی ڈوشین مسکیولر ڈسٹرافی (ڈی ایم ڈی) کے حملے کی رفتار سست کرسکتی ہے۔ ڈوشین مسکیولر ڈسٹرافی ایک جینیاتی مرض ہے جس میں اعصاب اور پٹھے تیزی سے کمزور ہوتے جاتے ہیں۔ لیکن کینسر کی دوا سے پٹھوں کے ریشے مزید بہتر ہوتے جاتے ہیں اور مرض کی شدت کم ہوجاتی ہے۔ ویسے مسکیولر ڈسٹرافی کی کئی اقسام ہیں لیکن ڈی ایم ڈی ایکس کروموسوم میں جینیاتی تبدیلی کی وجہ سے لاحق ہوتی ہے اور ایک اہم پروٹین ڈسٹروفین کی پیداوار رک جاتی ہے۔ رفتہ رفتہ مریض کے پٹھے کمزور ہوتے جاتے ہیں یہاں تک کہ وہ چلنے پھرنے سے معذور ہوجاتا ہے اور زندگی کا دورانیہ بھی کم ہوجاتا ہے۔ سی ایف ایس ون آر انہبیٹر قسم کی دوا اگرچہ کینسر خلیات کی افزائش روکتی ہے لیکن اس کا ایک اور کردارسامنے آیا کہ یہ مرکزی اعصابی نظام میں مائیکروگلیا ختم کرتی ہے لیکن معلوم ہوا کہ یہ پٹھوں کو بھی تقویت دیتی ہے۔ چوہوں پر مزید تحقیق سے اس کی تصدیق ہوگئی اور چند ماہ کی دوا سے چوہوں میں مسکیولر ڈسٹرافی کی شرح بہت حد تک سست ہوگئی۔ تاہم انسانی آزمائش کے مراحل ابھی دور ہیں۔

کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں